بین الاقوامی خبریںسرورق

پوتین نے ملاقات سے گریز کر کے جنگ طول دینے کا اشارہ دیا، زیلینسکی کی روس پر شدید تنقید

تیل کی منڈی کے استحکام میں سعودی عرب کا کردار قابلِ قدر، 2050 تک توانائی کی طلب بڑھنے کی توقع: پوتین

کیف، 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے براہِ راست ملاقات کی تجویز کو مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس ایک مرتبہ پھر جنگ کے راستے کو ترجیح دے رہا ہے اور تنازع کے سیاسی حل میں سنجیدہ دلچسپی نہیں دکھا رہا۔

زیلینسکی نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا نے روسی قیادت کا تازہ جواب سن لیا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ ماسکو فوری طور پر جنگ کے خاتمے کا خواہاں نہیں۔ ان کے مطابق روسی مؤقف سے امن کی امید رکھنے والے بہت سے حلقوں کو مایوسی ہوئی ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو روس پر مزید سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانا چاہیے۔

یہ ردعمل روسی صدر ولادیمیر پوتین کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے یوکرینی صدر کی جانب سے پیش کی گئی براہِ راست ملاقات کی تجویز کو غیر ضروری قرار دیا۔ پوتین نے کہا کہ جب تک کسی ممکنہ امن معاہدے کا واضح مسودہ تیار نہیں ہو جاتا، اس نوعیت کی ملاقات سے کوئی عملی نتیجہ برآمد ہونے کی توقع نہیں۔

سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ماہرین اور مذاکراتی ٹیموں کو پہلے قابلِ عمل حل تیار کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، اس کے بعد اعلیٰ سطح کی ملاقات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں براہِ راست ملاقات صرف یوکرین کو میدانِ جنگ میں روسی پیش قدمی روکنے کے لیے وقت فراہم کرے گی۔

پوتین نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے زیلینسکی کے کھلے خط کا جائزہ لیا ہے اور وہ اصولی طور پر ملاقات کے مخالف نہیں، تاہم کسی بھی قسم کی سیاسی ہیرا پھیری یا دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔ روسی صدر نے اس موقع پر ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین میں جاری جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک روس اپنے مقررہ مقاصد حاصل نہیں کر لیتا۔

دوسری جانب زیلینسکی نے حال ہی میں پوتین کے نام ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے تجویز دی تھی کہ دونوں ممالک کے سربراہان آمنے سامنے ملاقات کر کے جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کریں۔ یوکرینی صدر نے مذاکراتی عمل کے دوران مکمل جنگ بندی پر آمادگی بھی ظاہر کی تھی۔

اپنے خط میں زیلینسکی نے دونوں ممالک کے درمیان موجود تمام جنگی قیدیوں کے مکمل تبادلے کی تجویز بھی پیش کی اور اسے اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ براہِ راست رابطے اور سیاسی گفتگو ہی ایسے پیچیدہ تنازع کے مستقل حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان اختلافات بدستور گہرے ہیں اور دونوں قیادتوں کے مؤقف میں نمایاں فاصلہ موجود ہے۔ ایک طرف کیف فوری جنگ بندی اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات پر زور دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ماسکو پہلے اپنے تزویراتی اہداف اور مذاکراتی خاکے کی تکمیل کو ضروری قرار دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں امن کی کوششوں کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔


تیل کی منڈی کے استحکام میں سعودی عرب کا کردار قابلِ قدر، 2050 تک توانائی کی طلب بڑھنے کی توقع: پوتین

ماسکو 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے عالمی تیل منڈی کے استحکام کے لیے سعودی عرب کے ساتھ جاری تعاون کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ "اوپیک پلس” کے فریم ورک میں دونوں ممالک کی شراکت داری عالمی توانائی کی مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی رسد میں اچانک کمی یا غیر متوقع رکاوٹیں عالمی منڈی میں بے یقینی اور شدید اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہیں، جس کے تدارک کے لیے بڑے پیداواری ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔

سینٹ پیٹرزبرگ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پوتین نے کہا کہ روس توانائی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے یا جغرافیائی کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی پالیسی پر عمل نہیں کرتا۔ ماسکو ایسی متوازن قیمتوں کا حامی ہے جو ایک طرف پیداواری ممالک کے مفادات کا تحفظ کریں اور دوسری جانب عالمی معیشت اور صارفین کے لیے بھی قابلِ قبول ہوں۔

روسی صدر نے قدرتی گیس کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مائع قدرتی گیس کی پیداوار میں روسی تجربات اور ٹیکنالوجی عالمی سطح پر مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی عالمی منڈی کا استحکام موجودہ دور کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ دینا ضروری ہے۔

دوسری جانب اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیص نے عالمی توانائی کی طلب کے حوالے سے تنظیم کے مثبت نقطۂ نظر کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی سیاسی کشیدگی اور علاقائی تنازعات کے باوجود توانائی کی طلب میں اضافے کا رجحان برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوپیک کی پیش گوئیاں زمینی حقائق، معاشی اعداد و شمار اور طویل مدتی رجحانات پر مبنی ہیں، نہ کہ عارضی خدشات یا منفی اندازوں پر۔

ہیثم الغیص کے مطابق رواں برس عالمی سطح پر تیل کی طلب میں یومیہ تقریباً 12 لاکھ بیرل اضافے کی توقع ہے، جبکہ سال 2027 تک مجموعی طلب میں مزید 50 لاکھ بیرل یومیہ اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، شہروں کی توسیع، نئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور صنعتی سرگرمیوں میں وسعت توانائی کی کھپت کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔

اوپیک کے اندازوں کے مطابق آئندہ دہائیوں میں لاکھوں افراد شہری علاقوں کا رخ کریں گے، جس کے نتیجے میں نئے ہوائی اڈوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں، رہائشی منصوبوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی ضرورت بڑھے گی۔ یہ تمام سرگرمیاں توانائی کے مختلف ذرائع کی طلب میں اضافے کا باعث بنیں گی۔

ہیثم الغیص نے کہا کہ اوپیک کی طویل مدتی رپورٹ کے مطابق سال 2050 تک عالمی توانائی کی طلب میں مسلسل اضافہ جاری رہے گا اور تیل کی مجموعی عالمی طلب یومیہ تقریباً 123 ملین بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے بقول فی الحال ایسے کوئی واضح اشارے موجود نہیں جو یہ ظاہر کریں کہ تیل کی عالمی طلب اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کے محفوظ مستقبل کے لیے تیل، قدرتی گیس اور قابلِ تجدید ذرائع سمیت تمام شعبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابلِ تجدید توانائی کا حصہ آنے والے برسوں میں نمایاں طور پر بڑھے گا، تاہم تیل اور گیس عالمی توانائی کے نظام میں بدستور مرکزی حیثیت برقرار رکھیں گے۔

ماہرین کے مطابق روس اور سعودی عرب کے درمیان توانائی کے شعبے میں قریبی تعاون نہ صرف اوپیک پلس اتحاد کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں استحکام اور قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں توانائی کی سلامتی اور مسلسل سرمایہ کاری مستقبل کی معاشی ترقی کے لیے فیصلہ کن عوامل سمجھے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button