بین الاقوامی خبریں

میانمار : فوج کی حکومت مخالف اجتماع پر بمباری، درجنوں ہلاک

میانمار کی فوج کے فضائی حملوں میں 100 کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں

ینگون،12؍اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک عینی شاہد، مقامی جمہوریت نواز گروپ اور غیر جانبدارمیڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ میانمار کی فوج کے فضائی حملوں میں 100 کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں بہت سے بچے بھی شامل تھے۔ یہ لوگ فوجی حکومت کے مخالفین کے ایک دفتر کے افتتاح کی تقریب میں شریک تھے۔فوج فروری 2021 میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنی حکومت کیخلاف وسیع پیمانے پر مسلح جدوجہد کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی حملوں کا استعمال کر رہی ہے۔ایک عینی شاہد نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایک لڑاکا طیارے نے براہ راست لوگوں کے ہجوم پر اس وقت بم گرایا جب وہ صبح 8 بجے ساگانگ علاقے کے کنبالو ٹاؤن شپ میں پازیگی گاؤں کے باہر ملک کی اپوزیشن تحریک کے مقامی دفتر کے افتتاح کے لیے جمع تھے۔

ایک عینی شاہد نے کے مطابق، جس نے حکام کی طرف سے سزا کے خدشے کی وجہ سے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بتایا کہ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایک ہیلی کاپٹر نمودار ہوا اور اس مقام پر فائرنگ کی۔ابتدائی رپورٹوں میں مرنے والوں کی تعداد 50 کے لگ بھگ بتائی گئی تھی، لیکن بعد میں غیر جانبدار میڈیا کی اطلاعات کے مطابق یہ تعداد تقریباً 100 تک پہنچ سکتی ہے۔نیو یار ک ٹائمز نے ٹیوٹر پر ایک پوسٹ میں کہاہے کہ امدادی کارکنوں کے مطابق، باغیوں کے قبضے والے علاقے میں میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے فضائی حملے میں کم از کم سو افراد کو ہلاک کیا ہے جن میں تیس بچے ہیں۔پوسٹ کے مطابق یہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سب سے ہلاکت خیز حملہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button