سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم کا اعتراف: ایران میں نیتن یاہو کا خفیہ اسٹارلنک منصوبہ بری طرح ناکام
ینیٹ کے مطابق ایران میں حکومت مخالف تحریک کو منظم کرنے کے لیے تیار کی گئی حکمتِ عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی
مقبوضہ بیت المقدس، 24 جون: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے ایک بیان میں ایران سے متعلق ایک حساس منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام تک متبادل انٹرنیٹ رسائی پہنچانے کی کوششیں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔ ان کے بیان نے خطے کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
نفتالی بینیٹ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ پابندیوں اور مواصلاتی رکاوٹوں کے دوران اسٹارلنک سے منسلک بڑی تعداد میں انٹرنیٹ ڈیوائسز استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے ذریعے ایران کے اندر رابطوں کا ایک متبادل نظام قائم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ منصوبہ توقعات کے مطابق کامیاب ثابت نہیں ہوا۔
سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا کہ اس حکمتِ عملی کا مقصد ایران میں انٹرنیٹ بندش کے اثرات کو کم کرنا تھا، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس سے وہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے جن کی امید کی جا رہی تھی۔
بینیٹ کے بیان کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایران ماضی میں متعدد بار اسرائیل پر اپنے داخلی معاملات میں مداخلت اور حکومت مخالف سرگرمیوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ حالیہ بیان کے بعد ان الزامات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ سکتی ہیں، تاہم ایک سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے ایسے منصوبے کا ذکر علاقائی سیاست اور ایران-اسرائیل تعلقات کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔



