قومی خبریں

NEET پیپر لیک معاملہ: امتحان سے پہلے ہی سوالات وائرل، راجستھان ایس او جی کے انکشافات نے ہلچل مچا دی

این ای ای ٹی امتحان سے پہلے سوالات کے وائرل ہونے کے انکشاف نے تعلیمی نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔”

نئی دہلی 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)نیٹ NEET امتحان کے پیپر لیک معاملہ نے اب سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کی جانچ میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ امتحان سے پہلے ہی بڑی تعداد میں سوالات مختلف طلبہ تک پہنچا دیے گئے تھے۔

ایس او جی کے مطابق بعض طلبہ کو امتحان کے تقریباً 600 نمبر کے سوالات پہلے ہی دستیاب تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سوالات مبینہ طور پر واٹس ایپ اور دیگر پیغام رسانی ذرائع کے ذریعے پھیلائے گئے۔ جانچ کے دوران کئی ایسی دستاویزات بھی ملی ہیں جن پر ’’فارورڈ مینی ٹائم‘‘ جیسی عبارت درج تھی، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مواد بڑی تعداد میں آگے بھیجا گیا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ سوالات ایک فوٹو کاپی دکان کے ذریعے طلبہ تک پہنچائے گئے۔ پولیس کے مطابق طلبہ کو فراہم کیے گئے دستاویزات میں فزکس، کیمسٹری اور حیاتیات کے 300 سے زائد سوالات شامل تھے۔ یہ سوالات ہاتھ سے تحریر شدہ بتائے جا رہے ہیں۔

جانچ ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے تقریباً 150 سوالات اصل امتحان میں شامل تھے۔ چونکہ ہر سوال کے لیے چار نمبر مقرر تھے، اس لیے مجموعی طور پر تقریباً 600 نمبر کے سوالات مماثل پائے گئے۔ اس انکشاف کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ مبینہ ’’کوشچن بینک‘‘ سب سے پہلے چورو کے ایک نوجوان کی جانب سے بھیجا گیا تھا، جو اس وقت کیرالہ کے ایک طبی کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں سے یہ مواد سیکر کے ایک پی جی آپریٹر تک پہنچا، جس کے بعد مختلف طلبہ میں اسے تقسیم کیا گیا اور پھر یہ تیزی سے وائرل ہو گیا۔

ایس او جی اب پورے معاملہ کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام مشتبہ افراد کے سوشل میڈیا رابطوں، کال ریکارڈ اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کی جانچ میں مصروف ہیں تاکہ اس پورے نیٹ ورک کے اصل سرغنہ تک پہنچا جا سکے۔ ذرائع کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملہ میں مزید اہم انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button