ریاض ، 21مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)غیرویکسین شدہ افراد کومسجد الحرام میں عمرہ اورنماز ادا کرنے کی اجازت مل گئی۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے بیان کے مطابق غیر ویکسین شدہ افراد مسجد الحرام میں عمرہ اور نماز ادا کرسکیں گے۔وہ غیر ویکسین شدہ افراد عمرہ اور مسجد الحرام میں نماز ادا کرسکیں گے جو کورونا میں مبتلا نہیں ہوئے۔
وزارت حج و عمرہ نے مزید کہا کہ ملک میں کورونا وبا کی صورتحال قابو میں ہے جس کے باعث اب ویکسین نہ لگوانے والے افراد کو عمرہ کرنے اور مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
روس کا یوکرین پر ہائپرسونک میزائل حملہ،100 یوکرینی فوجی ہلاک
ماسکو، 21مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی فوج کے یوکرین پر ہائپرسونک میزائل حملے میں 100یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے۔ روس کی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین میں ہائپرسونک میزائل حملے میں ایندھن اسٹورکرنے والی سائٹ کوتباہ کردیا گیا۔ روسی وزارت دفاع کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین کے جنوبی علاقے میں ہاپرسونک میزائل حملے میں ٹریننگ سینٹرکونشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں یوکرین کی اسپشل فورس کے100اہلکارہلاک ہوگئے۔
روسی حکام کے مطابق یوکرین پرحملے میں طویل فاصلے تک مارکرنے والے دیگرہتھیاربھی استعمال کئے جارہے ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کے جنوبی علاقے میں روسی فوج کے حملوں کے بعد کیمیکل پلانٹ سے ایمونیا گیس کا اخراج شروع ہوگیا۔حکام نے قریبی آبادی کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
بلجیم میں گاڑی ہجوم میں گھس گئی،6افراد ہلاک
برسلز، 21مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بلجیم میں بے قابو گاڑی ہجوم میں گھس گئی جس کے نتیجے میں 6افراد ہلاک ہوگئے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق بلجیم کے جنوبی علاقے میں تیزرفتارگاڑی ہجوم میں گھسنے سے 6افراد ہلاک اورچالیس زخمی ہوگئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک اورزخمی افراد مقامی فیسٹول میں منعقد پریڈ میں شامل تھے۔
زخمیوں میں سے متعدد افراد کی حالت نازک ہے۔ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔حکام نے ابتدائی تفتیش کے بعد دہشت گردی کے امکان کومسترد کرتے ہوئے اسے حادثہ قراردیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کے ڈرائیوراورگاڑی میں سواردیگرافراد کوگرفتارکرلیا گیا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدہ 48 گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے
واشنگٹن، 21مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایرانی جوہری معاہدے کو رواں ہفتے کے اوائل میں حتمی شکل دی جا سکتی ہے کیونکہ تیل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مغرب کو روس کے علاوہ دیگر ممالک کی جانب رجوع پر مجبور کردیا ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اخبار انڈیپنڈنٹ نے ہفتے کے روز عالمی معاہدے کے مذاکرات میں شریک ایک سینئر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدہ 48 گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے۔دیگر رپورٹس میں کوئی مخصوص تاریخ نہیں بتائی گئی، لیکن دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی جلد از جلد معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔
دی انڈیپنڈنٹ نے مزید کہا کہ پہلی بار 2005 میں طے پانے والے معاہدے کی بحالی سے ایران پر پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہو جائے گی جس سے وہ مغربی ممالک کو تیل کی برآمدات میں اضافہ کر سکے گا کیونکہ اس وقت اکثر ممالک توانائی کی فراہمی کے حوالے سے روس پر انحصار کو روکنا چاہتے ہیں۔
ویانا میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سہولت کار کے طور پر کام کرنے والے آئرش وزیر خارجہ سائمن کووینی نے ایک اور برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ معاہدے کے لیے مثبت اشارے ملے ہیں۔
سائمن کووینی نے بی بی سی ریڈیو 4 کو بتایا کہ ہم ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، درحقیقت کچھ لوگ کہیں گے کہ اس ہفتے کے آخر میں یا اس کے فوراً بعد ڈیل کے امکانات موجود ہیں۔ ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این بی سی نے نوٹ کیا کہ امریکا روسی تیل کی درآمدات ختم اور یورپی یونین ماسکو پر توانائی کے انحصار کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے لہٰذا ایرانی خام تیل مزید بہترآپشن نظر آرہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2015 کے معاہدے کی بحالی کے نتیجے میں ایرانی تیل کی مارکیٹ میں واپسی ایک ایسے وقت میں ہوگی جب خام تیل کی قیمت ایک دہائی سے زائد عرصے میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔اپنے حالیہ بیانات میں ایرانی حکام نے عندیا دیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے امریکا پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے اپنے اقدام کو واپس لے۔
یوکرین بحران: لاکھوں یوکرینی بچوں کو شدید خطرات کا سامنا
نیویارک، 21مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بچوں کی فلاح و بہود کی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرین کا کہنا ہے کہ لاکھوں یوکرینی بچے شدید خطرات سے دو چار ہیں اور جو بچے وہاں اب بھی پھنسے ہیں انہیں فوری طور پر بچانے کی ضرورت ہے۔
بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ہسپتالوں اور اسکولوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے سبب 60 لاکھ سے بھی زیادہ بچے اس وقت شدید خطرے میں ہیں، جنہیں فوری طور پر تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ادارے کے یوکرین ڈائریکٹر پیٹ واش نے کہا کہ یوکرین میں چھ ملین تک بچے شدید خطرے میں ہیں کیونکہ یوکرین میں جنگ اب ایک ماہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے مسلسل گولہ باری کے نتیجے میں 464 اسکولوں اور 42 اسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 24 فروری کو روسی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 59 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔
واش کا کہنا تھا کہ خوف، چوٹ یا موت کی جگہ کے بجائے اسکول بچوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہونے چاہیں۔یوکرین میں مسلسل بمباری کے سبب 15 لاکھ سے زیادہ بچوں کو اب تک ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ تاہم، سیو دی چلڈرین بتاتا ہے کہ تقریباً 60 لاکھ بچے اب بھی ملک میں پھنسے ہوئے ہیں۔پیٹ واش نے کہاکہ جنگ کے اصول بہت واضح ہیں: بچے ہدف نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی ہسپتال یا اسکولوں کو نشانہ بنانا چاہیے۔ ہمیں یوکرین میں بچوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی چاہیے۔
قطر روسی گیس پر انحصار کو کم کرنے میں مدد کرے گا:جرمنی
برلن، 21مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی نے یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں ملک کی توانائی کے تحفظ کے حوالے سے دوحہ میں قطری رہنماوں سے بات چیت کی ہے۔ اور دونوں ملکوں نے طویل مدتی گیس سپلائی کی شراکت داری پر اتفاق کر لیا ہے۔
جرمن وزیر اقتصادیات رابرٹ ہابیک یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں ملک کی توانائی کے تحفظ پر بات چیت کے لیے دوحہ میں تھے۔ انہوں نے اتوار کے روز بتایا کہ یوکرین پر حملے کے تناظر میں روسی گیس پر انحصار کم کرنے میں مدد کے لیے جرمنی اور قطر نے توانائی کی ایک طویل مدتی شراکت داری پر اتفاق کر لیا ہے۔ جرمن وزیر ہابیک دو خلیجی ممالک، قطر اور متحدہ عرب امارات، کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے اتوار کو دوحہ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد انہوں نے کہا، ”اس دن نے بہت مضبوط اور ایک ڈائنامک ترقی کی ہے۔’جرمن وزیر اقتصادیات نے مزید کہا کہ قطر کے امیر نے جرمنی کی توقع سے زیادہ حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”گرچہ ہمیں رواں برس روسی گیس کی ضرورت ہو سکتی ہے، تاہم مستقبل میں ایسا نہیں ہو گا۔ اور یہ توصرف آغاز ہے۔
قطر دنیا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے تین بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔جرمن وزیر کے دورے سے جرمنی کے لیے بڑے پیمانے پر ایل این جی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم اس موقع پر وزیر نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں اور توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے والے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
برلن میں جرمن وزارت اقتصادیات کے ترجمان نے بھی بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ اس سلسلے میں ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ وہ کمپنیاں جو ہابیک کے ساتھ قطر پہنچی ہیں، اب معاہدے کے سلسلے میں قطری فریق کے ساتھ بات چیت کریں گی۔برلن اپنے ملک میں سمندری جہازوں کی مدد سے ایل این جی لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
لیکن چونکہ اب تک اس کا انحصار گیس پائپ لائن پر رہا ہے اس لیے اس طرح گیس وصول کرنے کے لیے اس کے پاس ٹرمینل نہیں ہیں۔البتہ جرمنی نے دو نئے ایل این جی ٹرمینلز بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، لیکن سن 2026 سے پہلے ان کے تیار ہونے کا امکان نہیں ہے۔
یورپ میں جوہری خطرات کی واپسی
لندن، 21مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جوہری ہتھیار سرد جنگ کا ایک نشان قرار دیے جاتے ہیں۔ حالیہ روسی دھمکی سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ایک مرتبہ پھر اْبھر کر سامنے آیا ہے۔ اس صورتِ حال میں یورپ کے پاس جوابی کارروائی کا سامان کیا ہے؟یوکرینی جنگ سے قبل روسی صد ولادیمیر پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کو الرٹ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
اس اعلان سے سارا یورپ ششدر رہ گیا تھا۔ اوائل مارچ میں پوٹن نے جوہری ہتھیاروں کی حامل آ بدوزیں اور موبائل میزائل دستوں کو بھی فوجی مشقوں کا حصہ بنا دیا تھا۔ کیا یہ کسی جوہری حملے کی دھمکی تھی؟ روس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ ان کی تعداد چھ ہزار تین سو بتائی جاتی ہے۔
مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں امریکہ سب سے زیادہ جوہری ہتھیار رکھتا ہے اور ان کی تعداد پانچ ہزار آ ٹھ سو ہے۔ فرانس کے پاس جوہری ہتھیاروں کا حجم تین سو ہے جبکہ برطانیہ دو سو پندرہ ایسے ہتھیار رکھتا ہے۔ ان ہتھیاروں کی حتمی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ ان ہتھیاروں کی حامل اقوام اس بابت معلومات خفیہ رکھتی ہیں۔
بظاہر یورپ کو امریکہ کی جانب سے جوہری چھتری میسر ہے لیکن اس کے باوجود یورپ کسی جوہری حملے کو روکنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسا بھی گمان ہے کہ امریکی چھتری اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ اس کی وجہ سے کوئی بھی ملک مغربی دفاعی اتحاد کے رکن ملک پر جوہری حملے کی جرات نہیں کر سکتا اور ایسی صورت میں جارح کو بھی جوابی حملے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نیٹو کی جوہری قوت جوابی دھمکی یا ڈیٹرینس دینے کے مفروضے پر قائم ہے۔ فرانس اور برطانیہ کم از کم ڈیٹرینس پر انحصار کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس جوہری حملے کا جواب دینے کی صلاحیت تو کم از کم موجود ہے اور بقیہ یورپی ممالک کا انحصار امریکہ پر ہے۔
دوسری جانب امریکہ کا ڈیٹرینس جوہری ہتھیاروں پر ہی منحصر ہے اور ان ہتھیاروں کی قوت بھی کم کی جا چکی ہے۔ امریکی عسکری ماہرین محدود جوہری جنگ کے ممکن ہونے کا مفروضہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔قانونی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کسی شہری علاقے پر بھاری اثرات کے حامل جوہری ہتھیاروں کا استعمال انٹرنیشنل ہیومینٹیرین قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اگر یورپی جوہری ڈیٹرینس میں جرمن حصے کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف جرمن ایئر فورس کے زیرِ استعمال ٹورنیڈو جنگی جہاز ہیں۔ یہ جنگی جہاز جرمن ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں قائم بیوشل ایئر بیس پر کھڑے ہیں۔ کسی ہنگامی صورت حال میں یہ جنگی ہوائی جہاز امریکی جوہری ہتھیاروں کو لے کر ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔
یوکرین کو S-400 نظام کی منتقلی پر امریکی اور ترک حکام میں تبادلہ خیال
نیویارک، 21مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تین باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے غیر سرکاری طور پر ترکی کے ساتھ روسی ساختہ S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم یوکرین کو بھیجنے کے امکان پر بات چیت کی ہے تاکہ حملے آور روسی افواج سے لڑنے میں اس کی مدد کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے گذشتہ ماہ اپنے ترک ہم منصبوں کو یہ تجویز پیش کی لیکن کوئی خاص یا سرکاری درخواست پیش نہیں کی گئی۔ذرائع نے مزید کہا کہ اس تجویز پر اس ماہ کے شروع میں امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین کے دورہ ترکی کے دوران مختصراً تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے S-300 اور S-400 سمیت روسی ساختہ آلات اور نظام استعمال کرنے والے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ انہیں یوکرین منتقل کرنے پر غور کریں کیونکہ وہ 24 فروری سے شروع ہونے والے روسی حملے کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ترکی تقریباً یقینی طور پر اس تجویز کو مسترد کر دے گا۔
شرمین اور ترک حکام کے درمیان کھل کر بات ہوئی جس میں انہوں نے غور کیا کہ کس طرح امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین کی حمایت کے لیے مزید کچھ کر سکتے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔دوسری طرف ترک حکام نے انقرہ کی ملکیت والے S-400 نظام کی یوکرین کو منتقلی کے حوالے سے کسی بھی امریکی تجویز پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔ روس سے خریدے گئے اس سسٹم کی وجہ سے نیٹو کے دو اتحادیوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازعہ چلا آ رہا ہے۔
چین میں مسافر طیارہ گر کر تباہ، 133 افراد سوار تھے
بیجنگ، 21مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کے شمالی علاقے میں ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہونے سے اس پر سوار 133 مسافر ہلاک ہو گئے۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حادثہ گوانگ شی کے علاقے میں پیش آیا۔ طیارہ گرنے کے بعد اس پہاڑی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔
رپورٹ کے مطابق China Eastern Airlines Boeing 737-800 بوئنگ 737 طیارہ 133 مسافروں کو لے کر کنمنگ سے گوانگ شی جا رہا تھا۔چین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق امدادی ٹیمیں جائے وقوع کی جانب روانہ ہو گئی ہیں تاہم فوری طور پر حادثے میں ہلاکتوں سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔