نکسیر ناک سے خون آنا خطرناک کب؟
نکسیر کیوں پھوٹتی ہے اور اس کا علاج کیا ہے؟
ناک سے خون بہنے کو عام طور پر ’نکسیر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ بچوں اور بڑوں دونوں میں دیکھا جاتا ہے۔ عموماً خون ایک نتھنے سے آتا ہے تاہم بعض اوقات دونوں نتھنوں سے بھی خون بہنے لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اکثر صورتوں میں نکسیر خطرناک نہیں ہوتی لیکن بار بار خون آنا کسی سنگین بیماری کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نکسیر کی سب سے عام وجہ ناک کا خشک ہونا اور ناک میں انگلی ڈالنا ہے۔ گرمی کے موسم، پانی کی کمی، تیز دھوپ اور زیادہ خشک فضا میں ناک کی اندرونی نالیاں متاثر ہوکر پھٹ سکتی ہیں جس کے باعث خون بہنے لگتا ہے۔
الرجی، نزلہ زکام، انفیکشن، ناک پر چوٹ، ہائی بلڈ پریشر اور بعض ادویات کا استعمال بھی نکسیر کا سبب بن سکتا ہے۔ معمر افراد میں بلڈ پریشر بڑھنے کے باعث ناک سے خون آنے کی شکایت زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ بعض اوقات خون پتلا کرنے والی دوائیں بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناک سے بار بار خون آئے تو اسے معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ بعض نایاب صورتوں میں یہ خون کی بیماریوں یا لیوکیمیا جیسی خطرناک بیماری کی ابتدائی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
نکسیر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دی جائے۔ کمرے کی فضا میں نمی برقرار رکھی جائے اور بچوں کے ناخن باقاعدگی سے تراشے جائیں تاکہ وہ ناک کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ تمباکو نوشی سے اجتناب بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ اس سے ناک کی اندرونی جھلی متاثر ہوتی ہے۔
اگر نکسیر پھوٹ جائے تو فوری طور پر بیٹھ جائیں اور جسم کو تھوڑا آگے کی جانب جھکا لیں۔ ناک کے نرم حصے کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے کم از کم دس منٹ تک دبائے رکھیں۔ اس دوران منہ سے سانس لیں۔ اکثر صورتوں میں خون بہنا رک جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بیس منٹ تک خون بند نہ ہو، سانس لینے میں دشواری محسوس ہو، خون بہت زیادہ بہہ رہا ہو یا دو سال سے کم عمر بچے کو نکسیر آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر ہر ہفتے ناک سے خون آنے لگے تو مکمل طبی معائنہ کروانا بہتر رہتا ہے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور مناسب علاج کے ذریعے نکسیر جیسے مسئلے پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے جبکہ غفلت بعض اوقات سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
بڑھاپے کو دور بھگائیں
پھلیوں میں ایک خاص جزو ریسورٹرول پایا جاتاہے جو ڈی این اے کی ٹوٹ پھوٹ کو روکتاہے اور یوں عمر رسیدگی کو دور کرتا ہے گہرے رنگ کے لوبیے میں یہ جزو خاصی مقدار میں موجود ہوتاہے۔لہٰذا لوبیا استعمال کریں اور بڑھاپے کو دور بھگائیں۔ |



