بین ریاستی خبریں

کولاچھاپر :مدرسہ قاسم العلوم میں جلسہ دستار بندی کا انعقاد

حضرت مولانا محمد سعید قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے بزرگوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ مدارس اسلامیہ کی شکل میں ہے اور یہی مدارس ملت اسلامیہ کے تحفظ و بقا کی ضمانت ہیں۔

ظہیراللہ صدیقی کولاچھاپردیوریا (پریس نوٹ)

گزشتہ شب اتر پردیش کے ضلع دیوریا کے کولاچھاپر گاؤں میں واقع معروف ادارہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ قاسم العلوم میں جلسہ دستاد بندی کا انعقاد روحانی ماحول میں کیا گیا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے صدرالمدارسین و سیخ الحدیث مدرسہ جامع العلوم پٹکا پور کانپور حضرت مولانا محمد سعید صاحب قاسمی نے شرکت کی۔ تاہم جلسہ دستار بندی کی صدارت امام سنگی مسجد و مفتی دارالافتاء والارشاد گورکھپور حضرت مفتی منیر احمد صاحب نے کئے۔ اور نظامت کے فرائض مولانا رحمت اللہ قاسمی نے بخوبی انجام دیے۔جلسہ کا آغاز قاری نورالکلام صاحب مدرس شعبہ قرآت مدرسہ ہذا کے تلاوت سے ہوا۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد مشہور شاعر قاری سہیل صاحب سابق استاد مدرسہ ہذا نے اپنے مسحور کن آواز میں نعت رسول سے لوگوں کا دل جیت لیا۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ قاسم العلوم ضلع دیوریا کا مشہور و معروف مدرسہ ہے جس میں ہر سال حفاظ کرام فارغ ہوتے ہیں۔ اس سال 42 بچوں نے قرآن شریف کا حفظ مکمل کیا ہے جن کی حضرت مولانا محمد ا سعید قاسمی، حضرت مولانا افتخار احمد صاحب، حضرت مولانا محبوب عالم صاحب کے ہاتھوں دستار بندی عمل میں آئی جنہیں انتظامیہ کی طرف سے نقد انعام، تحائف بھی پیش کیے گئے جس سے بچوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

اس پر مسرت موقع پر حضرت مولانا محمد سعید قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے بزرگوں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ مدارس اسلامیہ کی شکل میں ہے اور یہی مدارس ملت اسلامیہ کے تحفظ و بقا کی ضمانت ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بارگاہ الٰہی میں نفسی نفسی ہوگی اور ماں باپ، بھائی بہن بھی ایک دوسرے کے کام نہیں آئیں گے اور اس نفسی نفسی کی صورت میں حافظ قرآن ہی بخشش کا ذریعہ بنیں گے۔ حضرت مولانا افتخار احمد صاحب مدرس مدرسہ فرقانیہ گونڈہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام امن آور محبت کا دیتا ہے۔ زندگی میں تعلیم کا ضروری ہیں تعلیم کے بغیر کوئی بھی انسان ادھورا ہے۔ ہمارا معاشرہ تبھی کامیاب ہوگا جب ہمارے بچے قرآن کو اپنے سینے سے لگا کر قرآن شریف میں بتائیں احکامات پر عمل کریں گے۔

قیامت کے دن حافظ کے سر ایسا تاج رکھا جائے گا جس کے سامنے چاند آور سورج کی روشنی بھی فی کی نظر آئے گی۔حضرت مولانا محبوب عالم صاحب استاد حدیث مدرسہ بیت العلوم سرائےمیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہیز ہمارے معاشرے میں ایک بدنما داغ ہے۔اس بدنما داغ کو دور کرنے کے لیے معاشرے کے پڑھے لکھے لوگوں کو آگے آنا ہوگا،خاص کر نوجوان طبقہ تبھی ختم ہوگا۔ حضرت نے نوجوانوں کو والدین کی خدمت کرنے، آپس میں محبت بھائی چارہ اور نفرت پر محبت کی فضا کے قیام پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ جن کے والدین باحیات ہیں ان کی خوب خدمت کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔ آخر میں مدرسہ عربیہ اسلامیہ قاسم العلوم کے مہتمم جناب قاری عبد الوحید صاحب نے جلسہ میں آئے ہوئے سبھی کا شکریہ ادا کئے اس پر مسرت موقع پر علاقے کے ہزاروں لوگ شامل تھے۔

ان طلبہ کا ہوا دستار بندی

افتخار ابن نشار احمد، محمود عالم ابن محمد طاہر ، سمیر خان ابن عابد، عبداللہ ابن ارشد خان، مزمل ابن ممتاز، ایوب ابن اقبال، عرفان ابن زاہد، توفیق ابن مصباح الدین ، علاءالدین ابن اسلام، توفیق ابن سراج الدین ، سہیل ابن نور حسن، شمس الہدی ابن منظور احمد، غفران ابن محفوظ الرحمن ، رضوان ابن حسن دار، ابوالعاص ابن ممتاز احمد، الفاظ ابن آطیع اللہ ، آفتاب عالم ابن محمد عالم، توفیق احمد ابن شہاب الدین، محمد افضل ابن نشار احمد، عبدالقادر ابن عبدالرحمن،کامران ابن فخر عالم، عبدالماجد ابن شاہد خان، آزاد ابن ظہیر، یاسر ابن آفتاب عالم، عامر ابن آفتاب عالم، ناصر ابن اشفاق، توحید ابن علاءالدین،محمد اسلم ابن سجاد علی، عبدالرحمن ابن فیض الرحمن، افروز عالم ابن ابراہیم ، محمداکبر ابن آطیع اللہ، ریان ابن علی شیر، ریحان ابن کوثر، عابد علی ابن دوست محمد، محمد صادق ابن محمد عالم، محمد عادل ابن محمد صدیق، شمشیر عالم ابن محمد ذاکر، محمد ایوب ابن محرم عالم، شفیع الدین ابن حافظ امیرالدین، کماالدین ابن متین، سلطان ابن حیدر وارث، فیض الرحمن ان حفاظ کرام کو دستار کے فضیلت باندھی گئی

متعلقہ خبریں

Back to top button