بین ریاستی خبریں

لوگ بہو ، بیٹی اور زمین کے تحفظ کے لئے اسلحہ لائسنس طلب کرنے لگے

غازی آباد ، 29ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی سے متصل غازی آباد میں لوگ اپنی بہو ، بیٹی اور زمین کی حفاظت کو لے کر پریشان ہیں۔ زیادہ تر لوگ ضلع ہیڈ کوارٹر میں اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے لیے اسی طرح کی دلیل دے رہے ہیں۔ انہیں اپنی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اپنے پیاروں کے تحفظ کے لیے ہتھیاروں کی ضرورت ہے، جس کے لئے وہ لائسنس کی مانگ کر رہے ہیں۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group.

غازی آباد میں لائسنسی اسلحہ رکھنا اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے۔ وہیں ضلع میں 14 ہزار سے زائد افراد کے پاس لائسنسی اسلحہ ہے اور لائسنسی اسلحہ کے لئے ضلع ہیڈ کوارٹر میں چار ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے لائسنس کے درخواست گزاروں کے لیے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا۔ان کے مطابق درخواست گزار کو یہ واضح کرنا ہوگاکہ اسے لائسنس کی کیوں ضرورت ہے۔

اس کے لیے پولیس اور ایل آئی یو سے فائل پر ایک سفارش بھی کروانی ہوگی۔ اس کے بعد بھی ضلع مجسٹریٹ فیصلہ کرے گا کہ درخواست گزار کو لائسنس دینا ہے یا نہیں۔ نئے آرڈر کے بعد ہر روز 20 سے زائد درخواست گزارکی درخواستیں ضلع مجسٹریٹ کے پاس آرہی ہیں۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے لیے لوگ کئی دلائل دے رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر درخواست گزار اپنی حفاظت کے لیے نہیں ،بلکہ اپنے عزیزوں کے تحفظ کے لیے ہتھیار رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس میں بہو ، بیٹی اور زمین کے تحفظ اہم نکات ہیں۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس پہنچے ایک شخص سے جب پوچھا گیا کہ اسے اسلحہ کی کیوں ضرورت ہے تو اس نے ایک عجیب دلیل دی۔ اس نے بتایا کہ جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ گھر سے باہر آتاجاتا ہے تو اس کے ارد گرد کچھ اوباش قسم کے لوگ بیوی کو گھورر رہے ہوتے ہیں۔ اس کی بیوی گھر سے اکیلی نہیں نکل سکتی۔

وہیں ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ اس کے پڑوسیوں کے ساتھ اس کا زمینی تنازعہ ہے۔ جن کے ساتھ جھگڑا چل رہا ہے ان کے پاس کئی لائسنسی بندوق ہیں ، اس لیے اسے بھی لائسنسی بندوق کی ضرورت ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس کے لیے پولیس سے شکایت کی ہے، تو انہوں نے انکار کر دیا۔نیز ایک تیسرے شخص نے دلیل دی کہ جب اس کی بیٹی اسکول جاتی ہے، تولفنگے اور اوباش قسم کے لڑکے اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اس لئے بیٹی کی حفاظت کے لیے اسے لائسنسی بندوق چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button