جکارتہ ، 6جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) قوت سماعت سے محروم طلبہ کی مدد کے لیے انڈونیشیا کے عالم عبدالکہفی نے ایک اسلامی بورڈنگ اسکول کا آغاز کیا ہے تاکہ وہ اشاروں کی زبان میں قرآن کی تعلیم حاصل کر سکیں۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 2019 میں کھولے گئے اس سکول میں 12 اساتذہ اور 115 طلبہ ہیں جن کی عمریں سات سے 28 برس ہیں۔عبدالکہفی کا کہنا ہے کہ یہ اسکول آنے والی نسلوں کے لیے اسلام کو سمجھنا آ سان بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ آج کل قوت سماعت سے محروم طلبہ مذہب کو گہرائی سے نہیں جانتے کیونکہ اسکول کی عمر سے انہیں اس کا علم نہیں ہوتا۔
انڈونیشیا کے اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں سپیشل بچوں کی مذہبی تعلیم کا بہت محدود پیمانے پر انتظام کیا گیا ہے جن کی عمریں آٹھ یا نو برس ہیں، جبکہ اس سے چھوٹی عمر کے بچے مذہبی تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔یونیسیف کے مطابق انڈونیشیا میں 10 میں سے تین معذور بچے اسکول جاتے ہیں۔ قوت سماعت سے محروم بچوں کو قرآن کی تلاوت اور اسے حفظ کرنے میں پانچ سال لگ جاتے ہیں۔
ایک 10 سالہ طالب علم محمد فرہاد کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں عالم بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ یہ علم دوسروں تک پہنچا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب میں قرآن کے تیس پاروں کی تلاوت کر سکتا ہوں۔انڈونیشیا میں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی بورڈنگ اسکول ہیں جو غریب طلبہ کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔
VIDEO: Take a look inside a religious school for deaf children in Indonesia, where the students gesture rapidly with their hands, learning to recite the Koran in Arabic sign language pic.twitter.com/x2LEuZk6zS
— AFP News Agency (@AFP) July 6, 2022



