قربانی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل-حضرت حبیب الامتؒ
قربانی: تقویٰ، اطاعتِ الٰہی اور سنتِ ابراہیمی کا عظیم پیغام
قربانی کی فضیلت، سنتِ ابراہیمی اور اسلام میں قربانی کی اہمیت
اللہ تعالیٰ کو قربانی کے جانوروں کا گوشت اور ان کا خون ہر گز نہیں پہنچتا لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ، ایسے ہی تمہارے لئے اس نے جانوروں کو مسخر کردیا ہے تاکہ اللہ کی بڑائی بیان کرو اس بات پر کہ اس نے راہ سجھائی اور تاکہ اللہ کا شکر ادا کرو۔ (سورہ حج: ۳۹)
اللہ تعالیٰ کا امت محمدیہ پر بہت بڑا احسان ہے اس دین کو افراط وتفریط سے دور رکھا اور اس امت کو خیر امت کے لقب سے نوازا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دیگر انبیاء علیہم السلام کی امتوں پر بھی قربانیاں مقرر کی تھیں اور فرمانبردار بندے قربانی کرتے تھے مگر اس کا گوشت وہ نہیںکھا سکتے تھے بلکہ قربانی کرکے کسی پہاڑ وغیرہ پر لے جاکر رکھ دیتے اور اللہ کی طرف سے کوئی آگ آکر جلادیا کرتی اور یہی اس قربانی کے مقبول ہونے کی دلیل تھی اور اگر کسی کی قربانی کو آگ نے نہیں جلایا تو سمجھا جاتا کہ اس کی قربانی مقبول نہیں ہوئی اور گوشت تو کسی صورت میں کھاہی نہیں سکتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی امت پر یہ بہت بڑا فضل واحسان فرمایا کہ قربانی کے متعلق حکم فرمایا کہ اس کا گوشت بھی کھاؤ غریبوں اور رشتہ داروں کو کھلاؤ۔
قربانی کے دنوں میں سب سے پسندیدہ اورمحبوب عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانا ہے، صدقہ، خیرات اور نفل نمازوں سے بہتر اللہ کے نا م پر جانوروں کو قربان کرنا ہے ، حضور نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹ قربان کئے۔ تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے اور باقی حضرت علیؓ کو دیئے کہ آپ قربانی کردیجئے، پھر ہرایک اونٹ سے ایک ایک بوٹی گوشت لے کر سالن تیار کرایااور اس کا شوربا آپ ﷺ نے نوش فرمایا۔
تریسٹھ اونٹ ذبح کرنے کا نکتہ
ایک نکتہ عرض کرتا چلوں کہ حضور ﷺ نے جو تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے اس میں اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ حضور ﷺ کی عمر مبارک بھی تریسٹھ سال ہوگی مزید یہ کہ آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو جب یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو فرمایا ہوسکتا ہے آئندہ سال مجھے نہ دیکھ سکو اور میری قبر کے پاس سے گذرو۔ نبی اکرم ﷺ نے کسی بھی سال قربانی ناغہ نہیںکی، ارشاد فرمایا جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ چاہے یہودی ہوکر مرے، یا نصرانی ہوکر مرے۔
فربہ اورعمدہ جانوروںکی قربانی
حضرت عمر بن الخطابؓ نے اپنی ایک عمدہ اونٹنی کو حرم میں قربانی کے لئے بھیجا جس کی قیمت تین سو دینار دی جارہی تھی، وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، عرض کیااللہ کے رسول میں نے حرم میں قربانی کے لئے اپنی عمدہ اونٹنی کو بھیجا ہے اور مجھے اس کے بدلہ تین سو دینار دیئے جارہے ہیں ،تو کیا میں اس کو بیچ دوں اور اس کے دام کے بدلے دوسرے اونٹ خریدلوں او ران کی قربانی کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسی کی قربانی کرو۔ (ابوداؤد ،ترغیب)
حضور ﷺ کی طرف سے قربانی
ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حرم میں قربانی کے لئے سو اونٹ بھیجے حضرت علیؓ یمن سے آئے تو آپؓ نے ان کو اپنے اونٹوں میں تہائی کا شریک بنالیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے چھیاسٹھ اونٹ قربان کئے اور حضرت علیؓ کو حکم دیا تو انہوں نے چونتیس اونٹ قربان کئے او رنبی کریم ﷺ نے ہر اونٹ کے ایک ٹکڑے کے بارے میں حکم فرمایا پھر ان کو پکایا گیا اور دونوں نے گوشت میں سے کھایا اور شوربہ میں سے پیا۔ (مسلم ، ترغیب)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو دنبوں کی قربانی کرتے تھے ، حضرت انسؓ نے فرمایا میں بھی دودنبوں کی قربانی کرتا ہوں۔ (مسند احمد ،ترغیب)
حدیث شریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی کتنا محبوب عمل ہے خاص طور پر ایام حج او رارض حرم میں کہ آپ ﷺ نے کثیر تعداد میں قربانی فرمائی ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن فرمایا کہ کسی آدمی نے اس دن میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو قربانی کا خون بہانے سے افضل ہو مگر یہ کہ صلہ رحمی کی جائے ( طبرانی ،ترغیب) یعنی قربانی کے دنوں میں قربانی سے افضل کوئی اور عمل نہیں البتہ صلہ رحمی ایک ایسا عمل ہے جس کا ثواب اس سے بھی زیادہ ہے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے لوگو! قربانی کرو اور قربانی کے خون کے بارے میں ثواب کی امید رکھو اس لئے کہ خون اگر چہ (بظاہر ) زمین پر گرتا ہے ، مگر ( درحقیقت) وہ اللہ کی حفاظت میں چلاجاتا ہے۔ (طبرانی)
حضرت حسین بن علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص خوش دلی سے اپنی قربانی پر ثواب کی امید رکھے تو وہ اس کیلئے جہنم سے حجاب ہوجائے گی۔ (طبرانی ، ترغیب)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قربانی کرنے کی گنجائش پائے اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ (مستدرک حاکم)
قربانی ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی ایک عظیم یادگار
ہر سال امت مسلمہ جو قربانی پیش کررہی ہے وہ در حقیقت ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک عظیم یادگار ہے ۔
سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو راہ خدا میں ذبح کررہے ہیں چونکہ انبیا کا خواب بھی وحی ہوتا ہے ، جس کا کرنا ضروری ہوتا ہے ، لیکن بیٹے سے بھی پوچھتے ہیں ۔
بہرحال بیٹا بھی تو نبی کا بیٹا تھا ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا : اِنِّیْ اَریٰ فِیْ الْمَنَامِ اَنِّی اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَریٰ اے میرے لخت جگر میںنے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کررہا ہوںغور کرلو ، سوچ لو ،تمہاری کیا رائے ہے؟
ایک صالح و فرمانبرداربیٹے نے جواب دیا کہ ابو جان اللہ کا حکم ہے تو پوچھنے سوچنے اور غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یٰابَتِ افْعَلْ ماَ تُؤمَرْسَتَجِدُنِیْ اِنشَائَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ‘‘ ابا جان خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ملا ہے اس کو پورا کیجئے ، مجھے حکم الٰہی کی بجا آوری میں آپ انشاء اللہ صابر وشاکر پائیں گے ، میں اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کروں گا ۔
یہی نہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تقویت کے لئے مزید مشورہ بھی دیا ابا جان آپ مجھ کو رسی سے مضبوط باندھ دیجئے تاکہ روح نکلنے کے وقت میں زیادہ حرکت نہ کرسکوں او راپنے کپڑوں کو اچھی طرح سے لپیٹ لیں تاکہ خون سے آلودہ ہوکر میرا اجر کم نہ ہوجائے، اور اس کپڑے کو دیکھ کر میری والدہ غم زدہ نہ ہوں، اپنی چھری کو تیز کرلیجئے اور تیزی سے میرے گلے پر اس کو پھیرنا تاکہ آسانی سے میری روح نکل جائے ، او رکوئی زیادہ تکلیف نہ ہو اورجب آپ میری والدہ کے پاس واپس جائیں ، توان کومیرا سلام عرض کردیں ، اورمیرا یہ کرتہ ان کو واپس کردیں تاکہ ان کو تسلی ہو جائے، بیٹے کے اس پرعزیمت جواب اور جذبۂ اطاعت کو دیکھ کرحضرت ابراہیم علیہ السلام کی خوشی کی انتہاء نہ رہی اور پکار اٹھے : ’’نِعمَ العَوْنُ اَنْتَ یَا بُنَیَّ عَلٰی ٰاَمْرِ اللّٰہِ‘‘
پیارے بیٹے تم تو اس حکم خدا وندی کے سلسلہ میں میرے بہترین معین ومدگار ثابت ہوئے ، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کے مشورے کے مطابق عمل کیا ، او ربیٹے کو باندھ کر آخری بار کا بوسہ دیا حال یہ ہے کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، اور دل طاعت الٰہی کے جذبہ سے سرشار تھا ، ہاتھ میں چھری لیکر حلق کے اوپرچلانی شروع کی اور پوری قوت سے گردن کو کاٹنا چاہا اور کئی مرتبہ چھری کو پتھر پر تیز کیا مگر چونکہ اللہ رب العزت کو کچھ او رمنظور تھا ، چھری باوجود تیز ہونے کے کاٹ نہ سکی ، اور اللہ کی طرف سے یہ ندا آئی اے ابراہیم علیہ السلام بس بس تم نے اپنی دوستی کا حق ادا کردیا ، اور تم نے اپنے خواب کو سچ کردکھایا، یقیناً ہم ایسے اطاعت شعاروں اورحکم برداروں کو عمدہ بدلادیا کرتے ہیں، تم اس بڑے امتحان اور آزمائش میں کامیاب ہوگئے ہو، بیٹے کو قربان کرانا اصل مقصود نہیں تھا، بلکہ تمہارے اس جذبہ کو دیکھنا تھا کہ آیا یہ اکلوتا بیٹا اور اس کی محبت تم کو خدا کے حکم سے نہ روک دے ، آپ نے یہ دکھلا دیا کہ حکم الٰہی کے سامنے اکلوتے بیٹے کی محبت کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اسی جذبہ محبت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے جنت سے ایک فربہ دنبہ برائے قربانی بھیج دیا علماء نے لکھا ہے کہ یہ دنبہ جنت کے اندرچالیس سال تک چرا ہے۔ ’’کَانَ ذٰلِکَ الْکَبَشِ رَعِی فِی الْجَنَّۃِ اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفاً‘‘ (بغوی)
نیز حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے یہ وہی دنبہ تھا جس کی قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے حضرت ہابیل نے کی تھی ، جس کو اللہ رب العزت نے قبول فرمالیا تھا ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے بدلہ میں اس دنبہ کی قربانی کرائی ، اس سے حضرت امام اعظمؒ نے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو قربانی کرنے کی نذر مان لے تو اس پر ایک بکرے کا ذبح کرنا لازم ہوگا، بیٹے کوذبح کرنا درست نہیں ، اللہ تعالیٰ نے ایک دنبہ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ قرار دیا ہے۔



