قربانی حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ کی عظیم یادگار، اسلامی قربانی کی تاریخ اور فضائل
حضرت حبیب الامت رحمۃ اللہ علیہ
ہر سال امتِ مسلمہ جو قربانی پیش کررہی ہے وہ در حقیقت ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی ایک عظیم یادگار ہے۔ سیدنا حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیلؑ کو راہِ خدا میں ذبح کررہے ہیں۔ چونکہ انبیاء کرام علیہم السلام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، جس کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے، لیکن بیٹے سے بھی پوچھتے ہیں۔
بہرحال بیٹا بھی تو نبی کا بیٹا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا:
اِنِّیْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی
اے میرے لختِ جگر! میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کررہا ہوں، غور کرلو تمہاری کیا رائے ہے؟
ایک صالح و فرمانبردار بیٹے نے جواب دیا کہ ابو جان! اللہ کا حکم ہے تو پوچھنے، سوچنے اور غور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
یٰاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ
ابا جان! خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ملا ہے اس کو پورا کیجئے، مجھے حکمِ الٰہی کی بجاآوری میں آپ ان شاء اللہ صابر و شاکر پائیں گے، میں اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کروں گا۔
یہی نہیں، حضرت ابراہیمؑ کی تقویت کیلئے مزید مشورہ بھی دیا کہ ابا جان! آپ مجھ کو رسی سے مضبوط باندھ دیجئے تاکہ روح نکلنے کے وقت میں زیادہ حرکت نہ کرسکوں اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح سے لپیٹ لیں تاکہ خون سے آلودہ ہوکر میرا اجر کم نہ ہوجائے، اور اس کپڑے کو دیکھ کر میری والدہ غم زدہ نہ ہوں۔ اپنی چھری کو تیز کرلیجئے اور تیزی سے میرے گلے پر اس کو پھیرنا تاکہ آسانی سے میری روح نکل جائے اور کوئی زیادہ تکلیف نہ ہو، اور جب آپ میری والدہ کے پاس واپس جائیں تو ان کو میرا سلام عرض کردیں، اور میرا یہ کرتہ ان کو واپس کردیں تاکہ ان کو تسلی ہوجائے۔
بیٹے کے اس پُرعزیمت جواب اور جذبۂ اطاعت کو دیکھ کر حضرت ابراہیمؑ کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور پکار اٹھے:
نِعْمَ الْعَوْنُ اَنْتَ یَا بُنَیَّ عَلٰی اَمْرِ اللّٰہِ
پیارے بیٹے! تم تو اس حکمِ خداوندی کے سلسلہ میں میرے بہترین معین و مددگار ثابت ہوئے۔
چنانچہ حضرت ابراہیمؑ نے بیٹے کے مشورے کے مطابق عمل کیا اور بیٹے کو باندھ کر آخری بار کا بوسہ دیا۔ حال یہ تھا کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور دل طاعتِ الٰہی کے جذبہ سے سرشار تھا۔ ہاتھ میں چھری لے کر حلق کے اوپر چلانی شروع کی اور پوری قوت سے گردن کو کاٹنا چاہا، کئی مرتبہ چھری کو پتھر پر تیز کیا مگر چونکہ اللہ رب العزت کو کچھ اور منظور تھا، چھری باوجود تیز ہونے کے کاٹ نہ سکی۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی:
اے ابراہیمؑ! بس، بس! تم نے اپنی دوستی کا حق ادا کردیا اور تم نے اپنے خواب کو سچ کردکھایا۔ یقینا ہم ایسے اطاعت شعاروں اور حکم برداروں کو عمدہ بدلہ دیا کرتے ہیں۔ تم اس بڑے امتحان اور آزمائش میں کامیاب ہوگئے ہو۔ بیٹے کو قربان کرانا اصل مقصود نہیں تھا بلکہ تمہارے اس جذبہ کو دیکھنا تھا کہ آیا یہ اکلوتا بیٹا اور اس کی محبت تم کو خدا کے حکم سے نہ روک دے۔
آپ نے یہ دکھلا دیا کہ حکمِ الٰہی کے سامنے اکلوتے بیٹے کی محبت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسی جذبۂ محبت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے جنت سے ایک فربہ دنبہ برائے قربانی بھیج دیا۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہ دنبہ جنت کے اندر چالیس سال تک چرا ہے۔
کَانَ ذٰلِکَ الْکَبَشِ رَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ اَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا۔ (بغوی)
نیز حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ یہ وہی دنبہ تھا جس کی قربانی حضرت آدمؑ کے بیٹے حضرت ہابیلؑ نے کی تھی، جس کو اللہ رب العزت نے قبول فرمالیا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے بدلہ میں اس دنبہ کی قربانی کرائی۔
اس سے حضرت امام اعظمؒ نے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو قربانی کرنے کی نذر مان لے تو اس پر ایک بکرے کا ذبح کرنا لازم ہوگا، بیٹے کو ذبح کرنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک دنبہ کو حضرت اسماعیلؑ کا فدیہ قرار دیا ہے۔
شیطان کا فریب دینا
حضرت ابراہیمؑ خواب دیکھنے کے بعد اپنے اکلوتے لاڈلے بیٹے کو لے کر قربانی کے واسطے چلے۔ شیطان ایک انسانی شکل اختیار کرکے اولاً حضرت اسماعیلؑ کی والدہ حضرت ہاجرہؓ کے پاس آیا اور ان کو بہکانا اور پھسلانا چاہا۔
کہنے لگا کہ تم جانتی ہو تمہارے بیٹے کو تمہارے شوہر حضرت ابراہیمؑ کہاں لے جارہے ہیں اور کس لئے لے جارہے ہیں؟
ذبیح اللہؑ کی والدہ نے جواب دیا کہ لکڑیاں چننے کیلئے جارہے ہیں۔
شیطان بولا کہ واللہ! وہ لکڑیاں لینے کیلئے ان کو اپنے ساتھ نہیں لے گئے ہیں بلکہ وہ ان کو ذبح کرنے کے واسطے لے گئے ہیں، ان کو ذبح کریں گے۔
حضرت ہاجرہؓ نے جواب دیا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ان کو اپنے بچے سے بے انتہا محبت و پیار ہے، وہ ان پر بہت شفیق اور مہربان ہیں، وہ ان کو ذبح نہیں کرسکتے۔
شیطان نے پھر کہا کہ حضرت ابراہیمؑ یوں سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ وہ ان کو ذبح کردیں۔
حضرت ہاجرہؓ نبی کی صحبت یافتہ تھیں، نبی کی زوجہ تھیں، خدا کے حکم کے سامنے سر جھکانے والی تھیں۔ بولیں اگر ان کے رب نے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا ہے تو یقینا انہیں اپنے بیٹے کو قربان کرکے اپنے مولیٰ کا حکم ماننا چاہئے۔
شیطان اس طرح کا کریمانہ جواب سن کر مایوس ہوگیا اور پھر حضرت اسماعیلؑ کو بہکانے کی کوشش کرنے لگا اور ان کے پاس پہنچا۔ حضرت اسماعیلؑ والد بزرگوار حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ساتھ گھاٹی کی طرف چلے جارہے تھے۔
شیطان انسان کی شکل میں نمودار ہوا اور کہا: اے بچے! معلوم ہے تمہارے والد تم کو کہاں لے جارہے ہیں؟
حضرت اسماعیلؑ نے جواب دیا کہ ہاں معلوم ہے، اپنے اہل و عیال کے واسطے لکڑیاں چننے کیلئے مجھے اپنے ساتھ لے جارہے ہیں۔
شیطان نے کہا کہ نہیں، درحقیقت وہ تم کو وہاں لے جاکر ذبح کردیں گے۔
حضرت اسماعیلؑ نے پوچھا کہ وہ مجھے کیوں ذبح کریں گے؟
شیطان نے کہا کہ ان کا خیال یہ ہے کہ پروردگار نے ان کو یہ حکم دیا ہے۔
حضرت اسماعیلؑ نے جواب دیا کہ اگر یہ حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو اس حکمِ خداوندی کی بخوشی اطاعت کرنی چاہئے۔
شیطان نے جب یہ محسوس کرلیا کہ یہ بچہ اس کے جال میں نہیں پھنسا اور وہ بھی اللہ کے حکم کے سامنے سرنگوں ہونے کیلئے مستعد ہے تو اب حضرت ابراہیمؑ کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا:
بڑے میاں! کہاں جارہے ہو؟
حضرت ابراہیمؑ نے جواب دیا کہ اپنی ایک خاص ضرورت کے تحت اس گھاٹی تک جارہا ہوں۔
کہنے لگا کہ واللہ! شیطان نے خواب میں آکر یہ حکم دیا ہے کہ تم اپنے اس ہونہار اور بڑھاپے کے سہارے بیٹے کو ذبح کردو۔
یہ سن کر حضرت ابراہیمؑ فراستِ ایمانی سے سمجھ گئے کہ یہ شیطان ہے اور مجھے رب کا حکم پورا کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔ تو شیطان کو مخاطب کرکے فرمایا:
خدا کے دشمن! میرے پاس سے چلا جا۔ رب ذوالجلال کی قسم! میں اپنے رب کے حکم کو ضرور بالضرور پورا کروں گا۔
حضرت ابراہیمؑ کے اس جواب سے شیطان بالکل مایوس ہوگیا اور انتہائی غیظ و غضب میں واپس لوٹ گیا۔ اس طرح اللہ رب العزت نے حضرت ابراہیمؑ اور آلِ ابراہیمؑ کی شیطان سے حفاظت فرمائی، ورنہ شیطان مردود نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ حکم عدولی کریں۔
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان تین مواقع پر حضرت ابراہیمؑ کے سامنے آیا اور ان کو بہکانے کی کوشش کی۔ حضرت ابراہیمؑ نے ہر مقام پر اس کو سات سات کنکریاں ماری تھیں۔ چنانچہ آپؑ کی یادگار میں ان تینوں جمرات پر حجاجِ کرام بھی کنکریاں مارتے ہیں۔



