سیاسی و مذہبی مضامین

افادات زکیہ -علماء و اولیاء کا ادب اور صوفیانہ حکمت کے ایمان افروز واقعات

ماخوذ: از افادات حکیم الامتؒ

حضرت عمر فاروقؓ کا قول

امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطابؓ فرمایا کرتے تھے کہ خدا اس شخص پر رحم کرے جو مجھے میرے عیوب پر مطلع کردے اور حضرت عمرؓ بعض دفعہ حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کے مکان پر جاتے اور ان سے کہتے کہ اے حذیفہؓ تم رسول اللہ ﷺ کے راز دار ہو اور منافقین کو پہچانتے ہو اور رسول اللہ ﷺ کے زمانۂ حیات ہی سے ان کو جانتے ہو تو تم دیکھو کہ میرے اندر نفاق تو نہیں اگر ہو تو مجھے بتلادو، وہ جواب دیتے کہ اے امیر المومنین بخدا میں آپ کے اندر نفاق بالکل نہیں پاتا اس پر حضرت عمرؓ فرماتے کہ تم غور کرو اور اچھی طرح تامل کرو پھر حضرت حذیفہؓ اور حضرت عمرؓ دیر تک روتے رہتے یہاں تک کہ دونوں بے ہوش ہوجاتے حضرت حذیفہؓ کو تو حضرت عمرؓ کی اس بات پر رونا آتا اور حضرت عمرؓ اس خوف سے روتے کہ شاید میرے اندر کچھ نفاق خفیف سا ہو جو مجھے اور حضرت حذیفہؓ کو محسوس نہ ہوتا ہو۔

تو دیکھو حضرت عمرؓ باوجود یکہ ان کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہونا قطعی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے جنتی ہونے کی شہادت بھی موجود ہے چنانچہ ارشاد ہے: ’’لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ‘‘۔ (سورہ فتح: ۱۸) ’’ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ مومنین سے راضی ہوگئے جب کہ وہ شجرہ حدیبیہ کے نیچے آپ سے بیعت کرتے تھے۔ اور حضرت عمرؓ بھی بے شبہ بیعت رضوان میں موجود تھے اس پر بھی وہ اپنے نفس کو نفاق سے متہم سمجھتے تھے۔ جب حضرت سیدنا عمرؓ کا یہ حال تھا تو ہم جیسوں کا تو کیا حال ہونا چاہئے۔

نفس کی حمایت نہ کرے

اور درویش کی شان یہ ہے کہ جب اس پر بکاء اور خشیت طاری نہ ہو تو ایسی باتیں بیان نہ کرے جن میں اپنے نفس کی حمایت (اور طرف داری) ہو مثلاً یہ کہ بکاء اور رقت ناقصین پر طاری ہوا کرتی ہے کاملین کسی کلام کے سننے سے متاثر نہیں ہوا کرتے اور نہ ان پراحوال کا غلبہ ہوتا ہے اور حضرت صدیق اکبرؓ کے قول سے استدلال کرنے لگے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو قرآن سن کر رورہا تھا فرمایا: کبھی ہم بھی ایسے ہی تھے یہاں تک کہ ہمارے دل سخت ہوگئے۔

حضرت بابا فریدؒ کا زہد وتوکل

حکیم الامتؒ کے خلیفہ اجل حضرت مصلح الامت فرماتے ہیں کہ :ایک شخص کی چوری حضرت بابا فریدؒ نے کشف کے ذریعہ معلوم کرلی اور اللہ تعالیٰ نے ہدایت خلق کے لئے ان کے قلب میں ڈال دیا چنانچہ انہوں نے فرماہی دیا کہ برادرانہ تقسیم ٹھیک نہیں۔ حضرت کے اس فرمانے کے بعد اس نے بھی کچھ عذر معذرت نہیں کی بلکہ جو نصف لے لیا تھا اس کو لا کر پیش کیا۔ حضرت نے فرمایا کہ جو لے لیا ہے اس کو رکھے رہو اور یہ نصف جو تم نے مجھے دیا ہے آخر میں اسے کسی کو دیتا ہی، لے جائو تمہیں کو دیتا ہوں۔ حضرت کو اس کی چوری کا کشف تو ہوا ہی تھا یہ عمل تو کشف سے بھی بڑھ کر کمال تھا کہ اسی کو کل دے دیا۔ زہد اور ترک دنیا کی اعلیٰ مثال ہے۔

مشائخ کیلئے تواضع اور استغناء لازم ہے

اور وہ جو میں نے کل کہا تھا کہ دو چیزیں بزرگی کی خصوصیت میںسے ہیں ایک تواضع او رایک توکل ۔ تو یہ بھی توکل اور استغناء کا نمونہ ہے۔ حضرت مولاناؒ فرماتے ہیں کہ مشائخ میں دو چیزیں ضرور ہونی چاہئے ایک تواضع اور ایک استغناء ۔ تواضع بڑی خوبی کی چیز ہے اور جس کے اندر یہ ہوتی ہے تو پہچان لی جاتی ہے لوگ کہتے ہیں کہ بہت متواضع شخص ہے اسی طرح شیخ کے لئے استغناء کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہ پیدا ہوتا ہے تو کل سے ۔ حضرت بابا فریدؒ نے مال دنیا سے استغناء فرماتے ہوئے وہ رقم اسی کو دے دی جس نے چوری کی تھی۔

(ماخوذ: از افادات حکیم الامتؒ صفحہ: ۱۶۶تا ۱۶۹ مؤلفہ حضرت از حبیب الامتؒ )


سیر نظری اور سیر قدمی

بزرگوں کی سیرت اور ان کے کمالات کی سیر نظری آپ کو کرارہا ہوں جیسے ہم اپنی جگہ بیٹھے ہوئے دور دور کی چیزیں دیکھ لیتے ہیں یہ سیر نظری کی مثال ہے او رجیسے ہوائی جہاز میں سے سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے گزرتے چلے جاتے ہیں لیکن کسی چیز کو جاکر دیکھنے کے لئے بہت چلنا اور سفر کرنا پڑتا ہے تب انسان وہاں پہنچتا ہے اس کو سیر قدمی کہتے ہیں۔ پس سیر نظری تو آسان ہے مگر سیر قدمی مشکل ہے آپ جانتے ہیں یہ کام کہا ں سے بگڑا۔

مشائخ کے یہاں غیر طالب پہنچتے ہیں۔ یوں آنے جانے والے بہت ہوتے ہیں مگر خدا کے طالب ان میں بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔ دیکھئے حضرت فرید شکر گنج کی خدمت میں بھی وہ شخص پہنچا مگر نیت خراب ،لیکن جب حضرت نے اس طرح سے اسے کل رقم دے دی تو اس پر آہستہ آہستہ اثر پڑا۔ وہیں رہا پھر کہا کہ حضرت مرید کرلیجئے۔ اس کے بعد بھی پڑا رہا چنانچہ حضرت نے اس سے فرمایا کہ جائو تم کو ملتان کی ولایت دی ۔ ظاہر وباطن کی سب دولت پاگیا۔ دیکھئے آپ جھوٹ سے نکل کر کس مرتبہ پر پہونچا کہ ملتان کا صاحب خدمت ہوگیا۔

سب سے بڑی رکاوٹ کبر وعار ہے

بلکہ حضرت ؒ نے تو اپنے وطن میں اکتساب کمال کو کمال شمار فرمایا ہے۔ آیت : وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْن: مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْہِمْ۔ یعنی قے ’’وہ مال جو اہل حرب سے بلا جنگ وقتال حاصل ہو‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کو بھی حق ہے جو دارالسلام (یعنی مدینہ) میں جو ان کا وطن ہے اور ایمان میں ان مہاجرین کے آنے کے قبل سے قرار پکڑ ے ہوئے ہیں اور جو ان کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے اس سے یہ لوگ محبت کرتے ہیں ۔

اس آیت کے تحت بیان القرآن میں ہے کہ تبوؤ الدارکی صفت کو فعل میں دخل یہ ہے کہ۔اپنے وطن میں اکتساب کمال کرنا خصوص انقیاد اورفرمانبردار ی کرنا کمال کی بات ہے کیونکہ وطن میں ان امور سے بہت موانع پیش آتے ہیں نیز اپنی ریاست وجاہت کی وجہ سے عاربھی آتی ہے۔ حضرت نے کیسی عمدہ بات بیان فرمائی بلا شبہ کبر وعاری کی وجہ سے انسان تحصیل کمال سے رہ جاتا ہے میں نے الہٰ آباد میں ایک دن اسی مضمون کو لوگوں کے سامنے بیان کیا۔

اہل علم بھی موجود تھے میں نے کہا کہ : اب اتنے دنوں کے بعد اس بڑھاپے میں جب کہ کسی چیز کی تحصیل کا وقت باقی نہیں رہا یہ بات سمجھ میں آئی کہ کسی انسان کو تحصیل کمال سے جو چیز مانع ہوتی ہے وہ اس کا کبر وعار ہے ۔ آدمی اپنے انہیں رذائل کی وجہ سے کمال حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے کیونکہ یہ چیزیں اس کو کسی کے آگے جھکنے نہیں دیتیں ورنہ تو زمانے میں کیسے کیسے اہل کمال ہوتے ہیں لیکن لوگ ان سے کچھ بھی نہیں حاصل کرتے۔

سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے ان سے فیض حاصل کرلیا تو پھر ہمارا کبر اور ہماری عار کہاں محفوظ رہے گی۔ میں حضرات اہل علم کو خصوصاً اس جانب متوجہ کرناچاہتا ہوں کہ آج علماء اور طلباء کو کوئی کمال جو نہیں حاصل ہوتا تو اسکی وجہ یہی انکا عار اور تکبر ہے یہی ان کی راہ مارے رہتا ہے اس کو اگر سمجھ لیں اور ہمت کرکے ترک کریں تو کمال کے درجے کو پہنچ سکتے ہیں چنانچہ جن لوگوں کو کمال حاصل ہوا ہے وہ اپنے کو مٹانے اور کسی کے آگے خود کو گرانے اور اپنے کبر وعار کو ختم کرنے ہی سے حاصل ہوا ہے۔

تکبر اور عار کچھ تبرک نہیں ہے کہ اس کو اپنے ساتھ ساتھ لئے جائو۔ جونپور میں اپنے ایک وعظ میں حضرت نے یہی مضمون بیان فرمایا کہ علماء مشائخ کے یہاں عار کی وجہ سے نہیں جاتے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میں علماء سے کہتاہوں کہ اگر آپ لوگوں کو مشائخ کے یہاں جانے میں عار وتکبر نہیں ہے تو پھر نہ جائیے اصلاح حاصل ہے اور اگر عار او رکبر موجود ہے اس لئے نہیں جاتے تو اتنے زبردست رذیلہ کے موجود ہوتے ہوئے پھر اصلاح کہاں ہوئی یہ سن کر ایک مولوی صاحب نے ’’یعنی مولانا ابوبکر صاحب شیث جونپوری نے اٹھ کر کہا واہ مولانا واہ! آپ نے خوب رگ پکڑی۔

(ماخوذ: از افادات حکیم الامتؒ صفحہ: ۱۶۹تا۱۷۱ مؤلفہ حضرت از حبیب الامتؒ )٭


دہلی کے ایک بزرگ کا سبق آموز قصہ

دہلی میں ایک بزرگ رہتے تھے، وہ یہی رٹ لگائے رہتے تھے کہ میں تیرا بندہ نہیں تو میرا خدا نہیں، میں تیرا کہنا کیوں مانوں۔ لوگ ان کے پاس سے گزرتے اور جب اس کلمہ کو سنتے تو لاحول پڑھ کر آگے بڑھ جاتے۔ ایک دن ایک شخص نے ہمت کرکے ان سے پوچھا کہ حضرت آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ یہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: خدا تیرا بھلا کرے، پوری دہلی میں تو ہی صرف ایسا نکلا جس نے مجھ سے اس کا مطلب پوچھا، ورنہ لوگ تو مجھ پر لاحول پڑھ کر چلے جاتے ہیں۔ پھر کہا کہ بھائی! میرا نفس مجھ سے کسی چیز کی خواہش کرتا ہے تو میں اسے مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ تو کوئی میرا خدا نہیں اور میں تیرا بندہ نہیں، پھر میں تیرا کہنا کیوں مانوں؟ اب بتاؤ کیا برا کہتا ہوں۔

اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے کلام کو سن کر فوراً اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بزرگوں کی خدمت میں بیٹھنے والوں کے لیے ان کا ادب نہایت ضروری ہے۔ رسالہ قشیریہ میں ہے کہ جو شخص کسی شیخ کی صحبت میں رہا اور دل سے ان پر اعتراض کردیا تو اس نے صحبت کا عہد توڑ دیا، یعنی شیخ سے اس کا قلبی رشتہ ختم ہوگیا۔ جسمانی اور بدنی قرب کے باوجود وہ اس کے فیض سے محروم رہے گا۔

ولایت اسبابِ ولایت اختیار کرنے سے ملتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی سمجھو کہ بزرگی جو کسی کو ملتی ہے تو اسبابِ بزرگی اختیار کرنے کی وجہ سے ملتی ہے، باقی محض ڈینگ مارنے کی وجہ سے آج تک کوئی بزرگ نہیں ہوا۔ اس زمانے میں یہی دیکھ رہا ہوں کہ بزرگوں کی ریس، نقل اور دعویٰ ہی رہ گیا ہے، جبکہ اسبابِ بزرگی کو اختیار کرنا لوگوں کے لیے موت کے برابر ہو گیا ہے۔

مجنوں کو عشقِ لیلیٰ سے بھی عشق تھا۔ اس راہ کے طالب کو بھی مجنوں ہونا پڑتا ہے۔ مجنوں کا یہ واقعہ مشہور ہے کہ جب وہ خانہ کعبہ کا طواف کرنے گیا تو اس کے والد نے کہا کہ غلافِ کعبہ پکڑ کر دعا کر کہ اللہ میرے دل سے لیلیٰ کی محبت نکال دے۔ تو وہ کہتا ہے: یا اللہ! میں اپنے ہر گناہ سے توبہ کرتا ہوں بجز لیلیٰ کی محبت کے، کہ اس سے توبہ نہیں کرتا۔ اسی مجنوں کو کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ تیرے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اور فرمایا: اَجْعَلُکَ حُجَّۃً عَلَی الْعَاشِقِیْنَ، یعنی میں تجھے اپنے عشاق پر حجت بناؤں گا کہ ایک مخلوق نے ایک مخلوق سے عشق کا دم بھرا اور اس کا ایسا ثبوت دیا، تم نے بھی دنیا میں ہماری محبت کا دعویٰ کیا تھا تو اس کا کیا ثبوت دیا اور کیا حق ادا کیا۔ اسی کو مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں:

؎ عشقِ مولانا کے کم از لیلیٰ بود
گوئے گشتن بہرا و اولیٰ بود 

مولانا جلال الدین رومیؒ اس شعر میں دنیاوی عشق (جیسے مجنوں کا لیلیٰ سے عشق) اور حقیقی عشق (اللہ تعالیٰ کی محبت) کا تقابل کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک انسان کسی مخلوق (لیلیٰ) کے عشق میں اپنی جان، عزت اور سکون سب کچھ قربان کر سکتا ہے، تو خالقِ کائنات کے عشق کے لیے تو اس سے بھی بڑھ کر جذبہ ہونا چاہیے۔

"گوئے گشتن” کا مطلب ہے گیند بن جانا، یعنی اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کی مرضی کے حوالے کر دینا، جیسے گیند کو جدھر چاہیں پھینک دیا جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنی انا، خواہشات اور نفس کو ختم کر دے اور صرف اللہ کی رضا میں راضی رہے۔

موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے جادوگروں کے ایمان کا سبب پوچھا تو ارشاد ہوا: اے موسیٰ! ساحرانِ فرعون اس وقت تمہارا سا لباس پہن کر آئے تھے، ہماری رحمت نے گوارا نہ کیا کہ تمہارے ہم لباس دوزخ میں جائیں، اس لیے ہم نے ان کو ایمان کی توفیق دی اور فرعون محروم رہا۔ پس خلاصہ یہ نکلا کہ ظاہر کی درستی بھی اچھی چیز ہے مگر محض اسی پر اکتفا نہ کرنا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ باطن کو بھی درست و آراستہ بنانے کی فکر ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی، اپنے رسول اللہ ﷺ اور اپنے اولیاء کی حقیقی محبت و معرفت عطا فرما کر دنیا و آخرت میں سرخرو فرمائے۔ آمین!


علماء کرام کا ادب کرنا چاہیے

امام اعظم ابوحنیفہؒ کا واقعہ لکھا ہے کہ: انہوں نے نماز میں کوئی کپڑا بچھالیا تھا ایک شخص نے دیکھ کر کہا کہ اے شیخ ایسا نہ کیجئے یہ مکروہ ہے ۔ امام صاحب نے پوچھا تمہارا مکان کہاں ہے اس نے کہا خوار زم امام صاحب نے فرمایا اللہ اکبر اب تکبیر کی آواز پیچھے سے آنے لگی یعنی صف اخیر سے۔ امام صاحب کا مطلب یہ تھا کہ یہ معاملہ برعکس کیسا۔ خوارزم تو علم یہاں سے جاتا ہے نہ کہ خوارزم سے یہاں علم آوے۔ اس کے بعد اس کو مسئلہ سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمہاری مسجد میں بوریا بچھا ہے؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کہ پھر یہ خوب بات ہے کہ گھاس پھونس پر تو نماز ہو جائے اور کپڑے پر جائز نہ ہو امام صاحب نے اس کو تنبیہ فرمائی کہ علماء کا ادب کرنا چاہئے۔

چنانچہ علماء اور مشائخ کا جو ادب کیا جاتا ہے وہ دین ہی کی وجہ سے کیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ عین دین ہے۔ جتنا کوئی کسی کا ادب کرے گا اتنا ہی اس کو فائدہ ہوگا اور ادب تابع ہے اعتقاد کے۔ جس قدر کسی کا اعتقاد ہوگا انسان اتنا ہی اس کا ادب کرے گا۔

دین کی عظمت کی قلت

آج علما او رمشائخ کا ادب جو قلب میں باقی نہیں ہے تواسی لئے کہ خود دین ہی کی عظمت دل میں نہیں ہے اس لئے اہل دین کی بھی نہیں ہے اور بزرگوں کا ادب جو نہیں رہا تو اس لئے کہ ان کی معرفت نہیں ہوتی اور لوگ جس کو کچھ سمجھ لیتے ہیںاس سے بہت ڈرتے ہیں ۔

ایک دفعہ وطن میںلوگوں نے آخر مجھ سے ایک شخص کی شکایت کی یہ نوجوان نیک لوگوں کی ہجو بہت کیا کرتا ہے۔ یہ لوگ میرے پاس آمد ورفت رکھتے تھے۔ میں نے ان شکایت کرنے والوں سے تو کہا کہ صبر کرو۔ بہت دنوں تک صبر ہی کی تلقین کرتا رہا بالآخر میں نے اسکے پاس کہلا بھیجا کہ مجھے تمہاری یہ بات پہنچ گئی ہے اچھی بات ہے ہمارا تمہارا یہاں سے لے کر آخرت تک کا مقابلہ ہے لوگوں نے جاکر اس سے کہہ دیا او رمجھے بتایا کہ سر سے پائوں تک ہل گیا ڈر گیا اور ایک شخص کے پاس گیا جو میرے آدمی تھے اور کہا کہ لوگوں نے میری شکایت کردی ہے اور انہوں نے ایساایسا کہلایا ہے لہٰذا چلو میری معافی کرا دو اور نااتفاقی کو دورکرلیا جائے پھر یہ کہا کہ معافی کیلئے پیدل جانا چاہئے چنانچہ آیا مجھے معلوم ہوا تو میں نے کچھ کہا نہیں لوگوں سے کہتا تھا کہ دو دن چار دن دس دن بیس دن جب تک معاف نہ کریں گے جائوں گا نہیں۔ اس سے میں نے سمجھا کہ خلوص سے آیا ہے اور پھر میرے پاس اوپر ملنے آیا اورکہا کہ میں ہی تنہا نہیں ہوں بہت سے لوگ ہجو کرتے ہیں۔ میں نے نرمی سے کہا کہ ٹھیک کہتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے لوگ اس زمانہ میں بہت ہیں۔

دنیا کے نقصان سے گھبراتے ہیں

یہ میں آپ کو ابنائے زمانہ کے حالات اور اصلاح کا طریقہ بتلا رہا ہوں اور یہ سمجھا رہاہوں کہ اس زمانہ میں لوگوں کی اصلاح کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر اس کا ارادہ کروگے او راس میں قدم رکھوگے تو مشکل میں پڑجائو گے۔ بڑی بڑی مخالفتیں آئی گئی چنانچہ وہ لڑکا شرمندہ ہوا اور نیک بن گیا۔

اس کے والد کو معلوم ہوا تو ان کو بھی خوشی ہوئی اور جب یاد آتا تو اپنے لڑکے سے کہتے کہ اتنے دن ہو گئے مولانا صاحب کے یہاں نہیں گئے اور پھر اس کے بعد اس کے والد صاحب میرے پاس آئے اور مصافحہ کیا تو دیر تک ہاتھ پکڑے رہے میں نے سمجھ لیا کہ یہ مصافحہ مودعت کا نہیں بلکہ مصافحہ محبت اور ندامت کا ہے۔ یعنی اب انہیں پچھلی باتوں کا احساس ہوا پھر تو اس کے بعد اپنے لڑکے کے ایسے معتقد ہوئے کہ جب کارخانہ وغیرہ کا افتتاح کرنا ہوتا تو کہتے کہ ہم کسی دوسرے کو کیوں بلائیں خود ہمارا لڑکا ہی ولی ہے اسی سے کیوں نہ کرائیں۔

یہ واقعہ میں نے اس پر سنایا کہ دین سے لوگوں کو نفرت نہیں ہے۔ دین بھلا کیا نقصان پہنچاتا ہے؟ اس سے تو فائدہ ہی پہنچتا ہے۔ ہم دنیا ہی نہیں چھوڑنا چاہتے۔

(ماخوذ: از افادات حکیم الامتؒ صفحہ: (۲۰تا۲۲مؤلفہ حضرت از حبیب الامتؒ )


اپنے کو دوسروں پر فضیلت نہ دو

فرمایا کہ: لاَ تُفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی یُوْنُسَ اِبْنِ مُتٰی اَوْ کَمَا قَالَ، یعنی مجھ کو یونس ابن متیؑ پر فضیلت مت دو۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی تفضیل کو ایک نبی پر بیان کرنے سے منع فرمایا۔ جب آپ ﷺ نے اس معنی میں بھی ممانعت فرمائی تو امت کے لیے، خواہ وہ خاص ہوں یا عام، اپنی تفضیل دوسروں پر بدرجۂ اولیٰ منع ہوگی۔ کیونکہ آپ ﷺ کی فضیلت تو نصِ قطعی سے ثابت ہے، اس کے باوجود جب آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو منع فرمایا تو مشائخ اور اولیائے کرام تو آپ ﷺ کے تابع اور پیرو ہیں، اور ولایت نبوت کی فرع ہے۔ لہٰذا ان کو چاہیے کہ اپنی تفضیل دوسروں پر ہرگز نہ کریں، کیونکہ یہی اتباعِ سنت ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک کس کا کیا مرتبہ ہے۔

فرمایا کہ دو آدمی تھے۔ ان میں ایک صاحب سلسلۂ قادریہ سے تھے اور وہ اپنے سلسلے کو ترجیح دیتے تھے۔ آخر وہ حضرت حاجی صاحب کے پاس گئے اور ان سے اپنی رائے دریافت کی، اور اپنی تائید میں حضرت پیرانِ پیرؒ کا یہ ارشاد پیش کیا: قَدَمِیْ ہٰذِہٖ عَلٰی رَقَبَۃٍ کُلِّ وَلِیٍّ (یعنی میرا قدم تمام اولیاء کی گردن پر ہے)۔ اس پر حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ اس سے افضلیت ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ صوفیاء کا متفقہ اصول ہے کہ نزول عروج سے افضل ہے۔ لہٰذا ممکن ہے کہ حضرت غوثِ اعظمؒ اس وقت عروج میں ہوں اور دوسرے حضرات نزول میں ہوں۔

اہل اللہ کی دولتِ باطنی کے اثرات کے بارے میں حکیم اجمیری صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کی خدمت میں حاضری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب تک یہاں رہتا ہوں، اپنے قلب میں الحمدللہ ایک خاص سکون اور اطمینان محسوس کرتا ہوں۔ اگر دوسری ذمہ داریاں نہ ہوتیں تو دل یہی چاہتا ہے کہ یہیں رہوں۔ ہمارے ایک بھائی محمد احمد صاحب کی پیشین گوئی بھی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب تم مستقل الہٰ آباد میں قیام کرو گے۔

فرمایا کہ حیاتِ طیبہ دراصل اسی باطنی دولت کا نام ہے، جو ظاہری سلطنت سے بھی بڑھ کر ہے۔ اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ اگر بادشاہوں کو اس کی حقیقت معلوم ہو جائے تو وہ اس کے حاملین پر لشکر کشی کریں۔ بزرگوں کے بے شمار واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کی برکت سے اس دنیا میں بھی انہیں بڑے بڑے کمالات سے نوازا ہے۔

نیک عورتوں کی کرامتوں کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا گیا کہ ایک عورت سے کہا گیا کہ اس کا لڑکا تالاب میں ڈوب گیا ہے۔ یہ سن کر وہ تالاب کے کنارے گئی اور اپنے بیٹے کو نام لے کر پکارا۔ لڑکے نے اندر سے جواب دیا: جی اماں۔ اس نے کہا باہر آ جاؤ، چنانچہ وہ فوراً باہر آ گیا۔ اسے خرقِ عادت کہتے ہیں، جو اولیاء اللہ کو حاصل ہوتا ہے۔ لوگوں نے اس عورت سے پوچھا کہ تمہیں کیسے یقین ہوا کہ وہ زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ایسا معاملہ فرماتے ہیں کہ جو بات ہونے والی ہوتی ہے، پہلے ہی اس کی اطلاع دے دیتے ہیں۔ اس معاملے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی، اس لیے میں نے سمجھ لیا کہ میرا بیٹا زندہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے معمول کے خلاف نہیں کرتے۔ اس عورت کی اسی ایک کرامت کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ صورت پیدا فرمائی تاکہ لوگ اس سے سوال کریں اور اس کی کرامت ظاہر ہو۔

(ماخوذ: افاداتِ حکیم الامتؒ، صفحہ 22 تا 24، مؤلفہ حضرت از حبیب الامتؒ)


شیر کو ڈانٹا

ایک صاحب کسی بزگ کے یہاں گئے ندی کے کنارے استنجاء کیلئے گئے وہاں ایک شیر رہتا تھا اس نے دوڑ ایا ان بزرگ کو جب یہ معلوم ہوا تو خود وہاں پہنچ گئے اور شیر کو ڈانٹ کر کہا کہ میں نے تجھے نہیں منع کیا ہے کہ میرے مہمانوں سے تعرض مت کیا کر شیر دم ہلانے لگا پھر ان صاحب کی جانب مخاطب ہوکر فرمایا کہ بھائی ہم نے دل کو صاف کیا ہے تو شیر ہم سے ڈرتا ہے اور آپ نے صرف زبان صاف کی ہے اس لئے آپ شیر سے ڈرتے ہیں۔

اللہ والوں کے پاس اپنے دل کی حفاظت کرو تاکہ کسی بدگمانی کی وجہ سے شرمندگی نہ ہو۔‘‘ فرمایا :’’ وَیَوْمٌ عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِمَّا تَعُدُّوْنَ‘‘۔ ’’یعنی ایک دن تمہارے رب کے نزدیک ہزار سال کے برابر ہوگا ان دنوں میں سے جس کو تم شمار کرتے ہو‘‘ ۔ تم نے کبھی اس آیت میں غور تو نہیں کیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں کیا تھا۔ فرمایا تم کو اس واقعہ کے ذریعہ اس کا جواب دیاگیا۔ میں کہتا ہوں کہ ان سب باتوں کوبھی ماننا ہوگا۔ ایمان وتصدیق ہی سے کام چلے گا۔ جو لوگ دنیا میں عقلاء کہلاتے ہیں ان کی عقل رکھی رہ جائے گی اور ا یمان والا جنت میں چلا جائے گا۔ کس کام کی ہے یہ عقل جو انسان کو دوزخ سے بھی نہ بچا سکے۔ بڑے بڑے مدعیان عقل کو وہاں دوزخ میں دیکھئے گا۔

جہنم میں چلے جاؤ

ایک انگریز اپنے ایک خانساماں پر بہت خفا ہوا۔ اور اس کو بہت ڈانٹا اور کہا کہ چلا جا یہاں سے۔ اس نے کہا حضور کہا جائوں گا؟ انگریز نے غصہ سے کہا جہنم میں جائو۔ چنانچہ وہ خانساماں چلا گیا۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر گھومتا رہا اس کے بعد آیا ۔ انگریز کی نظر جونہی اس پر پڑی اس نے پھر بڑی زور سے ڈانٹا اور کہا کہ تو گیا نہیں۔ خانساماں نے کہا کہ حضور گیا تھا۔ آپ نے جہنم میں جانے کو کہا تھا مگر وہاں جگہ نہیں تھی۔ سب صاحب لوگ بھرے تھے اس لئے واپس چلا آیا۔ اس پر انگریز کو ہنسی آگئی اور اس کا قصور معاف کردیا اور اس سے خوش ہوگیا۔

ایثار کا عجیب وغریب واقعہ

کچھ لوگوں نے بادشاہ کے سامنے ایک جماعت کی شکایت کی۔ بادشاہ نے قتل کا حکم دے کر انہیں جلاد کے پاس بھجوادیا ان لوگوں میں سے ہر ایک نے پیش قدمی کی کہ جلاد پہلے اسے قتل کرے جلاد کو ان کے اس فعل پر تعجب ہوا۔ اس نے پوچھا کہ عام دستور تو یہ ہے کہ لوگ جان بچاتے ہیں ۔ آپ لوگوں نے جو پیش قدمی کی اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم صوفی لوگ ہیں۔ ہمارا مذہب ایثار ہے یعنی خیر میں اور نیک کام میں ہم اپنے بھائی کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اس لئے ہم نے یہ چاہا کہ ہمارا بھائی ہم سے زیادہ دیر جی لے جلاد کو ان کا یہ جواب سن کر بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے ان سب کو قاضی کے پاس یہ کہہ کر واپس کردیا کہ یہ لوگ نیک معلوم ہوتے ہیں ان کے فیصلہ پر نظر ثانی کرلی جائے۔

قاضی نے ان سے گفتگو کی تو ان لوگوں نے اس کے سامنے بھی ایسی تقریر کی کہ قاضی رونے لگا اور بادشاہ کے پاس کہلایا کہ یہ لوگ نہایت ہی پاک باطن ہیں کسی نے آپ سے ان کی شکایت کر دی ہے؟ اگر یہی لوگ مسلمان نہیں ہیں تو پھر اس وقت روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں اور یہ بھی کہا کہ وہ تو خیریت ہوگئی ورنہ آج کیسے کیسے لوگ قتل ہوجاتے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button