قومی خبریں

مودی حکومت کی اپیل پر اپوزیشن کا حملہ، راہل گاندھی نے معاشی پالیسیوں کو ناکام قرار دیا

یہ عوام کے لیے مشورہ نہیں بلکہ حکومت کی معاشی ناکامی کا اعتراف ہے۔

نئی دہلی 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام کو سونا نہ خریدنے، پٹرول و ڈیزل کا محدود استعمال کرنے، بیرون ملک سفر کم کرنے اور گھر سے کام کرنے کی اپیل کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں نے اس بیان کو حکومت کی معاشی ناکامی کا اعتراف قرار دیتے ہوئے مرکز پر شدید تنقید کی۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر اعظم کی اپیل کو ’’ناکامی کا ثبوت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کو ایسے حالات تک پہنچا دیا ہے جہاں عوام کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ وزیر اعظم عوام سے قربانیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت عوام کو سونا نہ خریدنے، بیرون ملک سفر محدود رکھنے، کم پٹرول استعمال کرنے، کھاد اور خوردنی تیل کی کھپت گھٹانے، میٹرو میں سفر کرنے اور گھر سے کام کرنے کا مشورہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاشی رہنمائی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں میں ناکام ہو چکی ہے۔

کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں حکومت نے معیشت کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اب عوام کی روزمرہ زندگی تک میں مداخلت کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ہر بحران میں حکومت اپنی ذمہ داری عوام پر ڈال دیتی ہے تاکہ خود جوابدہی سے بچ سکے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ملک چلانا اب ’’سمجھوتہ کرنے والے وزیر اعظم‘‘ کے بس کی بات نہیں رہی۔

دوسری جانب کانگریس پارٹی نے بھی اپنے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے کہا کہ ملک معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور حکومت وقت پر ضروری اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کانگریس کے مطابق انتخابی سیاست میں مصروف رہنے کی وجہ سے حکومت نے معاشی چیلنجز کی جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دی، جس کا خمیازہ اب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

کانگریس نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ عوام کو پٹرول، ڈیزل، سونا، کھاد اور خوردنی تیل کے استعمال میں کمی کی تلقین کی جا رہی ہے جبکہ حکومت خود اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ راہل گاندھی پہلے ہی ممکنہ معاشی بحران کے بارے میں خبردار کر چکے تھے، لیکن حکومت نے اس تنبیہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنا چاہیے تاکہ قوم کو بتایا جا سکے کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک کے عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے اور اچانک اس طرح کی اپیلیں کرنے کے بجائے مکمل صورتحال واضح کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تلنگانہ میں ایک پروگرام کے دوران عوام سے کئی اپیلیں کی تھیں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا تھا کہ جہاں ممکن ہو گھر سے کام کرنے کو ترجیح دی جائے، سونے کی خریداری کم کی جائے یا ایک سال کے لیے روک دی جائے، بیرون ملک سفر کے بجائے ملک کے اندر سیاحت کو فروغ دیا جائے، عوامی ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کیا جائے اور دیسی مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کسانوں سے کھادوں کے محدود استعمال کی بھی اپیل کی تھی۔

حکومت کی ان اپیلوں کو جہاں ایک طبقہ قومی مفاد سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے، وہیں اپوزیشن اسے بڑھتے معاشی دباؤ، مہنگائی اور حکومتی ناکامی کی علامت قرار دے رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بیان کے بعد بحث مزید تیز ہو گئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ پارلیمنٹ سے لے کر عوامی جلسوں تک موضوع بحث بنا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button