بین الاقوامی خبریں

لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی، پھر بھی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ترکی پرکشش کیسے؟

لندن، 21 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترک کرنسی لیرا LIRA کی قدر میں ریکارڈ کمی اور عالمی سطح پر سپلائی چین کے بحران کے درمیان امید کی ایک کرن بھی موجود ہے۔ترک لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی اور عالمی سطح پر سپلائی چین کے بحران کے درمیان امید کی ایک کرن بھی موجود ہے۔

یوں ترکی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے پرکشش متبادل کے طور پر ایک ایسا ملک ہے، جس کے دروازے یورپ کی طرف کھلتے ہیں۔ترکی جغرافیائی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ایسا ملک جو دو بر اعظموں، ایشا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔

اقتصادی اعتبار سے اس وقت ترکی اپنی کرنسی کی قدر انتہائی حد تک گر جانے اور کورونا وائرس کی وبا کے گہرے منفی اثرات کے سبب اقتصادی بحران کا شکار ہے۔

اس کے باوجود انقرہ حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ وہ ترکی کی منفرد جغرافیائی حیثیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ غیر ملکی کمپنیوں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کا قائل کرے۔دنیا کے دیگر خطوں کی طرح یورپ میں بھی کورونا کی وبا کی پیدا کردہ مشکلات کے باعث تقریباً ہر ملک کا نظام کاروبار ، خاص طور پر درآمدات اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

سمندری مال برداری میں رکاوٹوں اور تاخیر کی بحرانی صورت حال کے پیش نظر یورپ کے کئی ممالک کو روزمرہ استعمال کی اشیا سے لے کر بڑی بڑی مشینوں اور کارخانوں کے لیے پرزوں کی شپنگ تک کی خاطر دیگر ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

وہاں اب مال کی سپلائی پر اٹھنے والی لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ایسے میں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے برآمدات کے لیے ایک نئے نعرے کو فروغ دیا ہے۔ اب انقرہ حکومت غیر ملکی کمپنیوں کو ترغیب دے رہی ہے کہ وہ ایشیا پر اپنا انحصار کم کریں۔

ایردوآن، جن کی پالیسیوں کو ترک کرنسی لیرا کی قدر میں کمی کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے، اب برآمدات کے فروغ کے لیے ایک نیا نعرہ لگا رہے ہیں۔

اب تک بین الاقوامی سطح پر پہچانے جانے والے اقتصای نعرے Made in Turkey کے بجائے اس نعرے کو جزوی طور پر ترک زبان کا استعمال کرتے ہوئے کر دیا گیا ہے۔ترک صدر کا نیا وژن جتنا بھی پرکشش نظر آئے، اسے عملی شکل دینے میں ایردوآن کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور مستقبل میں یہ چیلنجز اور بھی زیادہ ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button