روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 11 افراد ہلاک، تاریخی مذہبی مقام کو شدید نقصان
یوکرین میں دہشت کی رات، روسی حملوں کی زد میں آیا تاریخی لاورا کمپلیکس
کیف، 15 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)روس نے پیر کی شب یوکرین کے مختلف شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کرتے ہوئے تباہی مچا دی۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس وسیع کارروائی میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہوئے جبکہ راجدھانی کیف سمیت کئی شہروں میں رہائشی عمارتوں، بازاروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
یوکرینی حکام کے مطابق خارکیف میں ایک مقام پر آگ بجھانے اور امدادی کاموں میں مصروف اہلکاروں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پہلے حملے کے بعد متاثرہ علاقے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کارروائی میں پانچ امدادی کارکن جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔ یوکرینی وزارت داخلہ نے اس واقعے کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی خدمات انجام دینے والے اہلکاروں پر حملہ عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب کیف میں رات بھر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد شہریوں نے زیر زمین پناہ گاہوں کا رخ کیا۔ حکام کے مطابق متعدد رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں، بازاروں اور دکانوں میں آگ لگ گئی جبکہ کم از کم 13 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
کیف سٹی انتظامیہ کے مطابق شیوچینکیوسکی ضلع میں مختصر وقت کے اندر کئی دھماکے ہوئے جن سے ایک بلند و بالا رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ اوبولونسکی ضلع میں بھی ایک رہائشی عمارت حملے کی زد میں آ گئی۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔
حملوں کے دوران یوکرین کے اہم ترین تاریخی اور مذہبی مراکز میں شمار ہونے والے کیف-پیچیرسک لاورا کمپلیکس کو بھی نقصان پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق کمپلیکس کے مرکزی حصے ڈورمیشن کیتھیڈرل کی چھت میں آگ بھڑک اٹھی جسے بعد میں قابو میں لایا گیا۔ یہ مقام صدیوں پر محیط تاریخ کا حامل ہے اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی توجہ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یوکرینی آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ میٹروپولیٹن ایپی فینیئس نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی اور مذہبی ورثے کو نقصان پہنچانا انسانیت کے مشترکہ ثقافتی اثاثوں پر حملے کے مترادف ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس مقام کو پہنچنے والا نقصان صرف یوکرین ہی نہیں بلکہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے بھی افسوسناک ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے الگ الگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی ہے۔ یوکرین جنگ اس ہفتے فرانس میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہ اجلاس کا بھی اہم موضوع بننے جا رہی ہے، جہاں زیلنسکی عالمی رہنماؤں سے مزید دفاعی تعاون اور روس پر دباؤ بڑھانے کی اپیل کریں گے۔
تین سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ میدان جنگ کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تازہ کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



