بین الاقوامی خبریں

لائیو شو میں یوکرین جنگ پر احتجاج کرنے والی روسی خاتون اینکر گرفتار

لندن؍ماسکو، 18 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) براہِ راست نشریات کے دوران روس کی یوکرین میں جنگ پر احتجاج کرنے والی روسی خاتون اینکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔خاتون صحافی مارینا اوسینیکووا کے وکیل نے اپنی موکلہ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس مارچ میں خاتون اینکر نے براہِ راست نشریات کے دوران روس کی یوکرین میں جارحیت پر تنقید کی تھی۔مارینا اوسینیکووا کی گرفتاری کے بارے میں ابھی تک سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن ان کی گرفتاری ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب چند دن پہلے ہی 44 سالہ صحافی نے کریملن کے نزدیک یوکرین جنگ کیخلاف مظاہرہ کیا تھا۔

اس مظاہرے میں انہوں نے ایک پلے کارڈ بھی اٹھا رکھا تھا جس پر روس کی جانب سے یوکرین میں جاری جارحیت اور صدر ولادیمیر پوٹن پر تنقید کی گئی تھی۔مارینا کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر ان کے ساتھیوں نے لکھا ہے کہ مارینا زیر حراست ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔اس پیغام کے ساتھ تین تصاویر بھی پوسٹ کی گئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مارینا کو سائیکل پر سواری کرتے ہوئے پولیس اہلکار روک کر ایک سفید رنگ کی وین میں زبردستی بٹھا رہے ہیں۔مارینا کے وکیل دمتری زاخواتوف نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ مارینا کو کہاں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مارینا کی گرفتاری کا تعلق ان کا حال ہی میں احتجاج کرنا ہو سکتا ہے۔

رواں برس مارچ میں روس کے چینل ون ٹیلی ویژن میں بطور ایڈیٹر کے کام کرنے والی مارینا اوسینیکووا شام کے وقت کی نشریات میں نمودار ہوئی تھیں۔ انہوں نے ایک پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس میں انگریزی میں لکھا تھا ’نو وار‘ یعنی جنگ نامنظور۔جمعے کو مارینا نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں انہوں نے ایک مظاہرے کے دوران ایک پلے کارڈ پکڑ رکھا تھا جس پر جنگ کے دوران بچوں کے قتل کی مذمت کے علاوہ پوٹن کو قاتل قرار دیا گیا تھا۔روس میں اس قسم کے مظاہروں پر غلط معلومات اور فوج پر تنقید کے زمرے میں آنے کے باعث قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔

مارچ میں ٹیلی ویژن پر احتجاج کرنے کے بعد مارینا دنیا بھر میں معروف ہوگئی تھیں۔ان کے براہ راست نشریات میں مداخلت کرنے کی تصاویر دنیا بھر میں وائرل ہوئی تھیں۔انہیں عارضی طور پر گرفتار کرنے کے بعد جرمانے کے ساتھ رہا کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ زیادہ تر بین الاقوامی مبصرین نے ان کے مظاہرے پر ان کی تعریف کی تھی لیکن کچھ لوگوں نے ان پر تنقید بھی کی تھی۔کچھ ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ پروی کنال نامی چینل میں کئی برس تک کام کرتی رہیں جو کرملن کے بیانیے کے قریب بتایا جاتا ہے۔

مارچ میں احتجاج کے واقعے کے بعد وہ چند مہینے ملک سے باہر رہیں تھیں۔ اس دوران انہوں نے جرمنی کے ایک اخبار ڈائی ویلٹ کے لیے بھی کام کیا تھا۔جولائی کے اوائل میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کی کسٹڈی کے سلسلے میں روس واپس جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button