
دہلی:مسجد و مندر کے قریب گوشت فروخت کرنے پر لگی پابندی
دہلی میں مذہبی مقامات کے قریب گوشت فروخت کرنے پر پابندی لگ گئی ہے۔
نئی دہلی ، یکم نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)دہلی میں مذہبی مقامات کے قریب گوشت فروخت کرنے پر پابندی لگ گئی ہے۔ مندروں، مساجد، گرودواروں اور شمشان کے 150 میٹر کے اندر گوشت کی دکانیں نہیں کھل سکیں گی۔ دہلی میونسپل کارپوریشن ہاؤس نے منگل (31 اکتوبر) کو گوشت کی دکان کے لائسنس کی پالیسی سمیت 54 تجاویز کو منظوری دی۔ نئی پالیسی کے تحت کسی بھی مذہبی مقام اور گوشت کی دکان کے درمیان کم از کم 150 میٹر کا فاصلہ ہوگا۔مسجد کمیٹی یا امام صاحب سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد گوشت مسجد کے قریب فروخت کیا جا سکتا ہے۔
تاہم مسجد کے 150 میٹر کے اندر حرام (خنزیر) کا گوشت فروخت کرنے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نئی میٹ شاپ لائسنس پالیسی محکمہ ویٹرنری سروسز کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نافذ العمل ہو گی۔ ایم سی ڈی نے کہا کہ یہ فیصلہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔ایم سی ڈی نے کہا کہ دکانداروں کو لائسنس صرف اس صورت میں دیا جائے گا جب وہ مذہبی مقامات سے 150 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں گے۔
ایم سی ڈی نے کہا کہ دکانداروں کو لائسنس صرف اس صورت میں دیا جائے گا جب وہ مذہبی مقامات سے 150 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں گے۔ اس پالیسی میں گوشت کی چھوٹی دکانوں، پروسیسنگ یونٹس، پیکیجنگ یا اسٹوریج پلانٹس کے لیے لائسنس دینے اور ان کی تجدید کے حوالے سے نئے قوانین بنائے گئے ہیں۔اس کے مطابق دہلی کے سابقہ شمالی، جنوبی اور مشرقی کارپوریشنوں میں گوشت فروخت کرنے کے لائسنس اور تجدید کی فیس دکانوں کے لیے 18,000 روپے اور پروسیسنگ یونٹس کے لیے 1.5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ لائسنس جاری ہونے کے بعد تجدید کی فیس اور جرمانے میں ہر تین سال بعد 15 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔گوشت کے تاجروں نے ایم سی ڈی کی نئی لائسنسنگ پالیسی کی مخالفت کی ہے۔ دہلی میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ پہلے غیر قانونی گوشت کی دکانوں کے لائسنس کی تجدید کے لیے 2,700 روپے ادا کرنے پڑتے تھے۔ اب اسے بڑھا کر 7000 روپے کر دیا گیا ہے۔ دکانداروں کے لیے اتنی قیمت دینا مشکل ہے۔ اگر ایم سی ڈی نے لائسنس پالیسی واپس نہیں لی تو وہ اس کے خلاف عدالت جائیں گے۔



