بین الاقوامی خبریں

پاکستان کے اہم شخصیات کی مبینہ آڈیوز لیک وزیر اعظم ہاؤس کی رازداری پر حزب اختلاف کے سوالات

اسلام آباد، 26ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس میں مبینہ طور پر خفیہ ریکارڈ کی گئی متعدد آڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہوئی ہیں، جن میں تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکانِ اسمبلی کے استعفوں کی منظوری لندن سے لیے جانے اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز کے داماد کے لیے بھارت سے پاور پلانٹ کے کچھ حصے منگوانے جیسی گفتگو موجود ہے۔اس معاملے پر تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت مہنگائی کم کرنے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کے لیے اقتدار میں آئی ہے۔ آڈیو لیک سے واضح ہوگیا کہ مریم نواز کے داماد نے بھی پیسے بنائے ہیں۔

حکومت کی طرف سے اس معاملے پر اب تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ وائس آف امریکہ کی طرف سے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لییوفاقی وزیرِ اطلاعات مریم نواز کو ارسال کیے گئے پیغام پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔لیک ہونے والی آڈیوز میں وفاقی وزیرِِ داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر دفاع خواجہ آصف، ایاز صادق سمیت دیگر رہنماؤں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔وزیر اعظم ہاؤس کی آڈیو لیک ہونے کے بعد ناقدین کی جانب سے وزیرِ اعظم ہاؤس کی سکیورٹی اور رازداری پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔وزیرِ اعظم ہاؤس کی کئی آڈیوز لیک ہوئی ہیں جن میں مختلف معاملات سامنے آئے ہیں۔

ایک آڈیو وزیر اعظم اور کسی اعلیٰ افسر کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ہے۔ دوسری آڈیو میں وزیرِ اعظم شہباز شریف ، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ ، ایاز صادق اور کسی اعلیٰ سرکاری افسر کی گفتگو کی ہے جب کہ تیسری آڈیو مریم نواز سے متعلق ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر ایک آڈیو شیئر کی ہے، جس میں مبینہ طور پر وزیرِ اعظم شہباز شریف سرکاری افسر کو بتا رہے ہیں کہ مریم نواز نے بھارت سے اپنے داماد کے لیے پاور پلانٹ منگوانے کے لیے سفارش کی۔ آدھا پاور پلانٹ بھارت سے آ چکا ہے جب کہ باقی پاکستان منتقل کرنا باقی ہے۔

سرکاری افسر وزیر اعظم کو تجویز دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ اہم معاملہ ہے۔ وزیرِ اعظم کے رشتہ دار ہونے کے ناطے اس معاملے پر شور ہوگا۔ یہ بات پہلے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے منظور ہوگا اس کے بعد وفاقی کابینہ میں منظوری کے لیے جائے گا۔ اس لیے یہ معاملہ گلے پڑ سکتا ہے۔اس پر مبینہ آڈیو میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ ترکی سے واپسی پر مریم نواز سے وہ خود بات کریں گے۔اعلیٰ افسر نے تجویز دی کہ یہ معاملہ اسحاق ڈار پر چھوڑ دیں وہ معاملے طے کرلیں گے۔ پہلے بھی ایک گاڑی انہوں نے اس طرح کی تھی۔

وزیر اعظم ہاؤس کے اعلیٰ افسر نے مزید کہا کہ مریم نواز نے دوسرا کام اتحاد ٹاؤن کے لیے گرڈ اسٹیشن کا کہا ہے۔اسی طرح ایک اور آڈیو لیک جو کہ مبینہ طور پر وفاقی کابینہ کی معلوم ہوتی ہے، اس میں تحریکِ انصاف کے قومی اسمبلی کے ارکان کے مستعفی ہونے سے متعلق حتمی منظوری لندن سے لیے جانے پر مشاورت کی گئی۔وائرل آڈیو میں وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، ایاز صادق اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان گفتگو ہوئی ہے۔اس آڈیو میں مسلم لیگ(ن) کے رہنما تحریکِ انصاف کے بعض ارکان کے استعفوں کو قبول کرنے پر حکمت عملی پر بحث کر رہے ہیں۔

آڈیوز لیک کے معاملے پر عمران خان نے مزید کہا کہ مریم نواز کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ ان سے سچ نہیں بولا جاتا۔ مریم نواز موجودہ حکومت میں ناجائز کام کرا رہی ہیں۔ یہ جو آڈیوز لیک ہوئی ہے اس سے واضح ہوگیا ہے کہ مریم نواز کے داماد نے بھی پیسے بنائے ہیں۔ ہماری حکومت نے بھارت کے ساتھ تجارت بند کی تھی لیکن انہوں نے کاروبار شروع کر دیا۔سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایک مبینہ آڈیو میں اسحاق ڈار کی واپسی کے لیے میدان سجایا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button