
شاہ رخ، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو Vimal اشتہار پر شوکاز نوٹس، 15 دن میں جواب طلب
مہاراشٹر ایف ڈی اے نے تینوں اداکاروں سے 15 دن میں جواب طلب کرلیا
ممبئی، 17 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے Vimal الائچی کے اشتہار کے معاملے میں بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ محکمہ نے تینوں اداکاروں سے اشتہار میں اپنی وابستگی کے حوالے سے وضاحت طلب کرتے ہوئے 15 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
مہاراشٹر ایف ڈی اے کے مطابق Vimal الائچی کے نام سے نشر ہونے والی تشہیری مہم بظاہر الائچی کی تشہیر کرتی ہے، تاہم اس میں استعمال ہونے والا Vimal برانڈ صارفین کے ذہن میں پان مسالہ سے جڑا تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ محکمہ کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی تشہیر ممنوعہ مصنوعات کی بالواسطہ تشہیر یا سرروگیٹ ایڈورٹائزنگ کے زمرے میں آسکتی ہے۔
ریاستی فوڈ سیفٹی حکام نے اپنے نوٹس میں واضح کیا ہے کہ مہاراشٹر میں پان مسالہ کی تیاری، ذخیرہ، نقل و حمل، تقسیم اور فروخت پر پابندی عائد ہے۔ ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ کسی ایسے برانڈ نام کا استعمال جو بنیادی طور پر پان مسالہ سے وابستہ ہو، ایک الگ مصنوعات کے نام پر اشتہار کے باوجود ممنوعہ مصنوعات کی برانڈ شناخت کو برقرار رکھنے یا اسے مزید مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
محکمہ نے شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو اس تشہیری مہم میں اپنی شرکت فوری طور پر روکنے اور اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلقہ پروموشنل مواد ہٹانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ حکام نے اداکاروں سے اینڈورسمنٹ معاہدوں، اشتہاری مہم کے بریف، معاوضے کی تفصیلات اور اس بات سے متعلق دستاویزات بھی طلب کی ہیں کہ اشتہار میں شامل ہونے سے قبل قانونی اور دیگر پہلوؤں کی جانچ کس حد تک کی گئی تھی۔
ایف ڈی اے نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ اگر Vimal نام کے ذریعے الائچی یا کسی ملتی جلتی مصنوعات کی تشہیر کا مقصد صارفین کے درمیان پان مسالہ برانڈ کی شناخت اور کشش کو برقرار رکھنا یا بڑھانا ثابت ہوتا ہے تو اسے محض ایک آزاد مصنوعات کا اشتہار نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسی صورت میں معاملہ ممنوعہ یا محدود مصنوعات کی بالواسطہ تشہیر کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
متعلقہ صارف تحفظ قوانین کے تحت گمراہ کن تشہیر اور غیر موزوں اینڈورسمنٹ پر جرمانے کے علاوہ بعض حالات میں مشہور شخصیات کو مخصوص مدت تک مصنوعات کی تشہیر سے روکنے کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں تسلی بخش وضاحت نہ ملنے کی صورت میں قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔
Vimal کے اشتہارات کو لے کر اس سے قبل بھی تنازع سامنے آ چکا ہے۔ 2022 میں اکشے کمار، شاہ رخ خان اور اجے دیوگن کے ساتھ Vimal Elaichi کے اشتہار میں نظر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد اکشے کمار نے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تمباکو کی تشہیر نہیں کرتے اور آئندہ اشتہاری معاہدوں کے انتخاب میں زیادہ محتاط رہیں گے۔
تازہ معاملے میں ایف ڈی اے کے نوٹس نے ایک بار پھر فلمی ستاروں کی جانب سے پان مسالہ اور اس سے وابستہ برانڈز کی تشہیر پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اب شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کی جانب سے جمع کرائی جانے والی وضاحت اس معاملے میں آئندہ کارروائی کی سمت طے کرنے میں اہم ہوگی۔



