دمشق؍دبئی، 18 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) شام کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ان دنوں جنوبی دمشق کی جنگ سے تباہ حال حجر الاسود نامی کالونی میں چینی فلم کی عکس بندی کی تصاویر گردش کر رہی ہیں۔دوسری جانب شام میں جنگ کی ہولناک تباہی کے مناظر زبان حال سے بشار الاسد حکومت کی بے حسی کا ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں حجر الاسود کالونی کے ملبے کے ڈھیر پر چینی فلم کی عکس بندی کی اجازت دیئے جانے پر شامی عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔سوشل میڈیا صارفین اس امر پر حیران ہیں کہ شامی حکومت نے بین الاقوامی فلم پروکشن یونٹ کو الحجر الاسود میں ہر سو پھیلے تباہی کے مناظر کو کیونکر فلم بند کرنے کی اجازت دی جبکہ وہاں سے بے دخل ہونے والے خاندانوں کو اپوزیشن فورسز کے انخلا کے باوجود واپس نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔
کثیر ملکی فلم پروڈکشن یونٹ جنوبی دمشق کی تباہ حال الحجر الاسود کالونی میں ’ہوم آپریشن‘ نامی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہے۔ یہ فلم 2015 میں چینی بحریہ کی مدد سے یمن سے تقریباً چھ سے چینی باشندوں اور دو سو دوسرے غیر ملکیوں کے انخلا کی کارروائی پر مبنی ہے۔چین کے بین الاقوامی ٹیلی وژن نیٹ ورک کے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے چینل نے بھی گذشتہ جمعرات کو ’ہوم آپریشن‘ کی عکس بندی پر مبنی ایک رپورٹ چلائی ہے جس میں فلم کے کریو کے ہمراہ دمشق میں چینی سفیر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو رپورٹ کے مطابق ’شام میں پہلی چینی فلم‘ کی شوٹنگ کا آغاز ہو رہا ہے۔چین کے عرب چینل کے مطابق فلم کی کہانی 2015 میں یمن سے چھ سو چینی شہریوں، سفارتی عملے اور مختلف ملکوں کے دو سو شہریوں کے انخلا سے متعلق چینی بحریہ کے آپریشن پر مبنی ہے۔رپورٹ کے مطابق فلم کے آئیڈیا پر سوچ بچار میں چار برس لگے، اس دوران پروڈیوسر جیکی چن نے آرٹ میکر پروڈکشن نامی اماراتی کمپنی کے ساتھ مل کر سٹوری بورڈ کے مطابق فلم بندی کے لئے کئی ملکوں میں لوکیشنز کا جائزہ لیا۔
فلم کریو کو کرونا وبا کے باعث مشرق وسط اور افریقہ کے کئی مقامات پر شوٹنگ کے لئے مناسب جگہیں تلاش کرنے میں انتہائی مشکلات پیش آئیں۔چینی انٹرنیشنل چینل سے بات کرتے ہوئے فلم کے پروڈیوسر سون ین شی نے بتایا کہ فلم کا مقصد صرف چینی حکومت کی پالیسی کے فلسفے پر روشنی ڈالنا نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ’’چین کی طرف سے بین الاقوامی تعلقات قائم کرنے کی نئی کوشش کو سامنے لانا ہے جس کا مقصد پرانے سلک روٹ کے فوائد سے دنیا کو مشترکہ طور پر بہرہ مند کرنا ہے۔
رپورٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شام میں ہونے والی لڑائی کے بعد جنوبی دمشق کی الحجر الاسود کالونی پتھروں اور مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جنگ بندی کے بعد یہاں سے انخلا کر جانے والوں کی انتہائی محدود تعداد واپس آئی ہے، جبکہ وسیع رقبے پر عمارتوں کے تباہ حال ڈھانچے اپنے باسیوں کی راہ تک رہے ہیں۔چینی فلم کی عکس بندی الحجر الاسود کالونی کے علاوہ دوسرے تباہ حال علاقوں بشمول دمشق کے نزدیک داریا اور دوما کے شہروں اور شام کے وسطی شہر حمص میں بھی کی جائے گی۔



