ریاض، 16 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، وزیر برائے سرمایہ کاری، مواصلات اور صحت نے اپنے امریکی ہم منصوبوں کی موجودگی میں مشترکہ تعاون کے 18 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت کے نام نہاد ویژن 2030 کی روشنی میں سامنے آئے ہیں۔
ان معاہدوں سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں دونوں اقوام کے مفادات کی خاطر سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں گے۔دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں سے 13 پر وزارت توانائی، وزارت سرمایہ کاری، رائل کمیشن برائے جبیل اور ینبع اور نجی شعبے کی متعدد کمپنیوں نے بوئنگ جیسی معروف امریکی کمپنیوں کے ایک گروپ کے ساتھ دستخط کیے تھے۔
اس کے علاوہ ایرو اسپیس انڈسٹریز، ریتھیون ڈیفنس انڈسٹریز، میڈٹرونک اور ڈیجیٹل ڈائیگناسٹک اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں IKVIA اور توانائی، سیاحت، تعلیم، مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے شعبوں پر دستخط کیے گئے۔سعودی اسپیس اتھارٹی نے امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ساتھ چاند اور مریخ کی تلاش کے لیے آرٹیمس کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔سول ایکسپلوریشن کے شعبے میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے اور چاند، مریخ کے استعمال کے لیے سعودی خلائی ادارے نے ناسا کے ساتھ معاہدہ کیا۔مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک معروف کمپنی IBM کے ساتھ تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں،
تاکہ پانچ سال کے دوران 100,000 نوجوان مرد اور خواتین کو آٹھ اختراعی اقدامات کے حصے کے طور پر قابل بنایا جا سکے جس کا مقصد سعودی عرب کی پوزیشن کو ایک اہم حیثیت سے مضبوط کرنا ہے اور مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے علاقے میں ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کا مرکز بنانا ہے۔مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے یو ایس نیشنل کمیونی کیشن اینڈ انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (NTIA) کے ساتھ تعاون کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کیے،
جس میں دونوں ممالک کے درمیان ’جی فائیو اور جی6‘ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔دونوں ممالک نے شفاف توانائی کے شعبوں میں شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں اس شعبے میں تعاون کے شعبوں اور منصوبوں کی وضاحت اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال میں تعاون سمیت کلین انرجی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے فروغ میں دونوں ممالک کی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔سعودی اور امریکی وزارت صحت نے صحت عامہ، طبی علوم اور تحقیق کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کی ایک یادداشت پر بھی دستخط کیے، جس کا مقصد افراد، تنظیموں اور اداروں کے درمیان صحت عامہ کے شعبوں میں موجودہ تعلقات کو مزید وسیع کرنا ہے۔
خاشقجی قتل کے بعد تمام قانونی تقاضے پورے کیے، بن سلمان کا دعویٰ
سعودی ولی عہد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی شہری خاشقجی کے ساتھ جو کچھ ہوا، افسوسناک ہے۔ اس سلسلے میں تمام قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بات امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات میں کے دوران کہی ہے۔ اہم سعودی سرکاری حکام کے ذرائع سے علم ہوا ہے کہ امریکی صدر اور ولی عہد کے درمیان ملاقات کو طے شدہ دورانیہ ڈیڑھ گھنٹہ تھا مگر یہ ملاقات تین گھنٹوں پر محیط ہو گئی۔ اس دوران بہت سارے ایشوز پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ولی عہد نے دعویٰ کیاکہ سعودی عرب نے خاشقجی کیس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔ خاشقجی کیس میں انوسٹی گیشنز سے لے کر، ٹرائل، سزا اور اس سزا پر عمل درآمد تک کے سب مراحل کو قانون کے مطابق دیکھا ہے۔
نہ صرف یہ بلکہ مملکت نے وہ اقدامات بھی کیے ہیں جن کے بعد اس طرح کے واقعے کا دوبارہ ہونا ممکن نہ رہے گا۔اس ملاقات کے دوران ولی عہد نے صدر جو بائیڈن سے کہا ‘اس طرح کے واقعت دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو سکتے ہیں۔ کہ جس سال خاشقجی کے قتل کا واقعہ پیش آیا اسی سال دیگر کئی صحافی بھی مختلف جگہوں پر قتل ہوئے۔امریکہ کی طرف سے ایسی بے رحمانہ وارداتوں کا ذکر کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ عراق کی ابو غریب جیل کی مثال سب کے سامنے ہے۔
ولی عہد کا کہنا تھا اس لیے ملکوں کے لیے ضروری یہ ہے کہ ان غلطیوں کے ازالے کے لیے تمام قانونی اور لوازمات کا خیال رکھا جائے اور ایسے واقعات کو بار بار ہونے سے روکا جائے۔ولی عہد نے اس دوران فلسطینی امریکی صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر سے پوچھا کہ امریکا اور دوسرے ملکوں نے اس مقتولہ صحافی ابو عاقلہ کے قتل کے بعد اب تک کیا کیا؟
واضح رہے امریکی صدر نے مقتولہ کے اہل خانہ سے دو روز قبل اسرائیلی دورے کے دوران ملاقات سے بھی انکار کیا۔سعودی سرکاری اہلکار کے مطابق اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ تمام ملک خصوصا سعودی عرب اور امریکہ ایسی اقدار بھی رکھتے ہیں جو مشترک ہیں اور ایسی بھی جو باہم مشترک اقدار کے زمرے میں نہیں آتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اچھے اصول اور اقدار دوسرے ملکوں کو بھی متاثر کرنے والی ہوتی ہیں۔
جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے لوگوں کے درمیان ایک دوسرے پر مختلف امور میں انحصار کرنا ہے۔مزید یہ کہا اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ دوسروں پر جو اقدار زبردستی مسلط کی جاتی ہیں وہ رد عمل اور الٹے نتائج کا سبب بنتی ہیں۔ جیسا کہ امریکہ نے عراق اور افغانستان میں کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہو سکا۔ سینئیر سعودی اہلکار نے صدر جو بائیڈن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ ولی عہد نے 2021 میں افغانستان میں ایک پورے خاندان کا ڈرون حملے میں مارا جانا لیکن ابھی تک اس خاندان کو انصاف نہیں مل سکا ہے۔
سعودی ولی عہد نے باور کرانے کی کوشش کی کہ ہر ملک کی الگ اقدار ہو سکتی ہیں۔ ان کا لازما احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ امریکہ صرف ان ممالک کے ساتھ چلے گا جو سو فیصد امریکی اقدار رکھتے ہوں۔ اس ناطے نیٹو ممالک کے علاوہ شاید کوئی ملک نہ ہو گا۔ دوطرفہ تعلقات میں ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کے باوجود چلنا پڑتا ہے۔
سعودی عرب 80 سال سے ہمارا سٹریٹجک اتحادی ہے: سینیٹر کاٹن
ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے سعودی عرب اور اس کی امریکا کی حمایت کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودیہ ایک سٹریٹجک اتحادی کے طور پر امریکا کی حمایت کر رہا ہے۔ کاٹن نے امریکی فاکس نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے امریکی عوام کو تحفظ اور خوشحالی فراہم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ اسی سال تک کام کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کو سعودی عرب کو خارج نہیں کرنا چاہیے اور (امریکی صدر) جو بائیڈن کو شروع سے ہی سعودی رہنماؤں کے ساتھ کام کرنا چاہیے تھا، جیسا کہ امریکی صدر روزویلٹ نے کیا تھا۔ انھیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ سعودی عرب ایک اہم اور مضبوط اسٹریٹجک اتحادی اور ایک فوجی قوت ہے جو امریکی مفادات کو درپیش ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خطے میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔
امریکی سینیٹر نے سعودی عرب کے بارے میں یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب دوسری طرف امریکی صدر سعودے عرب کے دورے پر ہیں۔ امریکی صدر نے کل جمعہ کی شام سعودی عرب کے دورے کے دوران مملکت کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔بائیڈن اور شاہ سلمان کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کے سیشن کے بعد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دونوں ممالک کے حکام کی موجودگی میں امریکی صدر سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد ولی عہد اور بائیڈن کے درمیان جدہ کے السلام محل میں دو طرفہ بات چیت ہوئی۔بائیڈن جدہ کے شاہ عبدالعزیز ہوائی اڈے پر پہنچے تھے جہاں مکہ معظمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل اور امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان نے ان کا استقبال کیا۔
شاہ سلمان اور ولی ٔ عہد کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی: بائیڈن
امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کے دورے کے دوران جدہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ان کی سعودی قیادت کے ساتھ ملاقات مثبت اور تعمیری رہی ہے۔ امریکی صدر آج ہفتے کو جدہ میں ایک اہم علاقائی کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں خلیجی ممالک کے علاوہ اردن، مصر اور عراق کے رہ نما شرکت کررہے ہیں۔بائیڈن نے یمن میں جنگ بندی کی حمایت میں مملکت کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنگ بندی کے استحکام اور حمایت میں کردار ادا کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے سعودی قیادت کے ساتھ جنگ بندی کو مزید گہرا کرنے اور توسیع دینے پر اتفاق کیا۔امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے سعودی قیادت سے خطے میں ایران اور اس کے پراکسیوں کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کی سلامتی اور عسکری ضروریات پر تبادلہ خیال کیا۔بائیڈن نے کہا کہ امریکی افواج سمیت بین الاقوامی امن دستے بحیرہ احمر میں واقع تیران جزیرہ کو چھوڑ دیں گے جہاں وہ 40 سال سے زائد عرصے سے موجود ہیں۔
یہ اقدام اس خطے کی سرمایہ کاری اور سیاحت کے لیے ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے سعودی عرب کے ساتھ توانائی کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہم نے دنیا میں توانائی کی حفاظت اور عالمی اقتصادی ترقی کو سہارا دینے کے لیے مناسب سپلائی کے بارے میں بات چیت کی ہے اور یہ جلد شروع ہو جائے گا۔ میں سپلائی بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہوں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ ایسا ہی ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب گرین انرجی اور سولر انرجی کے ساتھ ساتھ توانائی کی منتقلی کے لیے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کام کو مربوط کرے گا، اور امریکی کمپنیوں کو عالمی معیارات کو اپنانے میں بھی مدد دے گا۔
اسی تناظر میں بائیڈن نے عراق میں بجلی کے نیٹ ورک کو سعودی عرب اور کویت کے ذریعے تعاون کونسل کے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے ایک معاہدے کا انکشاف کیا۔انہوں نے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان 5G انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے شراکت داری کے معاہدے کا بھی اعلان کیا۔ اسی تناظر میں بائیڈن نے کہا کہ واشنگٹن روس اور چین کے لیے مشرق وسطیٰ میں خلا نہیں چھوڑے گا۔ایک اور تناظر میں، بائیڈن نے کہا کہ سعودی ولی عہد جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داروں کے خلاف پہلے ہی اقدامات کر چکے ہیں۔



