استنبول، 14نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترکی کے شہر استنبول کے ایک مصروف علاقے میں زوردار دھماکے میں 6 افراد ہلاک اور 53 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اتوار دھماکے کو ’گھناؤنا حملہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔صدر اردوغان نے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے بیان میں کہا کہ ’ہماری ریاست کی متعلقہ ایجنسیاں اس گھناؤنے حملے کے پیچھے موجود مجرموں کو تلاش کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
قبل ازیں حکام نے بتایا تھا کہ اتوار کو استنبول کی مصروف شاپنگ اسٹریٹ استقلال کو ایک زوردار دھماکے نے ہلا کر رکھ دیا، دھماکے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔دھماکے کے بعد پولیس نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور سائرن بجتے ہی ہیلی کاپٹر شہر کے مرکز پر پرواز کرتے دیکھے گئے۔اتوار کو شہر کے اس علاقے میں سیاحوں اور مقامی افراد کا ہجوم ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دھماکہ ہوتے ہی لوگوں کو بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے دھماکے پر تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے دکانوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے دیکھے جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔دھماکہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر چار بج کر 20 منٹ پر ہوا۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی میں ’دہشت گردی کے واقعے‘ کی شدید مذمت کی ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’استقلال سٹریٹ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بے حد افسوس ہے۔
استنبول دھماکے کا مبینہ منصوبہ ساز گرفتار، کردستان ورکرز پارٹی پر الزام
ترکیہ میں حکام نے استنبول کی استقلال اسٹریٹ میں ہونے والے دھماکے کے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ترکیہ کے نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ داخلہ سلیمان صویلو نے تصدیق کی ہے کہ استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کی منصوبہ بندی کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے سے قبل 21 دیگر افراد کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ان کے مطابق استنبول کی پولیس مرکزی ملزم کی نشان دہی اور گرفتاری میں کامیاب رہی ہے۔
شاہ سلمان اور ولی ٔعہد کا استنبول بم دھماکہ پر ترک صدر سے اظہار ِتعزیت
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کو وسطی استنبول کے علاقے تقسیم میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے کے متاثرین کے لیے تعزیت اور ہمدردی کا مراسلہ بھیجا۔ اس دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں سے بھی اظہار ہمدردی کیا۔شاہ سلمان نے کہا "ہمیں وسطی استنبول کے علاقے تقسیم میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبر ملی۔ ہم اس مجرمانہ فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آپ کے ساتھ دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ مملکت اس سانحہ کے حوالے سے جمہوریہ ترکیہ اور اس کے برادر عوام کی پوری حمایت کرتا ہے۔ ہم آپ سے، جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ، ترک عوام سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے خواہاں ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے ملک اور اس کے لوگوں کو تمام برائیوں اور نقصانات سے بچائے۔
سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی ترک صدر کو بم دھماکے کے متاثرین کے لیے تعزیت اور ہمدردی کا ایک ٹیلی گرام ارسال کیا۔ولی عہد نے کہا کہ "مجھے وسطی استنبول کے علاقے تقسیم میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی خبر ملی۔ میں اس بزدلانہ مجرمانہ فعل کی مذمت اور مذمت کرتا ہوں، میں آپ کی عزت افزائی کرتا ہوں۔ برادر جمہوریہ ترکیہ، اس کے عوام اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہری تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ بھی نے اتوار کے روز استنبول کے تقسیم ضلع کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے کی مذمت کی۔وزارت خارجہ نے اس بزدلانہ فعل کے خلاف جمہوریہ ترکیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وزارت خارجہ متاثرین کے اہل خانہ ، ترک حکومت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔



