
میڈرڈ، 18 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہسپانوی حکومت نے منگل کو ٹین ایجر لڑکیوں کے لیے اسقاط حمل کے حقوق کو وسیع تر بنانے سے متعلق ایک مجوزہ بل کی منظوری دے دی۔ اس بل میں خواتین کارکنوں کو ماہواری کے دوران تنخواہ کے ساتھ چھٹی کے حق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔اس نئے مجوزہ قانونی مسودہ کی منظوری کی صورت میں اسپین یورپ کا پہلا ملک بن سکتا ہے جہاں خواتین کارکنوں کو ماہواری کے دوران تنخواہ کے ساتھ چھٹی کا حق قانونی طور پر مل سکے گا۔ یہ اقدامات ان تجاویز کے پیکیج کا حصہ ہیں جن پر اب ہسپانوی پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔
اس پیکیج میں اسقاط حمل کے حقوق میں توسیع اور 16 اور 17 سال کی نو عمر لڑکیوں کو اسقاط حمل سے پہلے والدین کی رضامندی حاصل کرنے کی لازمی شرط پورا نہیں کرنا ہوگی۔ اسپین کی حکومت کی طرف سے اسقاط حمل کے بارے میں یہ اقدامات ایک ایسے وقت پر کیے گئے ہیں جب ادھر امریکی سپریم کورٹ اسقاط حمل کے آئینی حق کو واپس لینے کے لیے قریب نصف صدی سے جاری کوششوں کے بارے میں اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔
ہسپانوی حکومت کی ایک ترجمان ایزابل روڈریگز نے مجوزہ بل کے بارے میں کہا کہ اس میں پیش کی گئی تجاویز دراصل خواتین کے حقوق کے لیے ایک نیا قدم اور جمہوریت کے لیے بھی نیا قدم آگے بڑھانے کے مترادف ہے۔ہسپانوی حکومت نے ایسی خواتین کارکنوں کو ماہواری کے دوران چھٹی دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے جو اس دوران چند مخصوص دنوں میں جسمانی تکلیف اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار رہتی ہیں۔
یعنی انہیں جتنے دن سخت تکلیف کا سامنا رہے وہ اتنے روز کی چھٹی لے سکیں گی۔ یہ سب کچھ ایک ایسے سرکاری سماجی نظام کے تحت ممکن بنانے کی بات کی جا رہی ہے جس میں آجرین بیماری کے سبب کی جانے والی چھٹیوں کے دوران اجرت ادا نہیں کرتے۔ اسپین میں کسی بھی دوسری عارضی طبی معذوری کی صورت میں ڈاکٹر کے دستخط لازمی ہوتی ہے۔اسپین میں اسقاط حمل کے وسیع تر حقوق اور خواتین کو ماہواری کے دوران پیڈ (Paid) چھٹی‘ دلوانے کے قانونی حقوق کے پیچھے اسپین کی بائیں بازو کی مخلوط حکومت میں شامل پارٹی کا اہم کردار ہے۔
تاہم فوری طور سے واضح نہیں ہے کہ آیا سوشلسٹ قیادت والی اتحادی حکومت کو اس بل کی منظوری کے لیے اور پارلیمان میں مطلوبہ حمایت حاصل ہے۔ قانون سازی کے اس عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ موجودہ ہسپانوی حکومت قریب چار سال پہلے اقتدار میں آئی تھی، اس نے خواتین کے حقوق کو اپنا ایک بنیادی سیاسی بینر بنا رکھا ہے۔ اس کی کابینہ میں وزارتوں پر 14 خواتین اور آٹھ مرد ہیں۔اسپین میں حمل کے 14 ویں ہفتے تک اسقاط حمل کی خواہش مند خواتین کو اس کی اجازت ہے۔
اب حمل سے متعلق اس نئے مسودہ قانون کے تحت اسقاط حمل کی درخواست اور حمل کے درمیان انتظار کی تین روزہ مدت بھی لازمی نہیں رہے گی۔ اس سلسلے میں نئے مجوزہ قانون کے تحت فراہم کی جانے والی مانع حمل کی گولیوں کی تازہ ترین اقسام قومی صحت کی سروسز کے طور پر مفت فراہم کی جائیں گی۔



