کولمبو ، 27 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سری لنکا کے ایک رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق صدر گوٹابایا راجا پاکسے کی سنگاپور سے وطن واپسی کی توقع ہے۔ ادھر سنگاپور نے انہیں ملک میں رکنے کی مہلت میں مزید چودہ روز کی توسیع کر دی ہے۔سری لنکا کی کابینہ کے ایک ترجمان بندولا گناوردینا نے کولمبوں میں 26 جولائی منگل کے روز صحافیوں کو بتایا کہ سابق صدر گوٹابایا راجا پاکسے چھپے ہوئے نہیں ہیں، تاہم ان کی وطن واپسی کی تاریخ ابھی معلوم نہیں ہے۔ملک کے سابق صدر ملک میں معاشی بحران کے سبب بڑے پیمانے پر بدامنی کے بعد سری لنکا سے فرار ہو گئے تھے۔
سابق صدر اپنی اہلیہ اور دو محافظوں کے ساتھ ملک چھوڑ گئے تھے۔ تاہم اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ وطن واپسی کے متمنی ہیں اور ان کی واپسی کی امید ہے۔ مسٹر راجا پاکسے 13 جولائی کو سری لنکا سے مالدیپ پہنچے تھے اور پھر 14 جولائی کو وہاں سے سنگاپور کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ بھی وہیں سے بھیجا تھا، جسے 15جولائی کو سری لنکا کی کابینہ نے باضابطہ طور پر منظور کر لیا تھا۔
ابتدائی طور پر سنگاپور میں قیام کے لیے راجا پاکسے کو 14 دن کا ویزا دیا گیا تھا۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے بدھ کے روز اطلاع دی ہے کہ اب اس میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ سنگاپور نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ معزول صدر نے آنے پر سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دی تھی۔اسی وقت سے ان کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ سنگا پور سے متحدہ عرب امارات جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکہ کے ایک میڈیا ادارے بلومبرگ نے سری لنکا کے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ مسٹر راجا پاکسے کولمبو واپس جانے کے خواہشمند ہیں۔اس خبر کے بعد ہی منگل کے روز کابینہ کے ترجمان مسٹر گناوردینا نے صحافیوں کو بتایا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے، ان کے واپس آنے کی توقع ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی مزید تفصیل نہیں بتائی کہ وہ کب تک ملک واپس آ سکتے ہیں۔
سری لنکا میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ صدر راجا پاکسے نے ملک کے مالی معاملات کو بہت غلط طریقے سے استعمال کیا، جس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں بھی آسمان چھونے لگیں۔



