کولمبو،۸؍اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سری لنکا کا طاقتور سیاسی خاندان شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ عوامی مظاہروں کا سلسلہ نہیں رک رہا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صدر اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔2020ء میں مہندا راجا پاکسے سری لنکا کے صدر اور اپنے بھائی گوٹا بایا راجا پاکسے کی حکومت میں وزیر اعظم منتخب ہوئے۔
2021ء میں ان ہی کے ایک بھائی باسیل کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا اور اس طاقتور خاندان کی گرفت سری لنکا پر مزید مضبوط ہو گئی۔لیکن اب یہ طاقتور خاندان شدید سیاسی مشکلات کا شکار ہے۔ ملک کے اقتصادی بحران نے ہزاروں شہریوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس جزیرہ نما ریاست کے شہریوں کا مطالبہ ہے کہ صدر گوٹابایا راجا پاکسے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ایک سو سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ اس ملک میں لوگوں کا سڑکوں پر نکل آنا مہنگائی، ایندھن کی کمی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے شدید مسائل کا عکاس ہے۔
عوام کو غصہ اس لیے بھی ہے کہ حکمران اس بحران کو قابو پانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔سری لنکا کے بدھ مت کے اکثریتی جنوبی حصے میں ایک سیاسی گھرانے میں پیدا ہونے والے نو بہن بھائیوں میں پانچویں، گوٹابایا راجا پاکسے نے 1971میں سری لنکا کی فوج میں شمولیت اختیار کی اور ملک کی 26 سالہ خانہ جنگی کے دوران تامل بغاوت کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔
2005 میں ریٹائرمنٹ اور امریکہ چلے جانے کے بعد گوٹابایا سری لنکا واپس پہنچے اور انہوں نے مہندا کی حکومت میں سکریٹری دفاع کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران انہوں نیاس ہولناک خانہ جنگی میں اہم کردار ادا کیا جس میں 80 ہزار سے ایک لاکھ تک افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ نے اس جنگ میں سری لنکا کی حکومت اور تامل باغیوں دونوں پر جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ گوٹابایا پر بھی جنگی جرائم کا کیس چلایا گیا تھا لیکن انہیں حاصل سیاسی استثنیٰ کے باعث یہ کیس خارج کر دیا گیا تھا۔
عسکریت پسندوں کے ایک بڑے حملے کے بعد گوٹابایا نے قوم پرست انتخابی مہم چلائی اور 2019 میں انہوں نے انتخابات میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ کامیابی حاصل کی۔ کچھ ماہ بعد ان کے بھائی مہندا پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر اعظم بن گئے۔اس سال مارچ کے وسط میں ایک ٹیلی ویژن خطاب میں، گوٹابایا نے کہا کہ وہ زرمبادلہ کی کمی اور افراط زر کی وجہ سے درآمدات رک جانے کے باعث عوام کی تکلیف کو سمجھتے ہیں۔
تاہم انہوں نے اپنے آپ کو اس بحران کا ذمہ دار قرار نہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ بحران میری وجہ سے پیدا نہیں ہوا، لیکن مظاہرین اور حزب اختلاف اب سری لنکا کے سربراہ کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔



