قومی خبریں

رضامندی سے جنسی کام جرم نہیں، سپریم کورٹ

 آئین کے تحت ہر شہری کو باوقار زندگی کا حق حاصل ہے، جنسی کارکن بھی اسی تحفظ کے مستحق ہیں۔ 

نئی دہلی، یکم جون:(اردودنیا.اِن) سپریم کورٹ نے ایک اہم قانونی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی بالغ شخص اپنی مرضی اور رضامندی سے جنسی کام میں ملوث ہے تو صرف اس بنیاد پر اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ ایسے افراد کو غیر ضروری طور پر گرفتار کرنے یا ہراساں کرنے سے گریز کیا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ غیر اخلاقی تجارت کی روک تھام سے متعلق قانون اُن معاملات میں لاگو ہوتا ہے جہاں انسانی اسمگلنگ، دھوکہ دہی، جبر یا کسی شخص کو زبردستی جنسی استحصال کی طرف دھکیلا جائے۔ تاہم رضامندی کے ساتھ بالغ افراد کے درمیان ہونے والی سرگرمیوں کو اسی تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ جنسی کارکن بھی ملک کے شہری ہیں اور انہیں آئین ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت باوقار زندگی اور قانونی تحفظ کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے افراد کے ساتھ احترام اور انسانی وقار کے مطابق برتاؤ کریں۔

عدالت نے غیر اخلاقی تجارت کی روک تھام ایکٹ کے مختلف پہلوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کوٹھا چلانا یا اپنی جائیداد کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جرم ہے۔ قانون کے مطابق ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اسی طرح قانون میں یہ بھی درج ہے کہ کسی جنسی کارکن کی آمدنی پر انحصار کرنا یا اس سے مالی فائدہ حاصل کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید یہ کہ کسی شخص کو لالچ، دباؤ یا جبر کے ذریعے اس پیشے میں دھکیلنا بھی قابلِ سزا عمل ہے۔

قانون کی ایک اور شق کے مطابق عوامی مقامات، تعلیمی اداروں یا مذہبی مقامات کے قریب مخصوص حدود کے اندر اس نوعیت کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ قانون میں کہیں بھی بالغ افراد کے رضامندانہ جنسی تعلقات کو بذاتِ خود جرم قرار نہیں دیا گیا۔

یہ اہم مشاہدات جنسی کارکنوں کے حقوق اور ان کی بازآبادکاری سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ عدالت نے کہا کہ معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح جنسی کارکنوں کو بھی بنیادی حقوق اور قانونی تحفظات حاصل ہیں اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے جنسی کام کر رہا ہے اور قانون کی دیگر دفعات کی خلاف ورزی نہیں کر رہا تو اسے حراست میں لینے یا اصلاحی اداروں میں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے پولیس اور انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ قانون کے نفاذ کے دوران انسانی حقوق اور آئینی اصولوں کو مقدم رکھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button