بین ریاستی خبریں

مدرسہ اساتذہ کی تقرری اور تنخواہوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، 350 سے زائد درخواستیں خارج

سپریم کورٹ نے 350 سے زائد اساتذہ اور ملازمین کی درخواستیں مسترد کر دیں

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے تسلیم شدہ مدارس میں تقرری پانے والے 350 سے زائد اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ان کی 40 سے زیادہ درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ ان درخواستوں میں تقرریوں کو تسلیم کرنے، ریاستی حکومت کی گرانٹ اِن ایڈ اسکیم کے تحت تنخواہوں کی ادائیگی اور ملازمتوں کو باقاعدہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے پہلے 13 نمائندہ مقدمات کی سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنے دعووں کے حق میں کوئی مضبوط قانونی بنیاد پیش کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد تمام متعلقہ درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 13 نمائندہ مقدمات کو اس بنیاد پر سنا گیا تھا کہ اگر ان میں سے کسی ایک درخواست گزار کا دعویٰ درست ثابت ہوتا تو باقی درخواستوں پر بھی اسی بنیاد پر غور کیا جاتا۔ تاہم عدالت کے مطابق کوئی بھی درخواست گزار ایسا قانونی جواز پیش نہیں کر سکا جس کی بنیاد پر اسے ریلیف دیا جا سکے، لہٰذا تمام درخواستیں خارج کر دی گئیں۔

یہ تنازع مغربی بنگال مدرسہ سروس کمیشن ایکٹ 2008 سے متعلق ہے، جس کے تحت تسلیم شدہ مدارس میں اساتذہ کی تقرری کے لیے ایک قانونی کمیشن قائم کیا گیا تھا۔

کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے 2014 میں اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا، جبکہ 2015 میں ڈویژن بنچ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ بعد ازاں مارچ 2016 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر عبوری روک لگا دی تھی۔

6 جنوری 2020 کو سپریم کورٹ نے محمد رفیق بنام منیجنگ کمیٹی، کانتائی رحمانیہ ہائی مدرسہ مقدمے میں 2008 کے ایکٹ کو آئینی طور پر درست قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد 2015 اور 2020 کے درمیان ہونے والی تقرریوں پر سوالات اٹھے۔

فروری 2023 میں سپریم کورٹ نے ان تقرریوں کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے اپنی رپورٹ میں متعدد تقرریوں کو غیر قانونی قرار دیا۔ متاثرہ اساتذہ اور ملازمین نے اس رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کیا۔

اگست 2024 میں سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی ملازمتوں کو عبوری تحفظ فراہم کیا تھا، جبکہ مئی 2025 میں ریاستی حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ جو اساتذہ عملی طور پر تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں مزید احکامات تک تنخواہیں ادا کی جائیں۔

اب سپریم کورٹ نے تمام درخواستیں خارج کرتے ہوئے اس مقدمے میں اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا ہے، جس کے بعد متعلقہ اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے دعوے بھی مسترد ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button