کیف، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیر کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دو زور دار دھماکے سنے گئے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے نے کیئف میں موجود اپنے نمائندے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صبح 6 بج کر 35 منٹ پر دھماکوں سے چند سیکنڈ قبل فضائی حملوں کے سائرن بھی سنائی دیئے۔یوکرینی صدر کے چیف آف سٹاف آندرے یرماک کا کہنا ہے کہ ’پیر کی صبح کیف پر ڈرون حملے کیے گئے۔خیال رہے 24 فروری کو روس نے پڑوسی ملک یوکرین پر حملہ کیا تھا، جس پر وہ اپنی ملکیت کا دعوٰی رکھتا ہے جبکہ یوکرین خود کو خودمختار ملک قرار دیتا ہے۔روسی حملے کے بعد سے مسلسل لڑائی جاری ہے شروع میں روس نے دارالحکومت کیف پر قبضے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی تھی، اس کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں لڑائی جاری رہی۔
پچھلے ہفتے روس کو کریمیا سے ملانے والے پل پر دھماکوں کا الزام روسی صدر پوتن نے یوکرین پر لگاتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلاان کیا تھا۔اس کے بعد سے روسی فوج نے یوکرین کے مختلف شہروں پر یکے بعد دیگرے کئی حملے کیے اور میزائل برسائے گئے۔چند روز پیشتر روسی فوج نے کیئف کو ایک بار پھر نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور تازہ دھماکے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔کیئف پر فضائی حملوں کے بعد سے دوسرے علاقوں میں جاری لڑائی میں شدت آگئی ہے۔دونباس، ڈونیسک اور لوہانسک کے علاوہ جنوبی صوبے خیرسن میں بڑے پیمانے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
ان میں سے تین شہر ان علاقوں میں آتے ہیں جن کو پچھلے ماہ ریفرنڈم کے بعد روس نے اپنے ساتھ ملانے کا اعلان کیا تھا۔کیف اور مغربی ممالک نے روسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے غیرقانونی اور دھونس قرار دیا تھا۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اتوار کی رات اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’دونباس، سولیڈر اور باخموت میں سخت لڑائی ہو رہی ہے۔
یوکرین جنگ نے 40 لاکھ بچوں کو غربت میں دھکیل دیا: اقوامِ متحدہ
لندن، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بچوں کے امور سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے نے پیر کے رو ز کہا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کے باعث مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں40 لاکھ بچے غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔یونی سیف نے کہا کہ یوکرین جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کا سب سے زیادہ نقصان بچے برداشت کر رہے ہیں۔ادارے نے کہا کہ تنازع اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پورے مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں 40 لاکھ بچوں کو غربت میں دھکیل دیا ہے ، یہ تعداد 2021کے مقابلے میں 19 فی صد زیادہ ہے۔یونی سیف نے یہ نتائج 22 ملکوں کے اعداد و شمار کے ایک مطالعاتی جائزے سے اخذ کیے ہیں۔
فروری میں اپنے پڑوسی پر حملے کے بعد سے روسی او ر یوکرینی بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔یونی سیف کو معلوم ہوا ہے کہ یوکرین کی جنگ اور خطے بھر میں مہنگائی کی وجہ سے روس میں غربت کا شکار ہونے والے بچوں کی کل تعداد میں لگ بھگ تین چوتھائی اضافہ ہوا ہے جب کہ مزید 28 لاکھ بچے اس وقت غربت کی لکیر سے نچلی سطح کے حامل گھرانوں میں رہ رہیہیں۔مغربی پابندیوں اور اس کے ساتھ ساتھ بڑی آبادی کی وجہ سے روسی معیشت کو پہنچنے والے نقصان نے بچوں کی بڑی تعداد کو متاثر کیا ہے۔
یونیسیف نے کہا کہ یوکرین میں مزید پانچ لاکھ بچے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، جو دنیا بھر میں غربت کے شکار بچوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد رومانیہ کا نمبر ہے جہاں ایک لاکھ دس ہزار بچے غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے یونیسیف کی ریجنل ڈائریکٹر افشاں خان نے کہا کہ ،پورے خطے کے بچے اس جنگ کی خوف ناک لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس وقت ان بچوں اور خاندانوں کی مدد نہیں کرتے توبچوں کی غربت میں تیزی سے اضافے کا نتیجہ تقریباً یقینی طور پر زندگیوں ، تعلیم اور ان کے مستقبل کے زیاں کی صورت میں سامنے آئے گا۔
ادارے نے وضاحت کی کہ ایک خاندان جتنا غریب ہوگا، اسے اپنی آمدنی کا اتنا ہی زیادہ حصہ خوراک اور ایندھن پر خرچ کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں بچوں کی صحت اور تعلیم پر کم خرچ ہو گا۔ادارے کا کہنا ہے کہ غربت کے شکار بچوں کو تشدد، استحصال اور بدسلوکی کا نشانہ بننے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔یونی سیف نے کہا کہ اس صورتِ حال کے نتیجے میں مزید ساڑھے چار ہزار بچے اپنی پہلی سالگرہ پر موت سے دوچار ہو سکتے ہیں اور صرف اس سال مزیدایک لاکھ 17 ہزاربچے اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔



