لندن، 5فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)17 سال کی عمر میں کمال ترک یلقون ان متعدد طلبا میں شامل تھے جنھیں بیجنگ میں 2008 کے اولمپکس گیم سے قبل اولمپک مشعل لے جانے کیلیے منتخب کیا گیا تھا۔
لیکن آج وہ امریکہ میں ایک ایسے سرگرم کارکن ہیں جو چین کی طرف سے اپنی ایغور نسلی برادری کے ساتھ بدسلوکی پر سرمائی کھیلوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کررہا ہیں۔
یلقون نے بوسٹن سے ایک فون انٹرویو میں، جہاں وہ اب جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ان اولمپک گیمز کے ساتھ ہی ہمارا اسپوٹس مین اسپرٹ اور عالمی شہریت کااحساس آگے نہیں بڑھ رہا۔سال 2008کے بعد جب انہوں نے اولمپک مشعل ریلی میں حصہ لیا تھا اور بعد میں مغربی چین میں سنکیانگ کے اپنے آبائی علاقے کے نمائندے کے طور پر گیمز میں شرکت کی تھی۔
بیجنگ نے مسلمان ایغوروں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کرتے ہوئے یلقون کے خاندان کو بھی بانٹ کر رکھ دیا۔جمعہ کی افتتاحی تقریب کے ساتھ ہی اولمپک مشعل بیجنگ پہنچ چکی ہے، یہ گیمز چین کی طرف سے ایغور اور دیگر نسلی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے عالمی تنازعہ کی جانب ازسر نو توجہ مبذول کرا رہا ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق حکام نے پچھلے کئی برسوں کے دوران اقلیتی نسلی گروہوں کے دس لاکھ سے زیادہ ارکان کو کئی برسوں سے وسیع حراستی کیمپوں میں بند کررکھا ہے جن میں سے زیادہ تر ایغور ہیں۔امریکہ او ر دیگر ممالک نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بنا پر اس تقریب کا سفارتی بائیکاٹ کیا ہے۔
چین کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی تردید کرتا ہے اور اسے صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا اور سنکیانگ میں اپنی پالیسیوں کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے ایک تربیتی پروگرام کے طور پر بیان کرتا ہے۔
یلقون چین کے پہلے اولمپکس میں شرکت پر فخر محسوس کرتے ہوئے اسے یاد کرتا ہے۔ لیکن خوشی کا یہ جذبہ اس وقت ہوا ہو گیا جب ان کے والد لاپتہ ہو گئے تھے۔
2016 میں ایغور ادب پر کتابوں کے ایڈیٹر یلقون روزی کو چینی ریاست کو نقصان پہنچانے کوشش کے الزام میں گرفتار کرکے پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔جس کے بعد سے یلقون نے کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھا۔ پانچ سال بعد ریاستی نشریاتی ادارے سی جی ٹی این میں نشر کی گئی سنکیانگ کی ایک دستاویزی فلم میں وہ اپنے والد کی ایک جھلک دیکھ سکے۔
یلقون 2014 میں گریجویٹ اسکول کے لیے امریکہ آئے تھے اور تب سے وہ یہیں مقیم ہیں۔گزشتہ مہینوں سے یلقون باقاعدگی سے بوسٹن میں سرمائی کھیلوں کے بائیکاٹ کے لیے ہونے والے مظاہروں میں شامل ہورہے ہیں۔
2008 کے سمر گیمز کے دوران جو چین میں پہلی بار منعقد ہوئے تھے، تبتی سرگرم کارکنوں نے اپنی برادری سے بیجنگ کے جبر کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔



