قومی خبریں

بیر بھوم تشدد پرسیاست شروع بنگال کے لوگوں کوایسے مجرموں کو معاف نہیں کرنا چاہیے:مودی

نئی دہلی23مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مغربی بنگال کے بیر بھوم میں ٹی ایم سی لیڈر بھدو شیخ کے قتل کے بعد تشدد پھیل گیا۔ یہاں مشتعل ہجوم نے تقریباً ایک درجن مکانات کو آگ لگا دی۔ اس تشدد میں 8 افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 3 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔ بنگال میں اس تشدد پر سیاست بھی چھڑ گئی ہے۔گورنرکابیان بھی آیاہے۔بی جے پی نے جم کرروٹی سینکناشروع کردیاہے۔

اس پر وزیراعظم نے بھی بیان دیاہے جب کہ آج ہی بی جے پی کی ریاست کرناٹک میں مندرکے باہرمسلم کی دکان پرپابندی لگنے کی اطلاع آئی۔یوپی میں ہجومی تشددکامسلمان کونشانہ بنایاگیا،اس پراب تک وزیراعظم یابی جے پی کے سرکردہ لیڈران نے کوئی بیان نہیں دیاہے۔

پی ایم مودی نے بھی بیربھوم واقعہ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ میں مغربی بنگال کے بیر بھوم میں ہوئے پرتشدد واقعہ پر تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ریاستی حکومت بنگال کی عظیم سرزمین پر ایسے گھناؤنے گناہ کرنے والوں کو ضرور سزا دے گی۔پی ایم نے کہاہے کہ میں بنگال کے لوگوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ ایسے واقعات کے قصورواروں کو کبھی معاف نہ کریں، جو ایسے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے میں ریاست کو یقین دلاتا ہوں کہ مجرموں کو جلد از جلد سزا دلانے کے لیے جو بھی مددچاہے گی فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے بدھ کو ہندوستانی تحریک آزادی کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بپلوبی بھارت گیلری کا افتتاح کیا۔

اس دوران انہوں نے ملک سے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے کہاہے کہ امر شہید بھگت سنگھ، راج گرو اورسکھ دیوکی قربانی کی داستان ملک کے ہر بچے کی زبان پر ہے۔ ان ہیروز کی کہانیاں ہم سب کو ملک کے لیے دن رات کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ماضی کی وراثت ہمارے حال کو ہدایت دیتی ہے، ہمیں ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کی ترغیب دیتی ہے۔

اس لیے آج ملک اپنی تاریخ، اپنے ماضی کو توانائی کے جاگتے ہوئے ذریعہ کے طور پر دیکھتا ہے۔آپ کو وہ وقت بھی یاد ہوگا جب قدیم مندروں کے بت چوری ہونے کی خبریں آتی تھیں۔ ہمارے فن پارے آزادانہ طور پر بیرون ملک اسمگل کیے گئے، گویا ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔

لیکن اب ہندوستان کے ان ورثے کو واپس لایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ 2014 سے پہلے کی دہائیوں میں صرف ایک درجن مجسمے ہی ہندوستان لائے جا سکے۔ لیکن گزشتہ 7 سالوں میں یہ تعداد بڑھ کر ڈھائی سو سے زائد ہو گئی ہے۔ اپنی ثقافت، تہذیب کی یہ نشانیاں ہندوستان کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہیں، اس سمت میں یہ ایک بڑی کوشش ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button