لندن ، 12مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانیہ کے ایک تاریخ ساز مہم جو ارنسٹ شیکلٹن نے ایک سو سال قبل انٹارکٹک کے منجمد سمندر کو کشتی پر عبور کرنے کا خواب دیکھا تھا۔اس دشوار اور پرخطر سمندری سفر میں انہیں تو اپنے خواب کی تعبیر نہ مل سکی، البتہ جنوبی افریقہ کے مہم جوؤں کے ایک اور گروپ کو انٹارکٹک کے قریب ایک منجمد سمندر میں 10 ہزار فٹ کی گہرائی میں شیکلٹن کی ڈوبی ہوئی کشتی مل گئی ہے۔
ایک ایسے سمندر میں جس کی سطح پر برف کی پرتیں تیر رہی ہوں اور پانی کا درجہ حرارت صفر کے قریب ہو، اس کی تہہ میں 10 ہزار فٹ کی گہرائی میں اترنا اور وہاں کے گھپ اندھیروں میں سو سال پرانی کشتی کے ڈھانچے کو ڈھونڈ نکالنا بھی شیکلٹن کی منجمد سمندر عبور کرنے کی مہم جوئی سے کچھ کم نہیں ہے۔
کشتی تلاش کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایک صدی گزر جانے کے باوجود کشتی بہت اچھی حالت میں ہے، حتیٰ کہ اس میں استعمال کی جانے والی لکڑی تک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ کشتی کا وہ گول پہیہ، جسے ملاح کشتی کا رخ موڑنے کے لیے استعمال کرتے تھے، اتنی اچھی حالت میں ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے کپتان ابھی آ کر اسے گھمائے گا اور اپنے سفر کا آغاز کر دے گا۔
برفانی سمندر میں غرق ہونے والی کشتی کی تلاش ’’فاک لینڈز میری ٹائم ہیری ٹیج‘ نے فروری میں شروع کی تھی اور اپنی اس مہم کوایکسپیڈیشن اینڈورینس 22 کا نام دیا تھا۔ انہیں یہ کامیابی 8 مارچ کو ملی۔اس مہم کے ڈائریکٹر مینسن باؤنڈ نے کہا ہے کہ میں نے کسی ڈوبی ہوئی قدیم کشتی کے ڈھانچے میں اتنی اچھی حالت میں لکڑی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
سمندری تاریخ کے ایک ماہر سٹیون شوانکرٹ کہتے ہیں کہ دنیا کے انتہائی مشکل ماحول میں اتنی محفوظ حالت میں سو سال سے ڈوبی ہوئی کشتی کا ملنا ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کی وجوہات واضح ہیں۔ سمندر میں دس ہزار فٹ کی گہرائی تک سورج کی روشنی نہیں پہنچتی۔ وہاں گھپ اندھیرا ہوتا ہے۔
شدید تاریکی اور انتہائی ٹھنڈے پانی میں کوئی بیکٹریا زندہ نہیں رہتا۔ وہ حشرات بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے جو لکڑی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔کشتی تلاش کرنے والی اس ٹیم نے شیکلٹن کی ڈوبی ہوئی کشتی کی کچھ تصویریں اور ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ اچھی حالت میں دکھائی دے رہی ہے۔ اس پر سونے کے ورق سے کندہ ہوا کشتی کا نام نمایاں طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔
اینڈورینس 22 کے سفر کا آغاز جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن سے ہوا تھا۔ مہم کی مشکلات اور چیلنجز کے پیش نظر یہ سفر ایک ایسے بحری جہاز میں شروع کیا گیا جو برف کی ایک میٹر تہہ کو توڑ کر اپنے لیے راستہ بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس ٹیم میں ایک سو سے زیادہ ماہرین شامل تھے،
جن میں انجنیئرز ، آثار قدیمہ کے ماہرین، سائنس دان اور محقیقن شامل تھے۔ عملے کے پاس ایسے جدید ڈرون بھی موجود تھے جو ہزاروں فٹ گہرائی میں سمندرکی تاریک تہہ کو کھنگال سکتے تھے اور اس کی تصویریں اتار سکتے تھے۔
ماہرین کی ٹیم نے اس پورے علاقے میں پانی کی تہہ میں چلنے والے ڈرونز کی مدد سے سمندر کے چپے چپے کو چھلنی کی طرح چھانا۔ دو ہفتوں تک جاری رہنے والی اس عرق ریزی کے بعد انہیں کشتی کا سراغ مل گیا۔



