لندن، 19نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دنیا کی سب سے معمر پرائمری اسکول کی طالبہ پریسلا سیتینی gogo priscilla sitienei کا 99 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا، 90 کی دہائی میں سیکھنے کی ان کی ثابت قدمی پر مبنی ایک فرانسیسی فلم کی یونیسکو نے بھی تعریف کی تھی۔ان کے پوتے سامی چیپسرور نے دی سٹینڈرڈ اخبار کو بتایا کہ پرسیلا جو "گوگو پرسیلا” کے نام سے مشہور تھیں سینے کی پیچیدگیوں میں مبتلا ہونے کے بعد اپنے گھر کے اندر انتقال کر گئی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ گوگو کی صحت اچھی تھی اور وہ معمول کے مطابق اپنی کلاسوں میں جاتی تھی انہوں نے اپنی موت سے تین دن قبل اس وقت اسکول جانا چھوڑ دیا تھا جب انہیں سینے میں درد محسوس ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ان پر فخر ہے۔
یونیسکو نے بتایا کا پرسیلا کی عمر 94 سال تھی جب اس نے کینیا کی رفٹ ویلی میں واقع اپنے گاؤں کے مقامی سکول کی پرنسپل کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کی درخواست کو قبول کرنے پر آمادہ کیا تھا، یونیسکو نے معمر خاتون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پرسیلا کی مثال ایسی ہے جس کی ان کے معاشرے کے اندر اور باہر پیروی کرنا چاہیے۔گزشتہ برس یونیسکو کے ساتھ ایک انٹرویو میں پرسیلا نے اس بات کی تصدیق کی کہ سکول واپس جانے کا ان کا مقصد کینیا میں نوجوان ماؤں کو بچے پیدا کرنے کے بعد سکول واپس آنے کی ترغیب دینا اور انہیں سماجی بدنامی کے خوف سے اسکول چھوڑنے سے روکنا ہے۔
پرسیلا نے کہا تھا کہ میں نہ صرف ان کے لیے بلکہ دنیا بھر کی ان لڑکیوں کے لیے ایک مثال قائم کرنا چاہتی تھی جو سکول نہیں جا رہی ہیں۔پرسیلا نے بہ بھی کہا کہ اگر عورت تعلیم حاصل نہیں کرتی ہے تو اس میں اور مرغی میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔پرسیلا کی کاوشوں کا احاطہ ایک فرانسیسی فلم ’’گوگو‘‘ میں کیا گیا تھا۔ اس فلم نے انہیں گزشتہ سال زندگی میں پہلی مرتبہ جہاز میں سوار ہونے اور فرانسیسی صدر میکرون کی اہلیہ سے ملنے فرانس جانے کی اجازت دی۔فلم کے شریک مصنف پیٹرک بسیز نے جمعرات کو پریسیلا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان کا لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا۔



