
ترکیہ کا حوثیوں سے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، سعودی عرب کی فوجی مدد پر فیصلہ پارلیمانی منظوری کے بعد ہوگا
ترکیہ کا حوثیوں کے ساتھ کسی قسم کی جھڑپ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔
انقرہ، 24 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ترکیہ نے حوثیوں کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم میں شامل ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ دفاعی معاہدے اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ ترک حکام کے مطابق اس معاونت کا بنیادی مقصد خطے میں دفاعی صلاحیت اور دشمن کو حملے سے باز رکھنے کی قوت کو مضبوط بنانا ہوگا۔
ترکیہ کے وزیر دفاع یشار گولر نے اپنے بیان میں کہا کہ انقرہ کا حوثیوں کے ساتھ کسی قسم کی جھڑپ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست پر غور کرنے سے پہلے متعلقہ قانونی کارروائی مکمل کرنا ضروری ہے۔
یشار گولر نے واضح کیا کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو پارلیمانی منظوری سمیت ضروری قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ ان مراحل کی تکمیل کے بعد ہی یہ طے کیا جائے گا کہ سعودی عرب کو کس نوعیت کی مدد فراہم کی جا سکتی ہے اور اس معاونت کا دائرہ کتنا وسیع ہوگا۔
ترک وزیر دفاع کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی ممکنہ فوجی معاونت سے متعلق فیصلہ فوری طور پر نہیں بلکہ قانونی اور دفاعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔



