بین الاقوامی خبریں

یوکرینی عدالت نے روسی فوجی کو عمر قید کی سزا سنا دی

کیف؍لندن، 24مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرینی عدالت نے گرفتار روسی فوجی سارجنٹ وادم ایس کو نہتے شہری کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ ایسے خدشات بھی ہیں کہ اس کے رد عمل میں ماریوپول سے حراست میں لیے گئے یوکرینی فوجیوں پر بھی روس میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔وادم ایک روسی ٹینک یونٹ کا رکن تھا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنے سربراہان کے احکامات پر عمل درآمد کر رہا تھا۔ وادم نے عدالت میں ہلاک شہری کی اہلیہ سے معافی بھی مانگی تھی۔

یوکرین کی جانب سے وادم کے لیے تعینات کیے گئے وکیل وکٹر اووسیانیکوف نے عدالت کو وادم کا دفاع کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ شدید اور بڑے پیمانے پر جاری عسکری کارروائی کے لیے تیار نہ تھے۔یوکرینی استغاثہ روسی فوجیوں کی جانب سے مبینہ طور پر مرتکب کیے جانے والے ہزاروں جنگی جرائم کی تحقیقات کر رہے ہیں۔روسی فورسز کی جانب سے ماریوپول کے ایک سنیما ہال میں بمباری کی گئی تھی جہاں شہریوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ یوکرین یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ روس کی جانب سے ایک میٹرنٹی ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

ماسکو کے کییف سے ملحقہ علاقوں سے انخلاء کے دوران ہزاروں شہریوں کی لاشیں سڑکوں پر بکھری پڑی ملی تھیں۔روسی فوج نے یوکرین کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ بالخصوص ماریوپول کے نواح میں واقع ازووِسٹال سٹیل پلانٹ کے قریب ایک نئی جنگی کارروائی خونریز ثابت ہو رہی ہے، جہاں ایک ہی دن کی گئی کارروائی کے نتیجے میں اکیس شہری ہلاک جبکہ اٹھائیس زخمی ہو گئے۔وادم کو سزا سنائے جانے سے قبل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا تھا ماسکو اپنے اس فوجی کا دفاع نہیں کر سکا لیکن دیگر طریقوں کے ذریعے وادم کا دفاع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نوٹرے ڈیم یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کی ماہر میری ایلن کا کہنا ہے کہ وادم کی سزا روس کی تحویل میں موجود یوکرینی فوجیوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ میری ایلن کے مطابق روس یوکرینی فوجیوں کے خلاف عدالتی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے تاکہ اس کے فوجیوں کے حوصلے بلند رہیں۔روس کے مرکزی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ماریوپول میں ہتھیار ڈال دینے والے فوجیوں کے خلاف تحقیقات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button