بین الاقوامی خبریں

امریکہ: اسقاط حمل کی گولیاں فارمیسی میں بھی آسانی سے دستیاب

امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے آئینی حق کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا

نیویارک، 4جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)گزشتہ موسم گرما میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اسقاط حمل سے متعلق سن 1973 کے اپنے فیصلے کو کالعدم ٹھہرانے کے متنازعہ فیصلے کے بعد اسقاط حمل کی گولیاں کھلے عام فراہم کرنا کافی اہمیت کا حامل ہے۔امریکہ میں خوراک اور ادویات کے نگراں ادارے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ (ایف ڈی اے) نے   اپنے اصول و ضوابط میں ایک اہم تبدیلی کا اعلان کیا، جس کے تحت اب دواؤں کی بڑی کمپنیوں سمیت خوردہ فارمیسی کی دوکانوں کو اسقاط حمل کی گولیاں فروخت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔گزشتہ موسم گرما میں امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کے آئینی حق کو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے بعد سے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اسقاط حمل سے متعلق زیادہ سے زیادہ حقوق کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ برس ہی اس تبدیلی کو جزوی طور پر نافذ کیا تھا، تاہم یہ اعلان بھی کیا تھا کہ شاید وہ اس دیرینہ ضرورت کو اس طرح سے نافذ نہیں کرے گی کہ خواتین بذات خود ایسی دوا حاصل کر سکیں۔تاہم اب ایف ڈی اے کے تازہ فیصلے سے ایسی دواؤں کی لیبلنگ باضابطہ طور پر اپ ڈیٹ ہو سکے گی، تاکہ بہت سی مزید خوردہ فارمیسیوں کو گولیاں فراہم کرنے کی اجازت مل سکے۔ البتہ دوا کی دوکانوں کو سرٹیفیکیشن کا عمل مکمل کرنا ہو گا۔امریکہ میں اسقاط حمل کی گولیاں آسانی سے فراہم کرنا ان خواتین کے لیے ایک اہم متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اپنی مرضی سے اپنا حمل ختم کرنا چاہتی ہیں۔ایک تحقیقی گروپ، گٹماشر انسٹی ٹیوٹ، جو اسقاط حمل کے حقوق کی حمایت کرتا ہے، کا اندازہ ہے کہ ملک میں اب نصف سے زیادہ اسقاط حمل سرجری کے بجائے گولیوں کی مدد سے کیے جاتے ہیں۔

اس طریقہ کار میں دو گولیاں شامل ہیں۔

mifeprex pills   مسوپروسٹل نامی ٹیبلٹ پہلے لینی ہوتی ہے، جو حمل کی نشوونما کو روکنے کا کام کرتی ہے۔ مسفیپرسٹون نامی دوسری گولی اس کے 24 سے 48 گھنٹے کے بعد کھانی ہوتی ہے، جو حمل کے ٹشوز کو نکالنے کا کام کرتی ہے۔ بعض قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایف ڈی اے کے فیصلے کا زمینی سطح پر بہت کم اثر پڑے گا، کیونکہ متعدد ریاستوں کے قوانین خواتین کی گولیوں تک رسائی کو بھی محدود کرتے ہیں۔ گزشتہ موسم گرما میں امریکی سپریم کورٹ نے سن 1973 کے معروف کیس رو بمقابلہ ویڈ سے متعلق اپنے ہی تاریخی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت خواتین کو آئینی طور پر اسقاط حمل کا حق حاصل تھا۔ اسی متنازعہ فیصلے کے بعد اس دوا کی اہمیت بڑھ گئی۔فیصلے کے بعد سے بائیڈن انتظامیہ نے ملک بھر میں اسقاط حمل کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسی ریاستوں میں اسقاط حمل کرانے کی اجازت دینا جہاں اس پر پابندی نہیں ہے۔ یا پھر اس کے لیے حکومت سے فنڈز کے لیے درخواست دینے کی سہولیت، تاکہ اس کی مدد سے دوسری ریاست کی خواتین جہاں اجازت ہے وہاں جا کر اسقاط حمل کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button