جینوا،20ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک ممکنہ نئی سرد جنگ کے بارے میں انتباہ کرتے ہوئے چین اور امریکہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے ’مکمل طور پر غیر فعال‘ تعلقات کو بہتر کریں اس سے پہلے کہ دو بڑے اور نہایت بااثر ممالک کے درمیان مسائل باقی دنیا تک پھیل جائیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس António Guterres نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے رواں ہفتے ہونے والے اقوام متحدہ کے عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجلاس، جس میں کورونا، موسمیاتی تبدیلیوں اور دوسرے اہم امور زیر بحث آنے ہیں، سے قبل بات کی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کو ماحولیات پر تعاون کرنا چاہیے اور جنوبی چین کے سمندر میں انسانی حقوق، معاشیات، آن لائن سکیورٹی اور خود مختاری کے حوالے سے جاری سیاسی اختلافات کے باوجود تجارت اور ٹیکنالوجی پر مضبوطی سے بات کرنی چاہیے۔سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’بدقسمتی سے آج ہمارے سامنے محض تصادم ہے۔
انتونیو گوتیریس نے کہا کہ ہمیں دو طاقتوں کے درمیان ایک فعال تعلق کو دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ویکسینیشن کے مسائل، موسمیاتی تبدیلی کے مسائل اور بہت سے دوسرے عالمی چیلنجوں کو بین الاقوامی برادری اور بنیادی طور پر سپر پاورز کے درمیان تعمیری تعلقات کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔
دو سال قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور چین کے درمیان حریف انٹرنیٹ، کرنسی، تجارت، مالیاتی قواعداور ان کی اپنی جیو پولیٹیکل اور فوجی حکمت عملی کی وجہ سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو میں اس انتباہ کو دہراتے ہوئے مزید کہا کہ دو حریف جغرافیائی اور فوجی حکمت عملی ’خطرات‘ پیدا کرے گی اور دنیا کو تقسیم کرے گی۔
تعلقات کو جلد ہی ٹھیک کرنا ہوگا۔سوویت یونین اور اس کے مشرقی بلاک کے اتحادیوں اور امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے درمیان نام نہاد سرد جنگ دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد شروع ہوئی اور 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ ختم ہوئی۔
یہ دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس سپر طاقتوں کا تصادم تھا جن کے نظریات ایک دوسرے سے مختلف تھے۔انہوں نے کہا کہ آج ہر چیز زیادہ سیال ہے اور یہاں تک کہ وہ تجربہ جو ماضی میں بحرانوں کو سنبھالنے کے لیے موجود تھا اب باقی نہیں رہا۔



