سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مجربات رحیمی ,رحم کا کینسر، ناسور، رسولیاں اور ان کے علاج

حضرت ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفاخانہ بنگلور

یہ عارضہ عام طور پر رحم کی گردن یارحم کے منھ میں پیدا ہوتا ہے، اس کے ورم کی شکل کیکڑے کے مشابہ ہوتی ہے اس لئے اسے طب یونانی میں سرطان الرحم سے موسوم کیا گیا ہے۔ خرابیٔ خون ، رحم کا ورم جو پرانا ہوکر سرطان کی صورت اختیار کرلیتا ہے، عام کمزوری وغیرہ اس مرض کے خاص اسباب ہیں۔

علامات: عموماً تیس برس سے زیادہ عمر کی عورتوں کو یہ مرض ہوتا ہے، یہ پھوڑا ایک جگہ سے شروع ہوکر بہت جلدی ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ اکثر بچہ دانی کی گردن یا منھ کے قریب پیدا ہوتا ہے جو طبی جانچ سے نظر آسکتا ہے اور دیکھنے پر گوبھی کے پھول کی صورت کا ہوتا ہے، جس کی رگیں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں، رنگت سرخی مائل یا سبزی مائل ہوتی ہے، اکثر چھونے سے سخت درد کرتا ہے مرض کی زیادتی کی صورت میں بخار ہوتا ہے، ہاتھ پاؤں سر د، پیڑو اور ران میں اس کی خلش محسوس ہوتی ہے پیشاب رک رک کر قطرہ قطرہ آتا ہے قبض ہوتا ہے، مریضہ دن بدن لاغر ہوتی جاتی ہے، پنڈلیاں پتلی ہوجاتی ہیں، پاؤں پر ورم آجاتا ہے۔ اگر موادِ رحم کا میڈیکل معائینہ کیا جائے یعنی خورد بین سے دیکھا جائے تو اس میں رحم کی شاخیں اور ریشے صاف دکھائی دیتے ہیں۔

علاج: اگرچہ یہ مرض بہت مشکل سے قابو میں آتا ہے، پھر بھی اس کی ترقی کو روکا جاسکتا ہے، درد میں سکون پیدا کرنے کے لئے مرہم داخلیون کا استعمال کیا جائے، اور خوراکی طور پر ’’ دھماسہ بوٹی‘‘ کا استعمال کیا جائے، اس سلسلہ میں روزانہ تقریباً دو تولے ہرے یا خشک بودے کو پیس کر اس کا رس نکال کر دو ہفتہ تک مریض کو پلانے سے حیرت انگیز نتائج نکلتے ہیں۔

ڈاکٹری علاج میں سرطان کا علاج سوائے آپریشن کے ممکن نہیں، چنانچہ رحم کے گندے حصے کو کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے ۔کبھی تمام کا تمام رحم بذریعہ آپریشن نکال دیا جاتا ہے، لیکن یہ علاج بھی اس وقت تک مفید ہوتا ہے، جب کہ مرض ابھی محدود ہو اور گندہ مادہ رحم کی دوسری قریبی ساختوں میں سرایت نہ کر گیا ہو، ورنہ آپریشن بھی محض بے سود ثابت ہوتا ہے۔

غذا و پرہیز: غذا میں آش جو، ابلا ہوا انڈہ، کدو، پالک، خرفہ، مونگ کی دال اور ساگو دانہ کھلائیں، گوشت اور مچھلی سے پرہیز کریں، صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

اسی طرح سے رحم کا ناسوربھی ہوتا ہے۔ یہ ایک قسم کا پرانا زخم ہے، جو یوٹرس میں پیدا ہوکر ناسور بن جاتا ہے۔ اندام نہانی میں زخم کا ہونا، رحم میں گندہ مواد جمع رہنا، زخم کے علاج میں غفلت کرنا وغیرہ اس مرض کے خاص اسباب ہیں۔

علامات: بچہ دانی سے عرصہ دراز تک بدبو آتی رہتی ہے، زخم رحم بہت مدت سے رحم میں موجود ہوتا ہے، اور کسی علاج سے درست نہیں ہوتا، اس میں بھی سرطانِ رحم کی طرح سخت درد ہوتا ہے۔

علاج: زخم کو صاف اور خشک کرنے والی ادویہ کا استعمال کرائیں اس مرض میں آپریشن سخت خطرناک ہے اور اس سے تشنج ہونے لگتا ہے اور دماغ کی حالت میں فرق آجاتا ہے ، غشی پڑتی ہے، ہاں! اگر مریضہ کلور فارم سونگھنے کی طاقت رکھتی ہو تو ایک قابل سرجن آپریشن کے ذریعے رحم کے ناسور کو درست کرسکتاہے۔ مندرجہ ذیل مجربات اس مرض کے لئے مفید ہیں، حسب موقع استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

 ہلدی، مردارسنگ ہر ایک تین حصہ، گل روغن دو حصہ، موم زرد ایک حصہ، تمام ادویہ کو پیس کر روغن اور موم کے ہمراہ پانی میںپکائیں جب پانی جل جائے اور ادویہ مرہم کی طرح ہوجائیں تو استعمال کریں۔بلی کے سینہ کی ہڈی کو پوست ہلیلہ، بہیڑہ، آملہ کے جوشاندہ میں گھس کر لگائیں۔

جلے ہوئے پکے چمڑے کی خاک، کتھ سفید، سنگ جراحت، موم ہر ایک برابر پیس کر گائے کا گھی( سوبار پانی سے دھویا ہوا) میں ملا کر مرہم بنائیں اور استعمال کریں۔

عشبہ مغربی 300گرام، چوب چینی، برادہ لکڑی شیشم ہر ایک200گرام، گل نیلوفر ، گل بنفشہ، گاؤ زبان، پھول گلاب، شاہترہ، چرائتہ، منڈی، سرپھوکہ، خارخسک، صندل سفید، صندل سرخ، ہر ایک100گرام، پوست ہلیلہ زرد، پوست بہڑہ، سناء کے پتے، مہندی کے پتے ہر ایک50گرام، سب ادویہ کو پندرہ گنا پانی میں ایک رات دن تر کر کے کل پانی کا دو تہائی عرق نکال لیں۔خوراک 50 گرام صبح و شام ہمراہ شربت عشبہ 30 گرام دیں، ناسور رحم کے لئے نہایت مفید علاج ہے۔

غذا  و پرہیز: زود ہضم و مقوی غذا دیں، دیر ہضم اغذیہ سے سخت پرہیز کرائیں۔

اسی طرح رحم کی رسولیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس مرض میں رحم کے اندر کئی قسم کی رسولیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ زیادہ بچے جننے یا دیگر عوارض کے باعث رحم کی ساخت کا کمزور ہوجانا، کسی تکلیف یا دباؤ کے تحت رحم کی طرف خون کا دوران زیادہ ہونا وغیرہ اس کے اسباب ہیں۔

علامات: عام طور پر چالیس پچاس برس کی عمر میں پیٹ حمل کے بغیر بڑھنا شروع ہوجاتا ہے رسولی کے باعث رحم کے مقامات پر بوجھ اور تناؤ بڑھ کر رحم کسی ایک طرف کو جُھک جاتا ہے، ایام نہایت درد کے ساتھ زیادہ مقدار میں بے قاعدگی سے آتے ہیں پاخانہ کی بار بار حاجت اور پیچش کی علامات پائی جاتی ہیں، پیشاب جلن یا درد سے آتا ہے، رحم کے منھ پر رسولی کا پھیلاؤ معلوم ہوتا ہے۔ یہ مرض افریقہ میں بکثرت ہوتا تھا لیکن اب دنیا کے ہر ملک کی عورتوں میں پایا جاتا ہے۔

علاج: کبھی یہ رسولیاں بنا علاج خود بخود گھل جاتی ہیں، کبھی ایک حالت پر رہتی ہیں اور ان کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور ان سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی، کبھی زخم بن جاتے ہیں جو بعد میں سرطان الرحم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں، کبھی زخم میں پیپ پیدا ہوجاتی ہے اور اس کازہریلا اثر خون میں مل جانے سے مریضہ جانبر نہیں ہوسکتی، ڈاکٹری طریقہ علاج میں اس مرض کا آپریشن ہی مؤثر علاج ہے، جو ایک قابل سرجن بخوبی کرسکتا ہے۔ دیسی طریقہ علاج میں بیرونی طور پر مرہم داخلیون کا فرزجہ رکھوانا نہایت مفید ہے کھانے کے لئے مصفیٰ خون ادویات کا استعمال کرائیں۔

گھیکوار سے علاج

گھیکوار کا رس دس گرام، سہاگہ باریک شدہ ایک گرام، دونوں کو ملا کر رات کو سوتے وقت استعمال کریں، کمزور مریضوں کو نصف خوراک دیں۔

پرہیز: میرے والد محترم حکیم مولانا محمد ادریس حبان رحیمیؒ مطب رحیمی شفاخانہ آنے والے سرطان کے مریض جن کو کسی بھی قسم کی گانٹھی ہو لہسن سے پرہیز کے لئے کہتے اور اس کے حیرت انگیز نتائج بھی ہم نے دیکھے ہیں اس کے ساتھ گرم اشیاء، مچھلی، مرغی، بڑے کا گوشت، تیتر، بٹیر وغیرہ اور زیادہ مصالحہ جات و تلی ہوئی چیزوں سے سخت پرہیز کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button