
ترووننت پورم18جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتوار کو وشوا ہندو پریشد نے کیرالہ حکومت کی جانب سے 21 جولائی کو منائی جانے والی #عیدالاضحیٰ کے پیش نظرپابندیوں میں نرمی کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صحت کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ #تنظیم کے ورکنگ صدر الوک کمار نے کہاہے کہ اتراکھنڈ حکومت نے حال ہی میں #ملک میں #کوویڈ وبا کی تیسری لہر کے امکان کے پیش نظر سالانہ کنوڑ یاترا منسوخ کردی تھی۔
انہوں نے کہاہے کہ #کیرالہ کے اس فیصلے سے صحت عامہ کا ایک بہت بڑاچیلنج ہے اور اس سے وبائی امراض کے خلاف ملک کی لڑائی کو نقصان پہنچے گا۔ کمار نے کہاہے کہ اتر پردیش کی حکومت نے پہلے کچھ پابندیوں کے ساتھ کنوڑ یاترا کی اجازت دینے کا فیصلہ کیاتھالیکن بعد میں سپریم کورٹ کی جانب سے زندگی کے حق کو سب سے اہم سمجھنے کے معاملے پر از خود نوٹس لینے کے بعد سالانہ یاترا منسوخ کردی گئی۔
#وشو ہندو پریشد (Vishva Hindu Parishad) نے کہا کہ کیرالا میں تین دن کے لیے پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ اعلیٰ عدالت اس معاملے پر سنجیدگی اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہاہے کہ ہمیں حیرت ہے کہ عوامی میدان میں ان سارے واقعات کے بعد بھی وزیراعلیٰ کیرالہ نے عیدالاضحیٰ کے تین دن کے دوران کسی قسم کی پابندی نہیں ہونے کا اعلان کیا۔



