کیف؍لندن،19فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مشرقی یوکرائن میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے رہنما اور نام نہاد ’جمہوریہ ڈونیٹسک Republic of Donetsk‘ کے مرکزی لیڈر ڈینس پوشی لین Dennis Pushkin نے تمام ریزرو فوجیوں کو حرکت میں آنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو کوئی بھی ہتھیار اٹھا سکتا ہےاٹھا لے۔
یوکرائن کے دارالحکومت کیف سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس بحران زدہ مشرقی یورپی ملک میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے رہنما ڈینس پوشی لین نے آج اس خطے کے تمام ریزرو فوجیوں کو حرکت میں آ جانے کا حکم دے دیا۔
علیحدگی پسندوں کے اس رہنما نے ٹیلیگرام نیوز چینل پر اپنے ایک تحریری پیغام میں کہا کہ جنگ کے شدیدتر خطرے کی وجہ سے اب ضروری ہوگیا ہے کہ تمام ممکنہ عسکری صلاحیتوں کو حرکت میں لایا جائے۔
اپنے اس تحریری حکم میں عسکری تیاریوں کے لیے جنرل موبیلائزیشن کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے ڈینس پوشی لین نے لکھا کہ میں جمہوریہ ڈونیٹسک کے ان تمام مردوں کو، جو اپنے ہاتھوں میں کوئی بھی ہتھیار اٹھا سکتے ہیں، یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے ہتھیار اٹھا لیں، تاکہ وہ اپنے خاندانوں، بچوں، بیویوں اور ماؤں کی حفاظت کر سکیں۔
مشرقی یوکرائن کے اس علیحدگی پسند رہنما کے مخاطب اس روس نواز خطے کے تمام ریزرو فوجی تھے۔یورپی سلامتی اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای نے، جو مشرقی یوکرائن میں فائر بندی کی نگرانی کرتی ہے،
کہا ہے کہ اس علیحدگی پسند خطے میں سیزفائر کی خلاف ورزیوں میں کافی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ روس نواز باغیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ڈونیٹسک کے علاقے میں گولہ باری سے پانی کی ایک پائپ لائن کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
مشرقی یوکرائنی علیحدگی پسندوں کے رہنما نے اپنا تازہ ترین بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہے جب اس خطے میں ایک نئی جنگ کی آگ بھڑک اٹھنے کے خدشات گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔امریکہ اور یورپی ممالک کے رہنما پچھلے کئی ہفتوں سے مسلسل یہ کوششیں کر رہے ہیں کہ مشرقی یوکرائن میں دوبارہ جنگ شروع نہ ہو۔
اس مقصد کے تحت فرانسیسی صدر ماکروں اور جرمن چانسلر شولس ماسکو میں روسی صدر پوٹن سے اپنی حالیہ ملاقاتوں میں تفصیلی بات چیت بھی کر چکے ہیں۔



