بین الاقوامی خبریںسرورق

وکی لیکس کے بانی کی جیل میں ہوئی شادی

نیویارک ،24؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے لندن کی جیل میں اپنی پارٹنر سٹیلا مورس سے شادی کرلی، جیل میں منعقدہ شادی کی تقریب میں چار مہمان اور صرف دو گواہ شریک ہوئے۔جنوب مشرقی لندن میں قائم مردوں کی بیلمارش جیل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں جولین اسانج کو 2019 سے رکھا گیا ہے۔

انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے ٹوئٹر پر سٹیلا مورس کی جیل کے باہر جمع ہونے والے صحافیوں اور حامیوں سے مختصر طور پر خطاب کرتے ہوئے فوٹیج شیئر کی گئی۔

سٹیلا کو نجی تقریب کے بعد شادی کا کیک کاٹتے دیکھا جاسکتا ہے، اپنی زندگی کے اس بڑے دن انہوں نے روایتی مغربی سفید لباس زیب تن کیا جس پر کچھ الفاظ بھی تحریر تھے، جن میں ’بے لگام‘، ’بہادر‘ اور ’آزاد پائیدار محبت۔‘ جیسے الفاظ شامل تھے۔

اس موقع پر جیل کے باہر سٹیلا نے اپنے مختصر خطاب میں بتایا کہ وہ اس وقت دُکھ اور خوشی کے ملے جُلے جذبات سے سرشار ہیں، میں جولین سے دل و جان سے پیار کرتی ہوں، کاش وہ یہاں میرے ساتھ ہوتے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ تقریب میں کون شریک ہوا یا شادی کے بعد جوڑے کو استقبالیہ منعقد کرنے یا اکیلے وقت گزارنے کی اجازت دی گئی یا نہیں،

جولین اسانج کے وکلاء نے شادی پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جبکہ جیل نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔وکی لیکس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شادی کے لیے جیل روانگی سے قبل ایک تصویر پوسٹ کی گئی جس میں سٹیلا کو گلدستہ تھامے دکھایا گیا تھا اور ساتھ ہی اُن کے دونوں بچے بھی موجود ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹیلا کا بتانا ہے کہ شادی کی تصویر سے لے کر مہمانوں کی فہرست تک، نجی تقریب کے ہر پہلو پر سختی سے نظر رکھی جا رہی ہے۔سٹیلا کے مطابق ’یہ جیل کی شادی نہیں ہے، یہ اسیری، سیاسی ظلم و ستم، من مانی حراست، جولین اور ہمارے خاندان کو پہنچنے والے نقصانات اور ایذا رسانی کے باوجود محبت کا اعلان ہے،

قید و بند کی پریشانیاں ہماری محبت کو مضبوط بناتی ہیں۔‘سوشل میڈیا پر سٹیلا کی تو تصاویر شیئر کی گئی ہیں لیکن وکی لیکس کی جانب سے بتایا جارہا ہے کہ شادی کی تقریب سے جولین اسانج کی کوئی تصویر نہیں ہے، کیونکہ جیل حکام دولہے کی تصاویر کو ’سیکیورٹی رسک‘ میں شمار کرتے ہیں۔؎

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی عمر 50 سال ہے اور وہ جاسوسی کے الزامات میں امریکا ایکسٹراڈیشن کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔وکی لیکس نے 2006 میں باقاعدہ آغاز کے بعد سے اب تک ہزاروں خفیہ دستاویزت افشا کر کے شہرت حاصل کی۔

ان دستاویزات میں فلم انڈسٹری سے لے کر عراق اور افغانستان کی جنگوں، قومی سلامتی اور دیگر راز وں سے پردہ اٹھایا گیا تھا۔ان دستاویزات کی اشاعت کے بعد دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا تھا، وکی لیکس نے ان پبلیکشنز میں 2010 میں امریکہ کے ایک جنگی ہیلی کاپٹر سے بنائی گئی ویڈیو بھی نشر کی، جس میں عراق کے شہر بغداد میں شہریوں کو ہلاک کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

آسٹریلین جولین اسانج 2019 سے بلمارش جیل میں قید ہیں، پولیس نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے انہیں لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے حراست میں لیا تھا۔جولین اسانج ایکسٹراڈیشن سے بچنے کیلئے 2012 سے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں مقیم تھے۔ 

کیونکہ انہیں سویڈن میں سیکسوئل آفنسز جیسے الزامات کا سامنا ہے لیکن جولین اسانج نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور بالآخر سویڈش پبلک پراسیکیوشن نے ان کیخلاف ریپ کے الزام کو ڈراپ کر دیا۔وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی امریکہ حوالگی پر برطانوی عدالت نیفیصلہ سنایا تھا، وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو امریکا حوالے کرنے کی امریکی درخواست مسترد کی گئی تھی۔

بعد ازاں جولین اسانج نے امریکہ حوالگی کے خلاف برطانوی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، رواں ماہ برطانوی سپریم کورٹ نے جولین اسانج کو عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔کہا جارہا ہے کہ اگر جولین اسانج کو اگر  امریکہ کے حوالیکردیا گیا تو وہاں انہیں 175 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ میرج ایکٹ 1983 کے تحت جیل کے قیدی یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ جیل میں شادی کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں تاہم درخواست گزار کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ شادی کے تمام اخراجات اٹھانے کی اہلیت رکھتا ہو۔

جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والی سٹیلا مورس پیشے سے وکیل ہیں، سٹیلا مورس نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ 2015 سے ان کا جولین سے تعلق ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دونوں کے دو بچے ہیں جن کی پرورش وہ خود کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button