بین الاقوامی خبریں

  انتخابات میں نیتن یاہو کی جماعت کو سبقت حاصل، غیر حتمی نتائج

  انتخابات میں نیتن یاہو کی جماعت کو سبقت
Photo by Yonatan Sindel/Flash90

مقبوضہ بیت المقدس: (ایجنسیاں)اسرائیل میں منگل کو ہونے والےانتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کو اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پر سبقت حاصل ہے۔ تاہم کوئی واحد جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہی۔ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 30 سے 31 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جب کہ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کی جماعت یش عتید 17 سے 18 پارلیمانی نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

اسرائیل میں حکومت سازی کے لئے 120 نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اگر کوئی جماعت ایوان میں 61 ارکان کی حمایت حاصل نہ کر سکے تو دوبارہ انتخاب ہوتا ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران اسرائیل میں کسی جماعت کی ایوان میں واضح اکثریت نہ ہونے کی بنا پر تین انتخابات ہو چکے ہیں اور منگل کو الیکشن کی یہ چوتھی کڑی تھی۔ اگرچہ منگل کو ہونے والی پولنگ کے حتمی نتائج رواں ہفتے کے آخر تک سامنے آنے ہیں۔

تاہم یہ پیش گوئیاں کی جارہی ہیں کہ نیتن یاہو کی قیادت میں کی جانے والی تیز ترین کووڈ-19 ویکسی نیشن مہم بھی انتخابات میں اْن کی فتح کے لیے کافی ثابت نہ ہوسکی۔ایگزٹ پولز بتاتے ہیں کہ انتخابات میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے لیے اقتدار برقرار رکھنے کے امکانات غیر یقینی کا شکار ہیں اور واضح پارلیمانی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اگر سیاسی جماعتوں میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا تو اسرائیل کو پانچویں الیکشن کی جانب جانا پڑ سکتا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل کے 1948 میں قیام کے بعد سے کبھی بھی کوئی ایک جماعت سادہ اکثریت حاصل کر کے حکومت نہیں بنا سکی ہے اور مختلف جماعتوں کے اتحاد حکومت بناتے رہے ہیں۔

منگل کو ووٹنگ کے بعد اسرائیل یو کے ذرائع ابلاغ بالخصوص تین ٹی وی چینلز نے ابتدائی طور پر یہ بتایا کہ دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی کے نیتن یاہو کو سابق وزیرِ دفاع اور یمینہ پارٹی کے رہنما نفتالی بینت کی ممکنہ حمایت کی بدولت معمولی سبقت حاصل ہے۔ تاہم بعد میں لگائے گئے اندازے ملک میں ایک ڈیڈ لاک کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اور نفتالی بینت کی ممکنہ حمایت کے باوجود پارلیمنٹ نیتن یاہو کے ممکنہ مخالفین اور حامیوں میں برابر تقسیم ہو رہی ہے۔

اسرائیل ایک اورسیاسی تعطل کی جانب گامزن

ابتدائی ایگزٹ پولز کے نتائج کی بنیاد پر نیتن یاہو نے انتخابات میں اپنی لیکوڈ پارٹی کی ’بڑی کامیابی‘ کا دعوی کیا ہے۔ تاہم اسے غالبا ً اکثریت نہیں مل سکے گی اور ملک ایک اور سیاسی تعطل کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔اسرائیل میں دو سال سے بھی کم عرصے میں منگل کے روز ہونے والے چوتھے انتخابات کے بعد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل ابھی غیر واضح ہے۔

اسرائیل کے تین سرکردہ نشریاتی اداروں کے ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکود پارٹی کو پارلیمان میں 31 سے 33 تک سیٹیں ملنے کی توقع ہے۔ دوسری طرف ان کے حریف یائر لییڈ کی جماعت یش اتید کو 16سے 18سیٹوں پر جیت مل سکتی ہے۔ تاہم تازہ ترین ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو حامی اور نیتن یاہو مخالف دونوں کیمپوں کو تقریباً برابر برابر تعداد میں سیٹیں ملنے کی توقع ہے اور دونوں میں سے کسی کو بھی اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔

دونوں گروپ مذہبی قوم پرست رہنما نفتالی بینٹ کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ نفتالی ماضی میں نیتن یاہو کے حلیف رہ چکے ہیں لیکن فی الحال وزیر اعظم کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہیں اور انہوں نے نیتن یاہومخالف گروپ میں شامل ہونے کو مسترد نہیں کیا ہے۔

اس کی وجہ سے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو مخلوط حکومت بنانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔حتمی نتائج اس ہفتے کے اواخر تک متوقع ہیں۔ 120 رکنی پارلیمان میں اکثریت کے لیے کم ا ز کم 61 سیٹوں کی ضرورت ہوگی اور حکومت سازی میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اگر اس کے باوجود تعطل برقرار رہتا ہے اور اتحادی حکومت قائم نہیں ہو پاتی ہے تو اسرائیل میں ایک اور انتخاب ضروری ہوجائے گا اور مسلسل پانچ انتخابات اس بری طرح منقسم ملک کے لیے ایک غیر معمولی بات ہوگی۔

نتن یاہو نے انتخابات کے ابتدائی ایگزٹ پولز کے نتائج کو اپنی جماعت لیکوڈ کے لیے ’بڑی جیت‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے فیس بک اور ٹوئٹر پر اپنے بیانات میں کہا کہ ووٹروں نے میری قیادت میں دائیں بازو اور لیکود پارٹی کو بڑی کامیابی سے ہمکنار کرایا ہے۔تاہم بعد میں اپنی تقریروں میں انہوں کامیابی کے دعوے نہیں دہرائے۔

انہوں نے بظاہر بینٹ سے حمایت حاصل کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہاکہ میں تمام منتخب رہنماؤں سے رجوع کروں گا جو ہمارے اصولوں کو پسند کرتے ہیں۔ میں کسی کو مستثنیٰ نہیں کروں گا۔عرب ملکوں کے ساتھ سفارتی معاہدوں کے بعد نیتن یاہو خود کو ایک عالمی مدبر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے بھی اپنی اکثریتی حکومت قائم کرنے کا دعوی کیا ہے۔

توقع ہے کہ یش ایتید نیتن یاہو کی جماعت لیکود کے بعد دوسرے نمبر پر رہے گی۔سابق ٹی وی اینکر یائر لیپڈ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت نتین یاہو کے پاس (حکومت سازی کے لیے مطلوبہ) 61 سیٹیں نہیں ہیں۔یائر لیپڈ نے مزید کہا کہ انہوں نے پارٹی رہنماوں کے ساتھ صلاح و مشورہ شروع کر دیا ہے اور ہم نتائج کا انتظار کریں گے لیکن ہم اسرائیل میں ایک بہتر حکومت کے قیام کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بینیٹ اپنی ممکنہ سات نشستوں کے ساتھ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے حمایت بھی کر دیں تو بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ دونوں رہنماؤں میں اتحاد قائم ہوجائے۔دونوں رہنما ایک بار قریبی اتحادی تھے اور دونوں ہی سخت گیر اور جارحانہ نظریات کے حامل ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان کے تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔مذہبی قوم پرست بینیٹ نے ایک ریلی میں حامیوں سے کہاکہ آپ نے جو طاقت مجھے دی ہے میں اسے صرف ایک رہنما اصول کے مطابق استعمال کروں گا اور وہ یہ کہ اسرائیل کیلئے کیا اچھا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button