
کراچی: (ایجنسیاں)پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 21 اپریل بدھ کی رات کو یہ دھماکہ ہوٹل سرینا کی پارکنگ میں ہوا جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور بارہ دیگر زخمی ہوگئے۔ مقامی وقت کے مطابق یہ دھماکہ رات کے تقریباً سوا دس بجے ہوا۔پولیس حکام کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک کار میں رکھا ہوا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں ہوٹل کا ایک فرنٹ لائن مینیجر اور ایک مقامی پولیس کانسٹبل بھی شامل ہے۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں بھرتی کیا گیا ہے۔مقامی ٹی وی چینلز نے اس دھماکے کے فوری بعد جو مناظر نشر کیے اس میں پارکنگ میں کاروں کو جلتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔اس حملے کے فوری بعد صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ نے ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا، ”ان دہشتگردی کے واقعات میں خود ہمارے ہی لوگ ملوث ہیں۔
اس حوالے سے اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ اس کی ابتدائی تفتیش جاری ہے اور جیسے ہی اس دھماکے کی مزید تفصیلات سامنے آتی ہیں حکومت اس پر تفصیلی بیان جاری کرے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ وفاقی وزارت داخلہ حکومت بلوچستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔اور ابتدائی تحقیقات کی جارہی ہیں، جوں ہی دھماکے کی نوعیت اور نقصانات کا تعین ہو گا حکومت بیان جاری کرے گی۔اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا جب چینی سفارت کار کوئٹہ کے دورے پر ہیں۔
تاہم صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت چینی سفارت کار ہوٹل میں نہیں بلکہ کوئٹہ کلب میں موجود تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھماکے کے بعد چینی سفیر سے ان کی ملاقات ہوئی جو اچھے موڈ میں تھے۔کوئٹہ میں جس سرینا ہوٹل میں یہ دھماکہ پیش آیا وہ اس شہر کا واحد فائیو اسٹار ہوٹل ہے اور یہاں آنے والے بیشتر بیرونی سیاح اسی میں قیام کرتے ہیں۔ سکیورٹی کے نقطہ نظر سے یہ کافی حساس علاقہ ہے۔
اسی ہوٹل کے سامنے کوئٹہ کی فوجی چھاؤنی ہے جبکہ اس سے متصل ہی صوبہ بلوچستان کی اسمبلی ہے اور پاس میں ہی ریاستی ہائی کورٹ بھی واقع ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلی جام کمال خان سمیت کئی رہنماؤں نے اس دھماکے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھاکہ کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت۔صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شہوانی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ” کوئٹہ کے سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ دھماکے میں چار افراد شہید اور 12 زخمی ہوئے ہیں، اس کے ہر پہلو کی تفتیش جاری ہے۔
مرتکب افراد قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ۔ اللہ تعالی شہدا کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو صحت عطا فرمائے۔ پاکستان کی ممنوعہ شدت پسند تنظیم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس گروپ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بھیجے گئے اپنے ایک پیغام میں کہا، ”یہ ایک خود کش حملہ تھا جس میں ہمارے ایک خود کش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار کا ہوٹل کے اندر استعمال کیا۔
ایک سینیئر پولیس افسر اظہر اکرم کا کہنا تھا کہ تفتیشی حکام یہ بھی پتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کہیں بم کو ہوٹل میں کھڑی گاڑی کے اندر تو نصب نہیں کیا گیا، جبکہ بعض دیگر پولیس حکام کا کہنا تھا کہ جیسے ایک کار ہوٹل کے اندر داخل ہوئی یہ دھماکہ ہو گیا۔



