بین الاقوامی خبریں

منشیات کے باعث اموات: اسکاٹ لینڈ جرمنی سے کیا سیکھ سکتا ہے؟

لندن : (ایجنسیاں) اسکاٹ لینڈ کو منشیات کے باعث ہونے والی انسانی اموات کے لحاظ سے یورپ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے تاہم اس ملک میں انسداد منشیات کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات بہت کم اور مایوس کن ثابت ہوئے ہیں۔اسکاٹ لینڈ کو منشیات کے باعث ہونے والی انسانی اموات کے لحاظ سے یورپ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے تاہم اس ملک میں انسداد منشیات کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات بہت کم اور مایوس کن ثابت ہوئے ہیں۔اسکاٹ لینڈ کے شہری علاقوں میں 1996میں منشیات کا ناجائز استعمال خوفناک حد تک بڑھ چکا تھا۔

اب یہ محض افسانوی بات نہیں رہی اور منشیات کے ناجائز استعمال سے متعلق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسکاٹش قوم ایک ختم نا ہونے والی جنگ لڑ رہی ہے۔گزشتہ سال منشیات سے متعلق معاملات کی وجہ سے 12 سو سے زائد اسکاٹش شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ دراصل نئے اعداد و شمار کا ریکارڈ رکھے جانے کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ تعداد برطانیہ میں منشیات کے سبب ہونے والی کل انسانی اموات سے بھی ساڑھے تین گنا زیادہ بنتی ہے۔

اسکاٹ لینڈ وہ ملک بن گیا ہے، جہاں منشیات کے باعث ہونے والی اموات دیگر یورپی ممالک میں ایسی اموات کی اوسط تعداد سے 15 گنا زیادہ ہیں۔ جرمنی میں منشیات کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح نسبتاً کم ہے تاہم نشہ آور مادوں کے استعمال کا رجحان اسکاٹ لینڈ جیسا ہی ہے۔ ان دونوں ممالک میں اکثر نشہ آور مادے کوکین اور دیگر طاقت ور منشیات سے ملا کر تیار کیے جاتے ہیں۔ اس نشہ آور مادے کے عادی افراد تقریباً ایک ہی عمر کے ہوتے ہیں۔ ایسے شہری پہلی بار 80 اور 90 کی دہائی میں ان منشیات کی لت کا شکار ہوئے تھے۔ تاہم وہ شہری علاقے یا مقامات جہاں ایسی منشیات زیادہ تر استعمال کی جاتی ہیں،

ان کی نوعیت میں اب بنیادی فرق آ چکا ہے۔جرمنی کی تمام 16 وفاقی ریاستوں میں سے ہر ریاست انفرادی طور پر اپنی پالیسی خود وضع کرتی ہے اور یہ پالیسی سازی وفاقی قانون سازوں کے اثر سے آزاد ہو کر کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس لندن حکومت کے اہلکار عوامی صحت سے متعلق اس طرح کی صورت حال کے سبب کسی ایمرجنسی کا اعلان کرنے سے مکمل انکار کر دیتے ہیں اور لندن نے اسکاٹ لینڈ میں منشیات کے ناجائز استعمال کی صورت حال کو یکسر نظر انداز کر دیا۔گزشتہ برس اکتوبر میں قانون سازی سے متعلق یہ تنا زعہ اور بھی شدت اختیار کر گیا جب گلاسیکیائی ڈرگ ایکٹیوسٹ پیٹر کرائیکانٹ عالمی شہ سرخیوں میں نظر آنے لگا۔

اس پر برطانیہ کے 50 سال پرانے منشیات ایکٹ کے تحت الزام عائد کیا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ ایک موبائل ڈرگ کنزمپشن روم یا منشیات کے استعمال کے لیے ایک چلتا پھرتا اڈہ چلا رہا تھا۔ اس بارے میں انگلینڈ کے ایک ڈرگ ایکسپرٹ پروفیسر پیٹر لائڈ کا کہنا ہے کہ میں بہت شدت سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ برطانیہ کے پاس متعدد مواقع تھے، جرمنی جیسے ممالک کی پیروی کرنے کے اور شواہد پر مبنی طریقہ کار اپنا کر منشیات کا انسداد کرنے کے، جنہیں استعمال کر کے یقینی طور پر بہت سی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button