بین الاقوامی خبریں

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ’قرنطینہ فری‘ سفر

ملبورن:(ایجنسیاں)پیر کو اس وقت مسافر فرطِ جذبات سے مغلوب ہوگئے جب انہوں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک سال میں پہلی بار قرنطینہ سے آزاد سفر کے لیے اڑان بھری۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈینیس او ڈونوغیو نے سڈنی ایئرپورٹ پر اپنی پہلی پرواز کی روانگی سے قبل بتایا کہ میں چیخوں گی، چلّاؤں گی، روؤں گی، گلے ملوں گی، خوش ہوں گی، یہ سب جذبات بیک وقت ہوں گے۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے سینکڑوں شہریوں کے لیے گھر جیسا ہے اور کورونا وائرس کی وبا سے پہلے بہت سے مسافروں کا دونوں ممالک میں روزانہ کے حساب سے آنا جانا لگا رہتا تھا۔ او ڈونوغیو نے بتایا کہ اس اقدام سے انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا کچھ حد تک معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔میں واپس جا رہی ہوں، وہ واپس آرہے ہیں، ہم معمول کی طرف واپس آرہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا دن ہے اور خاندانوں اور دوستوں کے لیے انتہائی پرمسرت بھی۔نیوزی لینڈ کی رہائشی لورین ریٹ آ سٹریلیا میں اپنے خاندان کے افراد سے ملنے گئیں، مگر وبا کی وجہ سے پھنس گئیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ دوبارہ سفر کرنا شاندار ہے۔ہم اپنے گھر جانے کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں، ہم 11 دسمبر کو اپنے بچوں کے ساتھ کرسمس منانے کے لیے آسٹریلیا آئے تھے اور فروری میں واپسی کا ارادہ کر رہے تھے۔نیوزی لینڈ کی ایئرلائن ایئر نیوزی لینڈ کے ایگزیکٹیو کریگ سکلنگ کا کہنا ہے کہ ’پرواز کی روانگی سے قبل سڈنی ایئرپورٹ کے مناظر بہت جذباتی اور پْرجوش تھے۔

سڈنی میں جذبات کا رولر کوسٹر تھا۔روئٹرز کے مطابق اگرچہ آسڑیلیا کی ریاستوں نے نیوزی لینڈ کے شہریوں کو گذشتہ سال کے اواخر میں ہی قرنطینہ سے آزاد سفر کرنے کی اجازت دے دی تھی تاہم نیوزی لینڈ نے اپنے پڑوسی ملک سے پہنچنے والے مسافروں پر وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر آئسولیشن کی پابندی عائد کر رکھی تھی۔ ٹی وی چینلز پر ایئرپورٹ پر خاندانوں کے پھر سے ایک دوسرے سے مل جانے کے جذباتی مناظر دکھائے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button