بین الاقوامی خبریں

نائجر میں چینی کانکنوں کے اغواکئے جانے کی اطلاع

لندن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چینی کان کنوں کو مالی اور برکینا فاسو سے ملحق ملک کی سرحد کے نزدیک واقع اسلام پسندوں کے گڑھ کے قریب سے اغوا کرلیا گیا۔نائجر میں یورینیم، سونا اور تیل کی کانکنی کرنے والے چین نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ پورے افریقہ میں پھیلا دیا ہے۔نائجر کے ٹیلاباری خطے کے گورنر تیجانی ابراہیم کاٹیلا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف کو بتایا کہ سنیچر کی دیر رات مسلح افراد نے مالی اور برکینا فاسو سے ملحق ملک کی سرحد وں کے قریب مغربی نائجر میں کان کنی کرنے والی ایک چینی کمپنی کے دو چینی شہریوں کو اغوا کرلیا۔

کاٹیلا نے کہا کہ ان افراد کے پاس سونا تلاش کرنے کا اجازت نامہ تھا۔ اس علاقے میں مسلح گروپوں کی جانب سے حملہ کرنے کی خفیہ اطلاعات ملی تھیں جس سے ان لوگوں کو آگاہ کردیا گیا تھا لیکن انہوں نے گھر جانے سے انکار کردیا تھا۔ یہ علاقہ ساحل ملکوں کے تین سرحدوں کے نام سے معروف ہے۔ یہ شرپسندوں کی سرگرمیوں کا گڑھ ہے اور القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ عسکریت پسند یہاں سے تینوں ممالک (برکینا فاسو، مالی اور نائجر) میں حملے کرتے رہتے ہیں۔

نائجر اپنے جنوبی علاقے میں بوکو حرام کے حملوں کے خطرات سے بھی دو چار ہے۔چین پورے افریقہ میں معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کی بڑے پیمانے پر کان کنی کر رہا ہے۔ اس نے یورینیم، سونا اور تیل کی تلاش کے حوالے سے نائجر کے ساتھ سن 2006 میں ایک معاہدہ کیا تھا۔ آخری مرتبہ سن 2007 میں ایک چینی شہری کے اغوا کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اس وقت چین کی نیوکلیئر انجینئرنگ اور کنسٹرکشن کارپوریشن (سی این ای سی) کے ایک ملازم کو نائجر موومنٹ فار جسٹس (ایم این جے) نامی ایک باغی گروپ نے اغوا کرلیا تھا۔اس وقت ایم این جے نے نائجر کی آرمی کے ساتھ تعاون کرنے والی چینی کمپنیوں سے کہا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک الٹی میٹم ہے۔ کئی دنوں تک چلنے والی بات چیت کے بعد بالآخر اغوا شدہ چینی انجینئر کو رہا کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button