آئی سی سی کے نتین یاہو اورحماس رہنماؤں کیخلاف وارنٹ گرفتاری جاری
بنجمن نیتن یاہو، گیلنٹ اور حماس کے رہنما محمد ضیف کے انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری
دی ہیگ، 22 نومبر (ایجنسیز) بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے ججوں نے جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، ان کے سابق دفاعی سربراہ گیلنٹ اور حماس کے عسکری رہنما محمد ضیف کے مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔جمعرات کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں آئی سی سی کا کہنا تھا کہ وارنٹ میں نیتن یاہو اور یواو گیلنٹ پر بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے جنگی جرم اور غیر انسانی اقدامات، جبر، قتل سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اس میں آٹھ اکتوبر 2023 سے لے کر 20 مئی 2024 کو وارنٹ کی درخواست موصول ہونے تک کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔عدالت نے حماس کے عسکری سربراہ محمد ضیف کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا ہے جس میں انسانیت کے خلاف جرائم بشمول قتل، یرغمال بنانے اور جنسی تشدد کے الزامات شامل ہیں۔یہ الزامات سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے سے متعلق ہیں جس میں 46 امریکی شہریوں سمیت اسرائیل کے 1200 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حماس نے 250 اسرائیلیوں کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔
یہ اقدام 20 مئی کو آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کریم خان کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ حماس کے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملوں اور غزہ میں اسرائیلی فوجی ردعمل سے منسلک مبینہ جرائم کے لیے گرفتاری کے وارنٹ طلب کریں گے۔اس معاملے پر آگے کیا ہو سکتا ہے؟ اور آئی سی سی پراسیکیوٹر کے اقدام سے سفارتی تعلقات اور غزہ پر مرکوز دیگر عدالتی مقدمات کیسے متاثر ہو سکتے ہیں؟ آئیے ان پہلوؤں پر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
آئی سی سی کے تمام 124 رکن ممالک عدالت کے بانی قانون کے تحت پابند ہیں کہ اگر ایسے افراد ان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں جن کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہوں تو وہ ملک ایسے کسی بھی فرد کو گرفتار کر کے عدالت کے حوالے کریں۔تاہم، عدالت کے پاس ایسی گرفتاری کو نافذ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
عدالت کے پاس کوئی پولیس فورس نہیں ہے۔ اس لیے مشتبہ افراد کی گرفتاری رکن ریاست یا کوآپریٹو یعنی تعاون کرنے والی ریاست کے ذریعے عمل میں آنی چاہیے۔آئی سی سی کے ارکان میں یورپی یونین کے تمام ملک، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، برازیل اور آسٹریلیا شامل ہیں۔



