بین ریاستی خبریں

فروغِ اردو کا درخشاں باب: تمل ناڈو ریاستی اردو اکادمی اور نیو کالج چنئی کے درمیان یادداشتِ مفاہمت

علمی بصیرت اور تہذیبی شعور کا اشتراک - اردو تحقیق، تدریس اور تخلیق کے لیے نئی سمتوں کا تعین

چنئی، 17 فروری (ای میل)  : زبانیں صرف ابلاغ کا وسیلہ نہیں ہوتیں، وہ تہذیبوں کی روح اور قوموں کی شناخت بھی ہوتی ہیں۔ جب علمی ادارے اپنے فکری سرمایے کو یکجا کرتے ہیں تو تاریخ میں ایسے نقوش ثبت ہوتے ہیں جو آئندہ نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔ اسی سلسلۂ زرّیں کی ایک نمایاں کڑی اس وقت سامنے آئی جب تمل ناڈو ریاستی اردو اکادمی (محکمۂ تعلیمِ عالیہ، حکومتِ تمل ناڈو) اور شعبۂ اردو نیو کالج چنئی کے مابین یادداشتِ مفاہمت پر دستخط عمل میں آئے۔ یہ پیش رفت اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک سنجیدہ، بامعنی اور دور رس حکمتِ عملی کی مظہر ہے۔ یادداشتِ مفاہمت پر تمل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی کی نمائندگی ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن، نائب صدر(وائس چیئرمین)، نے کی، جب کہ شعبۂ اردو، نیو کالج کی جانب سے ڈاکٹر محمد طیب علی، صدر شعبۂ اردو، نے دستخط ثبت کیے۔ تقریب علمی وقار، فکری متانت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی آئینہ دار تھی، جہاں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اردو کو تعلیمی، تحقیقی اور سماجی سطح پر مزید استحکام عطا کیا جائے گا۔

اس اہم کام میں کالج کی معزز انتظامیہ کی سرپرستی خصوصی طور پر حاصل رہی. خصوصاً جناب امتیاز پاشاہ صاحب، چیئرمین، جناب نظر محمد صاحب، سکریٹری، اور جناب یس ایم اے محمد سلیم صاحب، ٹریژرر کی خاص تعاون کے بغیر یہ کام ممکن نہیں تھا. اس موقع پر نیو کالج چنئی کے پرنسپل ڈاکٹر ایم اسرار شریف، نائب پرنسپل ڈاکٹر اے حیدر علی، ڈاکٹر سید عبد الحمید اور اردو پروفیسر سید شبیر حسین موجود تھے اور نائب پرنسپل ڈاکٹر پی۔ اے۔ عبداللہ محبوب اور IQAC ڈائریکٹر ڈاکٹر انور سادات نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

معزز اساتذہ و طلباء نے اس اشتراک کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اسے اردو کے فروغ کی سمت ایک مؤثر اور نتیجہ خیز قدم بتایا۔ اس تین سالہ اشتراک کے تحت اردو زبان و ادب پر اعلیٰ معیار کے مذاکرے، سیمینار، کانفرنسیں اور ادبی نشستیں منعقد کی جائیں گی۔ ممتاز محققین، اہلِ قلم اور دانشوروں کی شرکت سے طلبہ کو علمی رہنمائی اور فکری بالیدگی کے مواقع میسر آئیں گے۔ تحقیق و تصنیف کی سرپرستی، معیاری کتب و مقالات کی اشاعت، اور تدریسِ اردو کے لیے جدید و مؤثر تربیتی مواد کی تیاری بھی اس معاہدے کے اہم نکات میں شامل ہے۔

اکادمی علمی و انتظامی سرپرستی فراہم کرے گی، جب کہ نیو کالج کا شعبۂ اردو ان سرگرمیوں کے انعقاد، تنظیم اور شفاف انتظام کو یقینی بنائے گا۔ ہر پروگرام کے مالی و انتظامی امور باہمی مشاورت اور واضح اصولوں کے تحت طے کیے جائیں گے تاکہ معیاری نتائج حاصل ہوں۔ علمی و ادبی حلقوں نے اس یادداشتِ مفاہمت کو اردو کے فروغ کی تاریخ میں ایک اہم اور سنگِ میل اقدام قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اشتراک ریاست میں اردو تدریس و تحقیق کو نئی توانائی بخشنے کے ساتھ نئی نسل میں زبان و ادب کے تئیں سنجیدہ شعور کو بھی تقویت دے گا۔ یہ اشتراک اس حقیقت کا روشن اظہار ہے کہ جب ادارے اخلاص، بصیرت اور منظم حکمتِ عملی کے ساتھ متحد ہوتے ہیں تو زبانیں نہ صرف محفوظ رہتی ہیں بلکہ ارتقا کی نئی منزلیں بھی سر کرتی ہیں۔ اردو کی شمع کو فروزاں رکھنے کی یہ مشترکہ کاوش یقیناً آنے والے زمانوں میں ثمر بار ثابت ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button