ایپسٹین تنازعہ: بل گیٹس نے غلطی تسلیم کر لی، فاؤنڈیشن عملے سے معذرت
“میں اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لیتا ہوں...معذرت خواہ ہوں۔”
نیویارک 26 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دنیا کے معروف صنعت کار بل گیٹس نے آنجہانی فائنانسر Jeffrey Epstein سے روابط کے معاملے پر کھل کر مؤقف پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ان سے ملاقات ایک “بہت بڑی غلطی” تھی۔ اس بات کی تصدیق بل اور ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن Bill & Melinda Gates Foundation کے ترجمان نے ادارے کے ایک اندرونی اجلاس کے بعد کی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل The Wall Street Journal کے مطابق بل گیٹس نے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا اور ادارے کے بعض عہدیداران کو ان ملاقاتوں میں شریک کرنا ان کا نادرست فیصلہ تھا۔ محفوظ شدہ گفتگو کے حوالے سے بتایا گیا کہ گیٹس نے کہا، “میں اپنی غلطی کی وجہ سے جن افراد کو اس معاملے میں غیر ضروری طور پر شامل کیا گیا، ان سے معذرت خواہ ہوں۔”
ادھر یونائیٹڈ اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس United States Department of Justice کی جانب سے جاری دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی کہ ایپسٹین کی سزا مکمل ہونے کے بعد بھی ان کی اور گیٹس کی متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں فلاحی سرگرمیوں اور انسان دوست منصوبوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
بل گیٹس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کے دو روسی خواتین کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات تھے جن کی اطلاع بعد میں ایپسٹین کو ہو گئی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان معاملات کا ایپسٹین کے متاثرین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نہ کوئی غیر قانونی اقدام کیا اور نہ کسی ناجائز عمل کا مشاہدہ کیا۔
سرکاری دستاویزات میں چند تصاویر بھی شامل ہیں جن میں گیٹس خواتین کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، البتہ ان خواتین کے چہرے دھندلا دیے گئے ہیں۔ اس بارے میں گیٹس نے وضاحت کی کہ یہ تصاویر ایپسٹین کی درخواست پر ایک ملاقات کے بعد لی گئی تھیں اور انہوں نے کبھی بھی ایپسٹین کے متاثرین کے ساتھ وقت نہیں گزارا۔
فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق یہ اجلاس پہلے سے طے شدہ تھا جس میں مختلف امور پر سوالات اٹھائے گئے، جن میں حالیہ دستاویزات کی اشاعت کے بعد پیدا ہونے والی تشویش بھی شامل تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ بل گیٹس نے تمام سوالات کے جواب دیے اور اپنے فیصلوں کی مکمل ذمہ داری قبول کی۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہی اس معاملے پر باضابطہ مؤقف ہے اور فی الحال اس سے زیادہ کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر اس معاملے پر بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے اور احتساب و شفافیت سے متعلق سوالات زیرِ بحث ہیں۔



