بین الاقوامی خبریں

ترکیہ کا دعویٰ: نیٹو نے ایران سے آنے والا بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا، تہران کی تردید

نیٹو کے فضائی و میزائل دفاعی نظام نے مشرقی بحیرۂ روم کے اوپر تباہ کر دیا۔

استنبول 05 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی سمت سے فائر کیا گیا ایک بیلسٹک میزائل نیٹو کے فضائی و میزائل دفاعی نظام نے مشرقی بحیرۂ روم کے اوپر تباہ کر دیا۔ ترک حکام کے مطابق دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے میزائل کو فضا ہی میں نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا جس کے باعث کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

ترک وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے دفاعی نظام پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ ترکیہ اپنی سرحدوں اور فضائی حدود کے خلاف کسی بھی دشمنانہ اقدام کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے ترکیہ کی جانب میزائل فائر کرنے کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے تہران کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران ترکیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور اس نوعیت کی کسی کارروائی میں ملوث نہیں ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک اپنی سرحدوں اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح انتباہات جاری کیے جا چکے ہیں اور دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کر کے اس معاملے پر انقرہ کا احتجاج ریکارڈ کروایا اور صورتحال پر وضاحت طلب کی۔

ادھر نیٹو نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحاد اپنے تمام رکن ممالک خصوصاً ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ تاہم امریکی وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں نیٹو کے اجتماعی دفاع سے متعلق آرٹیکل 5 کے نفاذ کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ترکیہ میں واقع انجرلک فضائی اڈہ نیٹو اور خصوصاً امریکی افواج کے لیے ایک نہایت اہم عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں عراق اور افغانستان میں ہونے والی امریکی کارروائیوں کے دوران یہ اڈہ لاجسٹک اور فضائی آپریشنز کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے بیانات ایک دوسرے سے متضاد ہیں، تاہم اس واقعے نے مشرقی بحیرۂ روم اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button