ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی کو آبنائے ہرمز کی بحالی سے مشروط کر دیا
"آبنائے ہرمز کھولے بغیر جنگ بندی ممکن نہیں" — ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن 01 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کو ایک بڑی شرط سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمد و رفت کے لیے نہیں کھولا جاتا، اس وقت تک کوئی جنگ بندی نہیں ہوگی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی نئی قیادت نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن پہلے آبنائے ہرمز میں بحری راستے کی بحالی چاہتا ہے، اس کے بعد ہی کسی بھی معاہدے پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں ایران کے صدر کو "نئی حکومت کا صدر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار ہیں۔ ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے اپنی پالیسی نہ بدلی تو امریکہ سخت کارروائی جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دشمنوں کے لیے نہیں کھولی جائے گی۔ ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس اہم بحری راستے پر پابندیاں مزید سخت کی جا سکتی ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں تناؤ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور خلیج میں موجود بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے یا دھمکانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے اپنی جغرافیائی اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر پیش کیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
خلیجی صورتحال کے اثرات پہلے ہی عالمی توانائی مارکیٹ میں نظر آنے لگے ہیں، جہاں تیل بردار جہازوں کے انشورنس اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے اور کئی شپنگ کمپنیاں اپنے راستے تبدیل کر رہی ہیں۔
امریکہ نے اس کے جواب میں خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جس میں بحری بیڑے اور لڑاکا طیارے شامل ہیں تاکہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کی جا سکے اور ایران پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف زمینی جنگ نہیں چاہتے بلکہ فضائی اور بحری کارروائیوں کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے اندر بھی اس جنگی صورتحال نے پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، جہاں پابندیاں اور مہنگائی عوام کے لیے مشکلات بڑھا رہی ہیں، جبکہ حکومت طاقت کے مظاہرے کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔



